ہجرت کا دوسرا سال
آغاز جنگ
بالآخر ۱۷ رمضان المبارک ۲ ہجری کو میدان کارزار گرم ہوا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اول اپنے عبادت کے چھوٹے سے چھپر میں گئے اور رو رو کر جناب الہی میں دعا کی اور عرض کیا کہ
اللھمانتھلکھذہالعصابۃمناھلالایمانالیومفلاتعبدفیالارضابدا’’الٰہی! اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کر دیا‘ تو زمین میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم پرذرا سی دیر کے لیے یکایک غنودگی طاری ہوئی۔۲؎ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا کہ کفار کی فوج کو شکست ہو گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے {سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ}۳؎ (القمر : ۵۴/۴۵ و ۴۶)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دے دیا تھا کہ تم جنگ میں ابتداء نہ کرنا‘ مسلمانوں میں اسی یا اسی سے دو تین زیادہ مہاجر تھے باقی انصار ۴؎ تھے‘ انصار؎۱ میں ۶۱ قبائل اوس کے آدمی تھے‘ ۱۷ خزرج کے‘ طرفین سے صفوف جنگ آراستہ ہوئیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں ایک تیر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے اشارہ سے تسویہ صفوف فرماتے تھے۔
اس کے بعد لشکر کفار سے رسم عرب کے موافق اول عتبہ و شیبہ پسران ربیعہ اور ولید بن عتبہ نکل کر میدان میں آ گئے اور جنگ مبارزت کے لیے للکار کر لشکر اسلام سے اپنے مقابلہ کرنے کے لیے انصار کے تین شخص‘ عوف رضی اللہ عنہ ‘ معوذ رضی اللہ عنہ ‘ پسران عفراء اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نکلے‘ عتبہ نے کہا‘ من انتم (تم کون ہو؟) انہوں نے جواب دیا (رھط من الانصار) ’’ہم انصار یعنی اہل مدینہ میں سے ہیں۔‘‘
عتبہ نے نہایت متکبرانہ انداز اور درشت لہجہ میں کہا مالنا بکم من حاجۃ (ہم کو تم سے لڑنے کی ضرورت نہیں) پھر چلا کر کہا محمد اخرج الینا اکفاء نامن قومنا‘ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے مقابلے کے لیے ہماری ذات برادری کے لوگوں کو (یعنی قریش میں سے مہاجرین کو) بھیجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر حکم دیا کہ عتبہ کے مقابلہ کو حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب اور عتبہ کے بھائی شیبہ کے مقابلے کو عبیدہ بن الحرث اور عتبہ کے بیٹے ولید کے مقابلہ کو علی بن ابی طالب جائیں‘ یہ حکم سنتے ہی بلاتامل تینوں صحابی میدان میں نکلے‘ عتبہ نے ان تینوں کے نام دریافت کئے‘ حالانکہ وہ ان تینوں کو خوب جانتا تھا‘ ان کے نام سن کر کہا کہ ہاں تم سے لڑیں گے‘ مقابلہ شروع ہوا‘ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اورسیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عتبہ اور ولید دونوں باپ بیٹے کو ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ شیبہ اور عبیدہ دونوں نے ایک دوسرے کو زخمی کر دیا‘ سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ زخم بہت کاری لگا جس سے وہ جان بر نہ ہو سکے‘ یہ دیکھ کر سیدنا حمزہ‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر شیبہ کو قتل کر دیا‘ اور عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے‘ ۲؎اس کے بعد کفار کی صفیں حملہ آور ہوئیں‘ ادھر سے مسلمانوں نے حرکت کی اور جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی‘ طرفین سے خوب خوب داد مردانگی دی گئی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار اپنے ستر بہادروں کو قتل‘ اور ستر کو اسیر کرا کر میدان سے بھاگ نکلے‘ جنگ مغلوبہ شروع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک سائبان کے نیچے کھڑے ہوئے معرکہ جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے‘ اور مجاہدین کو مناسب احکام و ہدایات دے رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ بنو ہاشم کے جو لوگ کفار کے ساتھ آئے ہیں وہ اپنی خوشی سے نہیں آئے ہیں بلکہ مجبوراً ان کو آنا پڑا ہے‘ اس لیے ان کے ساتھ رعایت کرنی چاہیے‘ اور عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کو قتل نہیں کرنا چاہیے‘ اسی طرح ابوالنجتری کی نسبت درگذر اور رعایت کا حکم دیا تھا۔
اس حکم کو سن کر ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے بھائی کو قتل کروں اورعباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دوں اگر عباس رضی اللہ عنہ میرے مقابلہ پر آیا تو میں درگذر نہیں کروں گا‘ بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے ان الفاظ پر بہت پشیمان ہوئے اور ندامت کا اظہار کیا۔۱؎
مجذربن زیاد رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ابوالنجتری سے ہوا تو مجذربن زیاد نے کہا کہ ہم کو حکم ہے تم سے نہ لڑیں‘ لہذا تم ہمارے سامنے سے ہٹ جائو‘ ابوالنجتری نے اپنے ایک ساتھی کو بچانے کی کوشش کی جس کو مجذر بن زیاد قتل کرنا چاہتے تھے‘ اس کوشش میں ابوالنجتری مقتول ہوا۔
امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا علی بن امیہ دونوں اپنی جان بچانے کے لیے سراسیمہ پھر رہے تھے‘ امیہ اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان عہد جاہلیت میں دوستی تھی۔ عبدالرحمن بن عوف نے ان کو پریشان دیکھ کر اپنی حفاظت میں لے لیا اور امیہ کا ہاتھ پکڑ کر لے چلے‘ لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فوراً آواز دے کر چند انصار کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور سب نے مل کر امیہ اور علی کو قتل کرنا چاہا‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ہر چند بچانے کی کوشش کی مگر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی ایک بات نہ مانی اور دونوں باپ بیٹوں کو قتل ہی کر کے چھوڑا۔۲؎
ایک صحابی رضی اللہ عنہ عمیر ابن الحمام انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کھجوریں کھاتے ہوئے آئے اور پوچھا کہ اگر میں کفار سے لڑتا ہوا مارا جائوں تو فوراً جنت میں چلا جائوں گا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں‘ وہ اسی وقت اپنے ہاتھ کی بقیہ کھجوریں پھینک کر اور تلوار کھینچ کر دشمنوں پر جا پڑے اور لڑ کر شہید ہوئے۔۳؎
جب لڑائی خوب زور شور سے جاری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مٹی بھر کر خاک اٹھائی اور اس پر کچھ دم کر کے کفار کی طرف پھینک دی‘ اسی وقت کفار کے لشکر نے بھاگنا شروع کیا‘ ایک نوعمر انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن عمرو کا مقابلہ اتفاقاً۴؎ ابوجہل سے ہو گیا‘ ابوجہل خود اور زرہ وغیرہ پہنے ہوئے غرق آہن تھا‘ سیدنا معاذبن عمرو رضی اللہ عنہ نے موقع پا کر اور اس کے پائوں کو زرہ سے خالی دیکھ کر تلوار کا ایک ہاتھ اس کی نصف پنڈلی کے قریب ایسا مارا کہ اس کا پائوں کٹ کر الگ جا پڑا‘ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بن ابوجہل نے باپ کو زخمی دیکھ کرمعاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور تلوار کا ایسا ہاتھ مارا کہ سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ مونڈھے کے قریب سے کٹ کر لٹک گیا‘ صرف ایک تسمہ لگا ہوا باقی رہا‘ سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اسی طرح تمام دن لڑتے رہے‘ لٹکے ہوئے ہاتھ نے جب بہت دق کیا تو اسے پائوں کے نیچے دبا کرزور سے جھٹکا دے کر الگ کر دیا‘ ۱؎اس کے بعد انصار کے ایک دوسرے نو عمر معوذ رضی اللہ عنہ بن
عفراء ابوجہل کے قریب پہنچے اور تلوار کی ایک ایسی ضرب لگائی کہ وہ زخمی ہو کر نیم بسمل ہو گیا‘ ۲؎جب کفار میدان خالی چھوڑ کر مسلمانوں کے سامنے سے بھاگ گئے اور لشکر اسلام کو فتح حاصل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ ابوجہل کی نسبت تحقیق کرو کہ اس کی لاش میدان میں موجود ہے یا نہیں‘ یہ حکم پاتے ہی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مقتولین کی لاشیں دیکھنے کو چلے‘ ابوجہل کو دیکھا کہ نیم مردہ پڑا ہے‘ ۳؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن دیکھ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا‘ ابوجہل نے پوچھا۴؎ لڑائی کا نتیجہ کیا ہوا‘ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو فتح اور کفار کو ہزمیت ہوئی‘ یہ کہہ کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اس کا سر کاٹنے لگے تو اس نے کہا کہ میری گردن مونڈھے سے ملا کر کاٹنا تاکہ میرا سر دوسرے کٹے ہوئے سروں میں بڑا معلوم ہو اوریہ سمجھا جائے کہ سردار کا سر ہے‘۵؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا سر کاٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پائوں میں ڈال دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوجہل کا سر دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا‘ اس لڑائی میں کل چودہ صحابی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جن میں چھ مہاجرین اور آٹھ انصار تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معرکہ جنگ سے فارغ ہو کر مسلمان شہداء کو دفن کیا‘ مشرکین کی لاشوں کو ایک بڑے گڑھے یا کنوئیں میں ڈلوا کر اوپر سے مٹی ڈلوادی‘ صرف امیہ بن خلف کا لاشہ اس لیے کہ پارہ پارہ ہو کراٹھانے کے قابل نہ رہا تھا اور اٹھا کر مشرکوں کے لاشوں کے ساتھ گڑھے میں نہ ڈالا جا سکا‘ لہذا اس کو وہیں مٹی ڈال کر چھپا دیا گیا۔کفار اس سراسیمگی سے بھاگے کہ اپنے سپہ سالار ابوجہل کو بھی نیم مردہ میدان ہی میں چھوڑ گئے۔
حرث بن زمعہ‘ ابوقیس بن الفاکہ‘ علی بن امیہ‘ عاص بن عتبہ یہ سب کے سب نوجوان تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ قیام مکہ کے زمانہ میں محبت اور تعلق رکھتے تھے‘ یا شاید مسلمان ہو گئے تھے‘ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ان لوگوں کے عزیزوں رشتہ داروں اور قبیلہ والوں نے ان کو بہت سختی سے ڈانٹا ڈپٹا اور مرتد ہونے کے لیے کہا‘ انہوں نے علانیہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیزای کا اظہار کیا اور اس لشکر کفار میں شامل ہو کر مسلمانوںسے لڑنے کے لیے آئے‘ یہ سب کے سب مقتول ہوئے‘ مکہ کے بڑے بڑے سردار جو اس لشکر میں آئے تھے قریباً سب کے سب مقتول ہوئے اور منہدم لشکر لے کر مکہ پہنچنے پر گھر گھر صف ماتم بچھ گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام مال غنیمت جو کفار سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا ایک جگہ جمع کر کے عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ (بنو بخار سے تھے) کے سپرد کیا‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی بالائی اور نشیبی بستیوں کی طرف مژدہ فتح سنانے کے لیے روانہ کیا‘ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ میں اپنے نائب بنا کر چھوڑ آئے تھے فرماتے ہیں کہ ہمیں اس فتح کی خوش خبری عین اس وقت پہنچی جب کہ ہم سیدنا رقیہ رضی اللہ عنھا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زوجہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دفن کر رہے تھے‘ ۱؎ یہ خبر مدینہ میں ۱۸ رمضان المبارک کو پہنچی تھی۔
بدر کے میدان جنگ سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے‘ مقام صفراء میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم الہی کے موافق تمام مال غنیمت بحصہ مساوی مسلمانوں میں تقسیم فرمایا اور اسیران جنگ میں سے نضر بن الحارث بن کلاہ (از بنوعبدالدار) کی گردن مارنے کا حکم دیا۔
یہاں سے روانہ ہو کرمقام عرق الظبیہ میں پہنچے‘ یہاں عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن لینہ کی گردن مارنے کا حکم دیا ۲؎…یہ دونوں جو اسیران جنگ بدر میں شامل تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہایت سخت و شدید دشمنی رکھتے اور اپنے عناد میں ابوجہل کے ہمسر تھے‘ نضر بن الحارث کو مقام صفراء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اور عقبہ بن ابی معیط کو مقام عرق الظبیہ میں عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنھم کے ساتھ تیز رفتاری سے روانہ ہو کر اسیروں اور ان کے محافظ دستے کو پیچھے چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک دن بعد قیدی بھی مدینے میں پہنچ گئے۔