محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

سفر ہجرت

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے القصوا پر سوار ہو کر روانگی سے پیشتر مکہ کی طرف دیکھا اور حسرت کے ساتھ فرمایا: کہ مکہ! تو مجھے تمام شہروں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے نہیں دیا‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نکالا ہے اب یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے‘ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی‘ {اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ} ۳؎اس جگہ غور کرنے کا مقام ہے کہ اب تک جس قدر مسلمان ہوئے ہیں وہ کن حالات میں اور کس طرح اسلام کی صداقت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے‘ ان کو کیسی کیسی اذیتیں برداشت کرنی پڑی ہیں اور مسلمان ہو کر انہوں نے کیسی روح فرسا اور کوہ شکن مصیبتوں کا مقابلہ کیا ہے‘ کیا مسلمانوں کی نسبت یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ یہ لالچ یا خوف کے ذریعہ مسلمان کئے گئے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں‘ اب اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ زمانہ شروع ہوتا ہے جب کہ شریروں اور کلمہ حق کی اشاعت کو روکنے کے لئے قتل و غارت سے باز نہ آنے والوں کو سزا دینے اور اشاعت حق کی راہ سے رکاوٹ کے دور کرنے کی اجازت مل گئی ہے‘ اب آئندہ بھی غور کرتے جائو اور اس بات کو ذہن نشیں رکھو کہ کس کس طرح لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ مختصر قافلہ رات کے پہلے ہی حصہ میں روانہ ہو گیا اور اگلے دن یکم ربیع الاول ۱۴ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی سہ پہر تک سرگرم سفر رہا‘ سہ پہر کے قریب خیمہ ام معبد پر پہنچے‘ یہ بوڑھی عورت قوم خزاعہ سے تھی اور مسافروں کو پانی وغیرہ پلا دیتی تھی‘ یہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بکری کا دودھ پی کر اور تھوڑی دیر آرام فرما کر پھر روانگی کا حکم دیا‘ یہاں سے تھوڑی ہی دور چلے ہوں گے کہ پیچھے سے سراقہ بن مالک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا تعاقب کرتا ہوا آ پہنچا۔ سراقہ بن مالک بن حعشم ایک مشہور بہادر اور جنگ جو شخص تھا‘ سراقہ کا قصہ اس طرح ہے کہ سراقہ چند شخصوں کے ساتھ اپنے گائوں کی مجلس بیٹھا تھا‘ علی الصبح کسی شخص نے مجمع میں آ کر کہا کہ میں نے تین شتر سواروں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے‘ وہ فلاں سمت کو جا رہے تھے‘ میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے رفقاء تھے۔ سراقہ نے یہ سنتے ہی اس شخص کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کہا کہ میں جانتا ہوں وہ تو فلاں فلاں شخص ہیں مدعا سراقہ کا یہ تھا کہ انہیں میں گرفتار کروں اور کوئی دوسرا شخص ان لوگوں میں سے نہ اٹھ کھڑا ہو ورنہ سو اونٹ کا انعام مجھ کو نہ مل سکے گا‘ تھوڑی دیر بعد سراقہ اٹھا اور اپنے گھر آیا‘ گھوڑا اور ہتھیار چپکے سے شہر کے باہر بھجوا دئیے اور خود بھی لوگوں کی نگاہ سے بچتا ہوا باہر پہنچا‘ مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور اونٹوں کے نقش قدم پر نہایت تیز رفتاری سے روانہ ہوا‘ چند ہی قدم چلنے پایا تھا کہ گھوڑے نے سکندری کھائی اور سراقہ نیچے گر پڑا‘ پھر سوار ہوا اور چل دیا‘ اس کو توقع تھی کہ میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار یا قتل کر کے سو اونٹ انعام میں حاصل کر سکوں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے رفقاء کے اونٹ سامنے نظر آنے لگے تو اس کے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی‘ سراقہ پشت زین سے زمین پر گرا اور اٹھ کر پھر سوار ہوا اور چلا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری کے بالکل قریب پہنچ کر اس کا گھوڑے کے پائوں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور سراقہ پھر زمین پر آ رہا‘ یہ حالت دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوا اور سمجھا کہ میں ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا‘ چنانچہ اس نے خود آواز دے کر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ذرا ٹھہرنے اور ایک بات سن لینے کی درخواست کی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سواری کو روک دیا‘ سراقہ نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کرنے آیا تھا لیکن اب میں واپس جاتا ہوں‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے معافی مانگتا ہوں‘ مجھ کو ایک امان نامہ لکھ دیجئے اور معاف کر دیجئے میں واپسی میں دوسرے لوگوں کو بھی جو میرے پیچھے اسی غرض سے آ رہے ہوں گے واپس لے جائوں گا۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یا ان کے خادم عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ نے اونٹ پر بیٹھے ہی بیٹھے ایک تحریر لکھ کر اس کی طرف ڈال دی‘ اور وہ اس تحریر کو لے کر واپس روانہ ہوا‘ راستہ میں اس کو اور بھی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے تعاقب میں آتے ہوئے ملے‘ وہ سب کو یہ کہہ کر کہ اس طرف کہیں سراغ نہیں ملا واپس لے گیا۔۱؎ سراقہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہو گیا اور اسی تحریر کو اس نے فتح مکہ کے روز اپنے لئے دستاویز امان بنایا۔۲؎ غار ثور یعنی نشیبی مکہ سے روانہ ہو کر عبداللہ بن اریقط آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ساحل سمندر کی جانب لے کر چلا‘ مقام عسفان سے ادھر تھوڑی دور عام راستہ طے کر کے مقام امج کے زیریں جانب مقام قدید تک سفر کرتا رہا‘ پھر شارع عام کو کاٹ کر خرار کے میدان میں قطع مسافت کرتا رہا‘ ثنیتہ المرہ‘ لقف‘ مدلجہ‘ مجاج وغیرہ مقامات میں ہوتا ہوا ذوالغضوین کے علاقہ کو طے کر کے ذی سلم کے صحرا میں ہوتا ہوا العبابید‘ العرج کے مقامات سے گذرا‘ العرج کی نشیبی وادی میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قافلہ کا ایک اونٹ چلتے چلتے تھک گیا‘ وہاں قبیلہ اسلم کے ایک شخص اوس بن حجر سے ایک اونٹ لیا‘ اوس بن حجر نے اپنا ایک غلام بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کر دیا‘ وہاں سے یہ قافلہ ثنیہ العائر کا راستہ طے کرتا ہوا وادی ریم میں پہنچا‘ وادی ریم سے چل کر دوپہر کے وقت قبا کے قریب پہنچ گئے۔۳؎ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ شام کے سفر سے تجارتی قافلہ لئے ہوئے مکہ کو واپس آتے ہوئے راستہ میں ملے‘ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کپڑے یعنی لباس پیش کیا کہ میں بھی مکہ پہنچ کر جلد مدینہ پہنچتا ہوں۔ اس سفر میں جہاں جہاں لوگ ملتے تھے‘ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہچان لیتے تھے کیونکہ تجارت پیشہ ہونے کے سبب اکثر آتے جاتے رہتے تھے‘ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے لوگ واقف نہ تھے‘ اس لئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کو جواب دیتے کہ ھذا یھدینی السبیل(‘یہ میرا رہبر و ہادی طریق ہے) ۱؎