مغولان چنگیزی

اولاد چغتائی خان ابن چنگیز خان

چنگیز خان نے ترکستان‘ خراسان بلخ‘ غزنین تا حدود دریائے سندھ کا تمام علاقہ اپنے بیٹے چغتائی خان کو دیا تھا۔ اور امیر قرا چار برلاس کو امیر الامرا بنا کر اس کے ساتھ کیا تھا۔ چنگیز خان کی وفات کے بعد چغتائی خان اپنے بڑے بھائی اوکتائی خان کی اطاعت و فرما نبرداری کا ہمیشہ اقرار کرتا رہا۔ چغتائی خان بہت عقل مند اور بہادر شخص تھا۔ ۶۴۰ھ میں فوت ہوا۔ چغتائی خان کی وفات کے بعد امیر الامرا قرا چار نے چغتائی خان کے پوتے قرابلاکو خان کو تخت نشین کیا۔ یہ خبر سن کر کیوک خان ابن اوکتائی خان نے کہا کہ چغتائی خان کا بیٹا میسو منکو خان جب موجود ہے تو پوتے کو کیوں جانشین بنایا گیا۔ چونکہ قراقورم کا دربار تمام مغلوں پر حکمران تھا۔ لہٰذا کیوک خان کے حکم کے مطابق قراقورم ہلاکو خان کو تخت سے اتار کر میسو منکو خان کو تخت سلطنت پر بٹھایا گیا۔ مگر چند روز کے بعد جب میسو منکو خان فوت ہو گیا۔ تو میر قراچار کی تجویز کے موافق قرا ہلاکو خان دوبارہ تخت نشین ہوا۔ ۶۵۲ھ میں امیر قراچار بھی فوت ہو گیا۔ اس کے چند روز بعد جب قرا بلاکو خان فوت ہوا۔ تو اس کی بیوی درغنہ خاتون کو مغلوں نے تخت پر بٹھایا۔ اس کے بعد الغو خان کو قبیلۂ چغتائیہ کی حکومت سپرد ہوئی۔ مگر ایک سال حکومت کر کے وہ بھی فوت ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مبارک شاہ چغتائی قبیلہ چغتائیہ کا سردار قرار پایا۔ قبیلۂ چغتائیہ حکومت و سلطنت میں تولی خان کی اولاد کے ساتھ شریک رہا۔ ابتداء ان دونوں قبیلوں میں رقابت بھی رہی۔ تولی خان ابن چنگیز خان کی اولاد میں ہلاکو خان کی وجہ سے عظمت و شوکت نے بہت ترقی کر لی تھی۔ اور چغتائی خان کی اولاد اس کے مد مقابل نہ رہی تھی چغتائیوں نے ہرات اور اس کے متعلقہ علاقہ پر ہمیشہ اپنا قبضہ جاری رکھا۔ مگر کبھی وہ ہلاکو خان اور اس کی اولاد کی سیادت کو تسلیم کرتے اور اپنے آپ کو ان کا نائب السلطنت کہتے اور کبھی خود مختاری کا اعلان کرتے تھے۔ ان میں مبارک شاہ کے بعد سلطان غیاث الدین محمد براق خان ابن میسون توان خان ابن مواتو خان مشہور شخص ہوا۔ جس نے اباقاخان کے ساتھ خراسان میں سخت معرکہ کار زارگرم کیا تھا۔ غیاث الدین محمد براق خان کا بیٹا دواخان اور دوا خان کا بیٹا السنیو خان اور السنیو خان کا بیٹا کیک خان بھی خوب طاقتور اور صاحب داعیہ سلاطین تھے۔ دوا خان کے دوسرے بیٹے تیمور خان و ترمہ شیرین خان بھی برسر حکومت و ایامت رہے۔ ترمہ شیرین خان نے قندھار پر حملہ کیا۔ اور ۷۱۶ھ میں امیر حسن سلدوز اور ترمہ شیرین خان کی نواح غزنین میں سخت لڑائی ہوئی۔ جس میں ترمہ شیریں خان کو شکست ہوئی۔ ترمہ شیرین خان نے ہندوستان پر بھی ایک حملہ کیا تھا۔ ترمہ شیرین خان کے بعد اس کا بھائی فولاد خان قبائل چغتائیہ کا سلطان ہوا۔ اس نے ۷۳۵ھ میں وفات پائی۔ فولاد خان کے بعد غازان ابن میسور اغلن بن دوا خان تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد دانش مند اغلن اس کے بعد قلی خان ابن سور غذو ابن براق خان چغتائی بادشاہ ہوا۔ پھر تو غلوق تیمور خان ابن السنیو خان ابن دوا خان تخت نشین ہوا اس کے بعد الیاس خواجہ خان ابن تو غلوق تیمور خان تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد خضر خواجہ خان بن توغلوق تیمور خان تخت نشین ہوا۔ اس کے قبضہ سے خراسان کے تمام نکل گئے تھے۔ لیکن مغولستان کے اکثر حصے پر اس کا قبضہ تھا۔ اسی کے عہد حکومت میں امیر تیمور صاحب قران نے خراسان میں تخت سلطنت پر جلوس کیا اور خضر خواجہ خان اور تیمور صاحب قران کے درمیان بہت سی لڑائیاں ہوئیں۔ آخر خضر خواجہ امیر تیمور کے مقابلہ سے عاجز ہوا اور اپنی بیٹی تغل خانم کی شادی امیر تیمور کے ساتھ کر کے صلح کی۔ اور رشتہ داری قائم کی۔ امیر تیمور کو اسی شادی کے سبب گورکان کہنے لگے۔ یعنی خاندان چنگیزی کے ساتھ امیر تیمور کو رشتہ دامادی حاصل ہوا۔ مغلوں کی زبان میں داماد کو گورکان کہتے تھے۔ خضر خواجہ خان کے بعد اس کا بیٹا محمد خان مغولستان کا بادشاہ ہوا۔ اس کے بعد اس کا بھائی جہاں اغلن ابن خضر خواجہ خان تخت نشین ہوا۔ جہاں اغلن کے بعد شیر محمد خان ابن خضر خواجہ خان بادشاہ ہوا۔ شیر محمد خان بادشاہ مغولستان اور الغ بیگ تیموری بادشاہ خراسان وماوراء النہر کے درمیان سخت جنگ واقع ہوئی۔ جس میں شیر محمد خان کو شکست ہوئی۔ شیر محمد خان کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اویس خان اس کے بعد اس کا بیٹا یونس خان ابن اویس تخت حکومت پر متمکن ہوا۔ یونس خان کے بعد اس کے بیٹے محمود خان و احمد اولجہ خان حاکم مغولستان ہوئے۔ ان دونوں بھائیوں سے ظہیر الدین محمد بابر نے شیبانی خان ازبک کے مقابلہ میں مدد طلب کی۔ انہوں نے بابر کی مدد کی۔ اور میدان جنگ میں لڑتے ہوئے دونوں بھائی اسیر ہو گئے۔ جب شیبانی خان کے سامنے پیش کیے گئے تو اس نے ان دونوں کو رہا کر دیا۔ لیکن یہ فرط غیرت سے آزاد ہوتے ہی خودکشی کر کے مر گئے اور چغتائی خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ان کے بعد بھی منصور خان ابن سلطان احمد اولجہ خان برائے نام مغولستان کا بادشاہ ہوا۔ مگر حقیقتاً مغولستان پر شیبان خان کی حکومت تھی۔ یہاں تک چنگیز خانی مغلوں کی حکومت و سلطنت کے مختصر حالات بیان کر چکے ہیں۔ اس کے بعد تیموری مغلوں کے کارنامے بیان ہونگے مغلوں کی حکومت و سلطنت کے دو حصے یا دو طبقے قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ایک مغولان چنگیزی دوسرے مغولان تیموری‘ ہم اس وقت مغولان چنگیزی کا حال بیان کر چکے ہیں۔ مغولان تیموری کا حال بیان کرنے سے پہلے چند اور ضروری حالات کا بیان کرنا ازبس ضروری ہے۔ تاکہ سلسلہ تاریخ اسلام میں ہم بہت دور آگے نہ نکل جائیں۔ حالات مذکورہ کے ذہن نشین کرنے اور آئندہ حالات کے سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خاندان چنگیزی کا شجرئہ نسب اس جگہ درج کر دیا جائے۔ اوپر جو شجرہ درج ہو چکا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے۔ کہ چنگیز خان اور امیر تیمور کتنی پشتوں کے بعد اوپر جا کر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ اب چنگیز خان کی اولاد کس طرح متفرع ہوئی۔ ذیل کے شجرہ سے ہویدا ہو گا۔