ہجرت کا پہلا سال
پہلی سیاسی دستاویز
ہجرت کے پہلے سال میں جو واقعات رونما ہوئے ان میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعمیر‘ مکان نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعمیر‘ بعض رہے ہوئے مومنوں کا مدینہ آ جانا وغیرہ اوپر مذکور ہو چکے ہیں‘ اسی ذیل میں سیدنا ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی وفات بھی قابل تذکرہ ہے‘ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ پہلے سے بیمار نہ تھے‘ اچانک ان پر کسی مرض کا ایسا حملہ ہوا کہ فوت ہو گئے‘ یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مشرکوں کو یہ کہنے کا موقعہ ملے گا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ اس کے دوستوں میں سے ایک شخص اس طرح اچانک فوت ہو گیا‘ ان کی وفات کے بعد قبیلہ بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیاکہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ ہمارا سردار تھا‘ اب اس کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کا قائم مقام کوئی شخص ہم میں سے سردار مقرر فرما دیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم بنو نجار میرے ماموں ہو اس لیے میں بھی تم میں شامل ہوں اور میں خود تمہارا نقیب (سردار) ہوں۔
بنو نجار یہ سن کر باغ باغ ہو گئے اور یہ اندیشہ بھی دور ہو گیا کہ اگر کسی شخص کو ان میں سے سردار مقرر کیا جاتا تو انہیں میں سے دوسرے اشخاص جن کو اپنی سرداری کی توقع ہوتی اس کے رقیب بن جاتے اور قبیلہ کا باہمی اتفاق چند روز کے لیے کسی قدر کمزور ہو جاتا‘ اس طرح اس قبیلہ کی ہمت اور باہمی اتفاق میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں پہنچ کر سب سے پہلے جس چیز کی طرف خصوصی توجہ اور کوشش صرف فرمائی وہ شہر کا امن و امان اور باشندوں کے تعلقات باہمی کا خوش گوار بنانا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کو جاتے ہی محسوس فرمایا کہ مہاجرین کی جماعت مکہ سے آئی ہے وہ اہل مدینہ کے لیے باعث اذیت اور موجب پیچیدگی نہ ہونے پائے‘ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بھی خیال تھا کہ مہاجرین جنہوں نے دین کی خاطر انتہائی تکلیفیں برداشت کی ہیں اور اپنے گھر‘ وطن‘ عزیز و اقارب‘ مال و زر‘ خاندان و برادری سب کو چھوڑ کر مدینہ میں آپڑے ہیں اور زیادہ پریشان دول شکستہ نہ ہوں‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام انصار و مہاجرین کو ایک جلسہ میں جمع کر کے اخوت اسلامی کا وعظ فرمایا اور مسلمانوں کے اندر مواخات یا بھائی چارگی قائم کر کے مہاجرین و انصار کے تعلقات کو نہایت خوشگوار بنا دیا‘ عموماً ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصار کے درمیان مواخات قائم ہو گئی۔
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دینی بھائی خارجہ بن زبیر رضی اللہ عنہ انصاری بنے‘ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دینی بھائی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ انصاری ہوئے‘ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا بھائی چارہ سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ سے‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا سعد بن الربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے‘ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کا سیدنا سلامہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے ‘ سیدنا عثان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ثابت بن المنذرا انصاری سے رشتہ اخوت قائم ہوا‘ اسی طرح طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور کعب بن مالک میں‘ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ‘ اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ میں‘ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اورحذیفہ بن الیمان میں بھائی چارہ مستحکم ہوا۔
غرض ایک ایک مہاجر کا ایک ایک انصاری سے رشتہ اخوت قائم ہو گیا‘ اس عہد مواخات کو انصار مدینہ نے اس خلوص اور احتیاط کے ساتھ نباھا کہ تاریخ میں کوئی دوسری نظیر تلاش نہیں کی جا سکتی‘ تمام مہاجرین کو انصار نے حقیقی معنوں میں اپنا بھائی سمجھا‘ اور بے دریغ اپنا مال و اسباب ان کے سپردکر دیا۔
بعض انصار نے تو یہاں تک اپنے مہاجر بھائیوں کی دل داری مدنظر رکھی کہ اگر دو بیویاں تھیں تو ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائی سے اس کا نکاح کرنے کو تیار ہو گئے‘ مہاجرین نے بھی اپنا بار اپنے انصار بھائیوں پر نہیں ڈالنا چاہا بلکہ انہوں نے نہایت جفا کشی اور مستعدی کے ساتھ محنت مزدوریاں کیں‘ دوکانداری اور تجارتیں شروع کیں اور اپنی ضروریات زندگی اپنی قوت بازو سے مہیا کرنے لگے اور اپنے انصار بھائیوں کے لیے موجب تقویت بن گئے۔۱؎
ایک قابل تذکرہ واقعہ ہجرت کے پہلے سال کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام باشندگان مدینہ کے درمیان جن میں یہود و مشرکین وغیرہ سب شامل تھے ایک عہد نامہ مرتب فرمایا اور سب نے اس پر بخوشی دستخط کئے‘ اس عہد نامہ میں بہت سی شرطیں تھیں‘ منجملہ ان کے یہ شرط تھی کہ مدینہ میں جب کوئی بیرونی دشمن حملہ کرے گا تو تمام مدینہ والے مل کر اس کی مدافعت اور مقابلہ کریں گے‘ ایک شرط یہ تھی کہ یہود ان مدینہ قریش مکہ یا ان کے حلیفوں کو مسلمانوں کے خلاف پناہ نہ دیں گے‘ اور ایک شرط یہ تھی کہ باشندگان مدینہ میں کوئی شخص کسی دوسرے کے دین و مذہب اور جان ومال سے تعرض نہ کرے گا‘ یہ بھی ایک شرط تھی کہ باشندگان مدینہ میں کوئی دو فریق کسی بات پر آپس میں جھگڑیں اور خود نہ سلجھ سکیں تو اس کا ناطق فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صادر فرمائیں گے جس سے کسی کو انحراف و انکار نہ ہو گا‘ نیز یہ شرائط بھی تھیں کہ جنگ کے مصارف اور فوائد میں تمام باشندگان مدینہ بحصہ مساوی شریک ہوں گے‘ جن قبیلوں یا قوموں سے مدینہ کے یہودیوں کا معاہدہ ہے اور وہ یہود ان مدینہ کے دوست ہیں‘ مسلمان مدینہ بھی ان کو اپنا دوست سمجھیں گے‘ اور دوستوں کی طرح ان کی رعایت کریں گے‘ اسی طرح جو قبیلے مسلمانوں کے دوست ہیں مدینہ کے یہودی بھی ان کے ساتھ دوستانہ سلوک کریں گے‘ مدینہ کے اندر کشت و خون کرنا حرام سمجھا جائے گا‘ مظلوم کی امداد سب پر فرض ہو گی وغیرہ۔۱؎
اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوشش فرمائی کہ مدینہ کے ارد گرد کے علاقوں میں رہنے والے قبیلوںکو بھی اس معاہدہ میں شامل کیا جائے‘ تاکہ بدامنی اور آئے دن کی خون ریزی کا کلی استیصال ہو جائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقام ودان تک جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے اسی غرض کے لیے سفر فرمایا اور قبیلہ بنی ضمرہ بن بکر بن عبدمناف کو اس معاہدہ میں شریک فرما کر ان کے سردار عمروبن مخشی سے دستخط کرائے‘ کوہ بواط کے لوگوں کو بھی شریک معاہدہ کیا۔
ینبوع کی طرف مقام ذی العشیرۃ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے گئے اور بنو مدلج سے بھی اس معاہدہ پر دستخط کرائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی ایسی کوششیں اختیار کیں کہ امن وامان اور رفاہ خلائق کو ترقی ہو اور لوگ دین اسلام کو اچھی طرح اطمینان سے سمجھنے کا موقع پائیں‘ ابھی یہ کوشش شروع ہی تھیں اور مدینہ کے تمام نواحی قبائل پوری طرح شریک معاہدہ نہ ہونے پائے تھے کہ مدینہ کے اندر خفیہ اور مدینہ کے باہر سے علانیہ دشمنوں نے حملے شروع کر دئیے۔