ہجرت کا دوسرا سال
جنگ بدر
قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مکہ سے صحیح سالم تشریف لے آنے کے بعد اپنے آپ کو شکست خوردہ سمجھنے لگے تھے اور ان کی تمام کوششیں ‘ تمام جوش و خروش اور تمام خواہشات مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے صرف ہونے لگیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کو تباہ و قتل کرنے کا اہتمام تمام قریش مکہ کا سب سے زیادہ اہم‘ سب سے زیادہ ضروری اور مقدم کام تھا‘ اس کام کی اہمیت ان کے لیے تمام کاموں اور مشغلوں پر غالب آ گئی تھی‘ اس لیے ان کی آپس کی رقابتیں اور معمولی مخالفتیں بھی سب دور ہو کر ساری قوم اپنی تمام طاقتیں اسی ایک کام پر صرف کر دینے پر آمادہ و مستعد ہو گئی تھیں‘ مکہ اور مدینہ کے درمیان قریباً تین سو میل کا فاصلہ تھا‘ مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لیے خاص اہتمام اور جنگی تیاریوں کی بھی ضرورت تھی‘ راستے کے قبائل اور ملک عرب کی دوسری قوموں کو بھی اس کام کی طرف متوجہ کرنا یا کم از کم اپنا ہمدرد بنا لینا ضروری تھا۔
اس آنے والے خطرے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ذی ہوش سردار اور مآل اندیش سپہ سالار کی حیثیت سے محسوس فرما چکے تھے‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت خود اختیاری اور مدافعت کی اجازت مل چکی تھی ۔۔۔۔۔ دین اسلام کی اشاعت اور دین اسلام میں داخل ہونے والوں کے راستے کی بے جا رکاوٹیں دور کر دینا بھی لازمی امر تھا‘ مسلمانوں کی جمعیت مدینہ منورہ میں تین چار سو مردوں سے زیادہ نہ تھی‘ مسلمان اگرچہ تعداد اور سامان کے اعتبار سے بہت ہی کم اور ضعیف تھے‘ مگر کفار کی شرارتیں اور مظالم دیکھ دیکھ کر ان کی عربی حمیت و شجاعت جوش میں آتی تھی اور وہ بار بار کفار کا مقابلہ کرنے اور شمشیر و تیر سے جواب دینے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت چاہتے تھے۔
اب جب کہ اسلام کی صداقت اور ایمان کی طاقت پورے طور پر ثابت ہو گئی اور مسلمانوں نے روح فرسا مصائب برداشت کر کے دنیا کے سامنے یہ ثبوت بہم پہنچا دیا کہ اسلام کے ساتھ عش و شیفتگی کسی خوف یا لالچ سے تعلق نہیں رکھتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریروں کو سزا دینے اور اپنی حفاظت آپ کرنے کی اجازت آ گئی‘ تاہم واقعات کے تسلسل پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیشہ جنگ پر صلح کو اور انتقام پر درگذر ہی کو ترجیح دی‘ کفار مکہ کے ایک سردار کرز بن جابر نے ایک جماعت کو ہمراہ لے کر اور مکہ سے چل کر مدینہ منورہ کی متصلہ چراگاہ پر چھاپا مارا اور مسلمانوں کے بہت سے اونٹ پکڑ کر چل دیا‘ مسلمانوں کو جب اس چھاپہ کا حال معلوم ہوا تو اس کے تعاقب میں مقام سفوان تک گئے‘ لیکن دشمن نکل چکا تھا مجبوراً لوٹ آئے‘ ۱؎یہ مکہ والوں کی طرف سے نہایت صاف اور کھلی ہوئی دھمکی اور جنگ کا اعلان تھا‘ انہوں نے مدینہ والوں کو یہ بتایا کہ ہم ڈھائی سو میل چل کر تمہارے گھروں میں تمہارے اموال کو لوٹ کر لا سکتے ہیں۔ ادھر دوسری تدبیروں سے بھی وہ غافل نہ تھے۔
انہوں نے ایک طرف عبداللہ بن ابی اور دوسری طرف مدینہ کے یہودیوں سے برابر خط و کتابت جاری کر رکھی تھی اور ان کو اندر ہی اندر مسلمانوں کی مخالفت پر آمادہ کر دیا تھا۔
اسی سال کے ماہ شعبان میں تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا‘ ۲؎اور چند ہی روز کے بعد ماہ شعبان بھی ختم نہ ہوا تھا رمضان کے روزے فرض ہو گئے‘۳؎ شروع رمضان میں یہ خبر مدینہ منورہ میں پہنچی کہ مکہ والوں کا ایک قافلہ شام سے آ رہا ہے اور مدینہ کے اطواف میں ہو کر گذرے گا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ والوں پر ایک قسم کا رعب قائم کرنے اور کرز بن جابر کی حملہ آوری کا جواب دینے کے لیے مہاجرین و انصار کی ایک جماعت لے کر روانہ ہوئے کہ مکہ والوں کے قافلہ کو روکیں‘ تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ مدینہ والوں سے بگاڑ کرنا ان کی تجارت کے لیے حد مضر ہے اور ان کی تجارت ملک شام سے منقطع ہو سکتی ہے‘ یہ جمعیت جنگ کے ارادہ سے روانہ نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا مدعا تخویف و تادیب ہی تھا‘ اس لیے اس کی روانگی میں جنگی احتیاطیں ملحوظ نہیں رکھی گئیں‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ والوں کا قافلہ مسلمانوں کی اس جمعیت کے روانہ ہونے سے فوراً مطلع اور باخبر ہو گیا۔
امیر قافلہ ابوسفیان راستہ سے کترا کر اور بچ کر اپنے قافلہ کو نکال کر لے گیا اور اس نے ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر راستے ہی سے مکہ کی طرف دوڑا دیا کہ ہم کو مسلمانوں کے حملے کا خطرہ ہے ہماری مدد کرو اور اپنے اموال کو بچائو‘ ۴؎اس خبر کے پہنچتے ہی ابوجہل مکہ سے قریباً ایک ہزار جرار فوج جس میںسات سو اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے لے کر بڑے جوش و خروش کے ساتھ مکہ سے نکلا‘ یہ تمام لشکر ہر طرح کیل کانٹے سے درست اور سپاہی سب زرہ پوش تھے‘ گانے والے اور رجز پڑھنے والے بھی ہمراہ تھے‘ عباس بن عبدالمطلب‘ عتبہ بن ربیعہ امیہ بن خلف ‘ نضر بن حارث‘ ابوجہل بن ہشام وغیرہ کل تیرہ آدمی کھانا کھلانے والے تھے‘ ابوسفیان کا قافلہ بہ حفاظت مکہ میں پہنچ گیا‘ مسلمانوں کی جمعیت جو قافلہ والوں کو صرف ڈرانے کے لیے بھیجی گئی تھی واپس مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔
جنگ بدر
ابوسفیان نے ابوجہل کے پاس خبر بھیجی کہ ہم مکہ پہنچ گئے ہیں‘ اب واپس چلے آئو لیکن ابوجہل اپنے لشکر جرار پر مغرور تھا‘ اس کو یہ گوارا نہ ہوا کہ ویسے ہی چلا جائے‘ ابوجہل درحقیقت یہ لشکر صرف قافلہ ہی کی حفاظت کے لیے لے کر نہیں نکلا تھا بلکہ اس سے پیشتر عمروبن حضرمی ایک شخص قریش کا حلیف بعض مسلمانوں کے ہاتھ سے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رجب کے مہینے میں بطن نخلہ کی طرف بعض حالات کی تحقیق کے لیے بھیجا تھا مارا گیا تھا‘ قریش نے عمرو بن حضرمی کے قتل کو بہانہ بنا کرجنگ کی تیاری مکمل کر لی تھی اور وہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہونے ہی والے تھے کہ ضمضم بن عمرو قافلہ والوں کی طرف سے استمداد کے لیے پہنچا اور ابوجہل جو پہلے سے روانگی پر آمادہ تھا روانہ ہو گیا‘ چنانچہ ابوجہل برابر کوچ و مقام مارتا ہوا مدینہ کی طرف بڑھتا ہوا چلا آیا‘ قریش کے لشکر کی روانگی کا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابوجہل ‘ عتبہ‘ شیبہ‘ ولید ‘ حنظلہ‘ عبیدہ‘ عاصی‘ حرث‘ طعیمہ‘ زمعہ‘ عقیل‘ ابوالنجتری مسعود‘ نبیہ‘ منبہ‘ نوفل‘ سائب‘ رفاعہ وغیرہ تمام بڑے بڑے سردار قریش کے اس لشکر میں موجود ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر سن کر ایک مجلس مشورت منعقد کی اور صحابہ رضی اللہ عنہ کرام سے فرمایا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشے اور منتخب لوگ تمہاری طرف بھیجے ہیں‘ ان کا مقابلہ کرنے کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے بعد سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے‘ ان کے بعد سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے نہایت شجاعت و بہادری کے کلمات فرمائے اور کہا کہ ہم ان بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں‘ جنہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ:۔ {فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ} (مائدہ : ۵/۲۴) (تو اور تیرا رب دونوں جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے تماشا دیکھیں گے) … اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لوگو! ان کفار سے لڑائی کے بارے میں تمہارا کیا مشورہ ہے‘ اس دوبارہ فرمانے سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا منشاء یہ تھا کہ انصار کی رائے بھی معلوم ہو‘ کیونکہ مذکورہ ہرسہ حضرات مہاجرین میں سے تھے‘ انصار سے جس بات پر بیعت لی گئی تھی وہ یہ تھی کہ مدینہ پر جب بیرونی دشمن حملہ آور ہو گا تو اس سے لڑیں گے‘ یہ عہد نہیںتھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر کسی سے جنگ کریں گے‘ انصار فوراً اس بات کو سمجھ گئے اور ان میں سے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے‘ اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا روئے سخن شاید ہم لوگوں کی جانب ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ہاں! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے ہیں ‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول یقین کرتے ہیں اور یہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم کفار کے مقابلہ کو جائے اور ہم گھروں میں بیٹھے رہیں‘ یہ کفار تو ہم جیسے آدمی ہی ہیں ہم ان سے کیا ڈریں گے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اگر ہم کو حکم دیں گے کہ سمندر میں کود پڑو تو ہم بلا دریغ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی تعمیل کریں گے۔۱؎