مغولان چنگیزی

کیوک خان کی موت

چند روز کے بعد کیوک خان سمر قند جا کر فوت ہو گیا۔ جس زمانے میں اوکتائی خان زندہ تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی تولی خان جو چنگیز خان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ بھائی کے پاس رہتا۔ اور اس کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ تولی خان کو اوکتائی خان کے ساتھ بہت محبت تھی۔ ایک مرتبہ اوکتائی خان بیمار ہوا تو تولی خان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ کہ الٰہی میرے بھائی کو بچا دے‘ اور اگر اس کی موت کا زمانہ آ گیا ہے تو اس کی جگہ مجھ کو اٹھا لے۔ چنانچہ اسی روز سے اوکتائی خان تندرست اور تولی خان بیمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ اوکتائی خان بالکل تندرست ہو گیا۔ اور تولی خان مر گیا۔ تولی خان کے چار بیٹے تھے۔ منکو خان قویلا خان‘ ارتق بوقا‘ ہلاکو خان‘ ان چاروں بھتیجوں کو اوکتائی خان بہت عزیز رکھتا تھا۔ اس کے بعد کیوک خان بھی اپنے ان چچا زاد بھائیوں کے ساتھ بہت رعایت و مروت مرعی رکھتا تھا۔ کیوک خان کی وفات کے بعد خاندان چنگیزی میں باتو خان ابن جوجی خان بادشاہ قبچاق سب سے زیادہ طاقتور اور دانا سمجھا جاتا تھا۔ سب نے باتو خان کی طرف رجوع کیا کہ اب بتائیے کس کو تخت سلطنت پر بٹھایا جائے۔ باتو خان نے فیصلہ کیا کہ کیوک خان کے بعد اب منکو خان سے زیادہ اور کوئی مستحق سلطنت نہیں ہے۔ اکثر سرداروں نے اس کو پسند کیا۔ لیکن بعض نے اس کی مخالفت کی مگر معمولی زدو خورد کے بعد منکو خان کی حکومت و سلطنت قائم ہو گئی۔