دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
عاضد کی سلطان نورالدین زنگی سے امداد طلبی
اس نے ایک قاصد سلطان نورالدین محمود علیہ الرحمہ کے پاس بھیجا۔ اور درخواست کی کہ عیسائیوں کو جو مصر پر مستولی ہو گئے ہیں۔ خارج کرنے میں مدد کیجیے۔ اور بلا توقف فوجیں بھیجئے۔ شاور کو جب یہ حال معلوم ہوا کہ عاضد نے سلطان نورالدین سے امداد طلب کی ہے تو اس نے عاضد کو سمجھانے اور اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ ترکوں کے مقابلے میں عیسائیوں کا باج گذار بن جانا اچھا ہے۔ مگر عاضد نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ سلطان نورالدین محمود نے اپنے سپہ سالار شیرکوہ کو تیاری کا حکم دیا۔ اور اس کے ساتھ اس کے بھتیجے صلاح الدین اور دوسرے سرداروں کو بھی روانہ کیا۔ چنانچہ اسدالدین شیر کوہ مع لشکرو سرداران فوج مصر کی جانب روانہ ہوا۔ ماہ جمادی الاول ۵۶۴ھ میں قاہرہ کے قریب پہنچا۔ عیسائی لشکر یہ سنتے ہی قاہرہ سے فرار ہوا۔ شیرہ کوہ نے عیسائی لشکر گاہ کو لوٹا۔ اور بادشاہ عاضد کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عاضد نے شیر کوہ کو خلعت عطا کیا اور بڑی عزت کے ساتھ پیش آیا۔ شیر کوہ اور اس کے لشکر کو مہمان رکھا۔ اور ایک روز موقعہ پا کر شیرکوہ سے کہا کہ شاور چونکہ عیسائیوں کا خیر خواہ اور ہمارا دشمن ہے اس کو قتل کر دو۔ چنانچہ شیرکوہ نے اپنے سرداروں کو شاور کے قتل کر دینے کا حکم دیا۔ اور شاور کا سر اتار کر عاضد کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ عاضد نے شیر کوہ کو وزارت کا عہدہ دے کر ’’امیرالجیوش‘‘ اور ’’منصور‘‘ کا خطاب دیا شیرکوہ کا تعلق سلطان نورالدین محمود سے بھی بدستور باقی تھا۔ اور وہ سلطان نورالدین محمود کی اجازت ہی سے مصر میں بطور وزیراعظم کام کرتا تھا۔ چند ہی مہینے کے بعد ۵۶۵ھ میں شیر کوہ کا انتقال ہو گیا۔