مغولان چنگیزی
ہلاکو خان کی موت
اب برکہ خان سے شکست پانے کے بعد ہلاکو خان نے ایک سردار کو شام کی طرف روانہ کیا کہ وہ فراتاتار کے قبائل کو ہمراہ لے کر آئے تاکہ ان لوگوں کی فوج برکہ خان کے مقابلہ پر روانہ کی جائے۔ وہ سردار ملک شام میں جا کر اور فراتاتار کے لوگوں کو اپنے ہمراہ لے کر ہلاکو خان سے باغی ہو گیا۔ یہ خبر مراغہ میں ہلاکو خان کو پہنچی۔ تو وہ اس قدر غمگین و افسردہ ہوا کہ مرض سکتہ میں مبتلا ہو کر ۶۶۳ھ آخر ماہ ربیع الاول کو فوت ہوا۔ آٹھ سال حکومت کر کے ۴۸ سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اس کا دارالحکومت شہر مراغہ تھا۔ اس نے مراغہ میں نصیر الدین طوسی اور دوسرے حکماء کی مدد سے ایک رصدگاہ بنوائی تھی۔ ہلاکو خان نے اپنے بیٹے اباقا خان کو عراق و خراسان وغیرہ کی حکومت دی تھی۔ آذر بائیجان کی حکومت دوسرے بیٹے کو اور دیاربکر و دیار ربیعہ کا حاکم توران سلدوز کو بنایا اور خواجہ شمس الدین محمد جوینی کو وزارت کے عہدے پر مامور کیا تھا۔ شمس الدین جوینی کے بھائی عطاء الملک علائو الدین کو حاکم بغداد بنایا تھا۔ ہلاکو خان کے فوت ہونے پر اس کی تجہیز و تکفین مغلوں کی رسم کے موافق عجیب طرح سے عمل میں آئی یعنی بجائے قبر کے ایک تہ خانہ تیار کیا گیا۔ اس میں ہلاکو خان کی لاش کو رکھ کر چند نوجوان لڑکیوں کو خوب زیور و لباس سے آراستہ و پیراستہ کر کے خدمت گاری کے لئے اس تہ خانہ میں داخل کیا گیا۔ تاکہ وہ ہلاکو خان کی مونس تنہائی بنیں۔ اس کے بعد تہ خانہ کا منہ نہایت مضبوطی کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ ایک لاش کے ساتھ اس طرح چند بیگناہ زندہ لڑکیوں کا بند کرنا ایک ایسی و حشیانہ رسم ہے۔ جس کے تصور سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ ہلاکو خان کے زمانے میں ہندوستان کے اندر سلطان غیاث الدین بلبن کی حکومت تھی۔ ہلاکو خان ہمیشہ سلطان بلبن کے حالات معلوم کرتا رہتا تھا۔ مگر اس کو کبھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ ہندوستان پر حملہ کرے۔ بعض مغل سردار ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔ مگر ہندوستان کے غلام بادشاہوں کا یہ کارنامہ نہایت عظیم الشان ہے۔ کہ انھوں نے ہر مرتبہ مغلوں کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اور بعد میں یہاں تک بھی نوبت پہنچی کہ مغل دارالسلطنت تک پہنچ گئے۔ مگر ہندوستان میں ان کے قدم ہرگز نہ جم سکے۔ یہ وہ زمانہ تھا۔ کہ تمام عالم اسلام میں بدامنی اور پریشانی پھیلی ہوئی تھی۔ مغلوں کے خروج اور تاخت تاراج کے زمانے میں صرف ہندوستان ہی ایک ملک تھا۔ جہاں ایک زبردست اسلامی سلطنت قائم تھی۔ اور جو مغلوں کی دست برد سے قریباً محفوظ و مامون رہا۔
ہلاکو خان کے وزیر اور مصاحبوں میں خواجہ نصیر الدین طوسی بہت مشہور شخص ہے نصیر الدین طوسی علم ہئیت کا زبردست عالم تھا۔ اسمٰعیلیوں‘ باطنیوں کا تربیت کردہ تھا۔ اس کی ایک مشہور کتاب اخلاق ناصری ہے۔ جو اس نے ناصر الدین بادشاہ الموت کے نام پر معنون کی تھی۔ محیطی بھی اس کی تصنیف ہے جو علم ہئیت کی مشہور کتاب ہے۔