مغولان چنگیزی
خوارزم کے لئے تین بزرگوں کی بددعا
شیخ شہاب الدین سہروردی وہاں سے ناکام واپس ہوئے۔ اور خوارزم شاہ کے لئے بددعا کی کہ الٰہی اس پر ظالموں کو مسلط کر۔ خوارزم شاہ نے فوج لے کر کوچ کیا۔ مگر راستے میں اس قدر برف باری ہوئی کہ فوج کا راستہ بند ہو گیا۔ اور سخت مجبوری کے عالم میں خوارزم شاہ نے چڑھائی کو دوسرے سال پر ملتوی کیا۔ اور راستے ہی سے لوٹ گیا۔ اتفاقاً ایک روز حالت بدمستی میں حکم دیا کہ سیدنا شیخ مجدالدینa کو قتل کر دو۔ چنانچہ وہ شہید کر دئیے گئے۔ اگلے دن جب ہوش میں آیا تو اپنی اس حرکت پر پشیمان ہو کر خوں بہا سیدنا شیخ نجم الدین کبریٰ کی خدمت میں بھیجا انھوں نے کہا کہ شیخ شہید کا خوں بہا تو میرا اور تیرا سر ہے۔ اور ساتھ ہی ہزار ہا مسلمانوں کے سر اس خوں بہا میں کاٹے جائیں گے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ شیخ شہاب الدین سہروردی اور سیدنا شیخ مجد الدین اور نجم الدین کی بددعائوں کا نتیجہ تھا۔ کہ خوارزم شاہ پر آفت نازل ہوئی۔۱؎