مغولان چنگیزی

چنگیز خان!

مغلوں کا حلیہ مورخین نے ان مغلوں کی تصویر جو الفاط میں کھینچی ہے۔ اس طرح ہے کہ یہ لوگ ترکوں سے بہت مشابہ ہیں۔ ان کے چوڑے چکلے سینے‘ کشادہ چہرے‘ چھوٹے سرین اور گندمی رنگ ہیں۔ سریع الحرکت اور تیز ذہین ہیں۔ جب کسی اہم کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنی رائے کو ظاہر نہیں کرتے۔ اور دفعتاً بے خبری کی حالت میں اپنے دشمن پر جا گرتے اور اس کو سنبھلنے کی مہلت نہیں دیتے۔ سینکڑوں حیلے جانتے ہیں۔ اور دشمن کے لیے راہ فرار کو مسدود کر دیتے ہیں۔ ان کی عورتیں بھی مردوں کے ساتھ مل کر لڑتی ہیں۔ اور شمشیر زنی میں کسی طرح مردوں سے کم نہیں ہیں۔ جس چیز کا گوشت ملتا ہے کھا جاتے ہیں۔ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے کوئی شخص جاسوس بن کر ان کے ملک میں نہیں جا سکتا۔ کیونکہ وہ اپنے حلیہ سے فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔ قتل کرنے میں وہ مرد‘ عورت‘ بچے‘ بوڑھے سب کو قتل کر دیتے ہیں۔ گویا قتل عام کا مفہوم انہی کے قتل سے سمجھ میں آتا ہے۔ وہ حملہ آور ہوتے وقت آبادیوں کو بالکل تباہ و برباد کر دینا چاہتے ہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو مال وزر کی طمع نہیں ہے۔ بلکہ ان کا مقصود دنیا کو ویران و تباہ کرنا ہے۔