محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

سفر کی تیاری

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم مل گیا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم ٹھیک دوپہر کے وقت جب کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں موسم گرما کی دھوپ اور لو سے پناہ لینے کے لئے پوشیدہ ہوتے اور راستے آنے جانے والوں سے خالی ہوتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے‘ چونکہ خلاف معمول دوپہر کے وقت تشریف لے گئے‘ لہذا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو فوراً شبہہ ہوا کہ ضرور ہجرت کا حکم نازل ہو گیا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اول یہ دریافت فرمایا کہ گھر میں کوئی غیر آدمی تو نہیں ہے‘ جب اطمینان ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی دونوں بیٹیوں اسماء رضی اللہ عنھا اور عائشہ رضی اللہ عنھا کے سوا اور کوئی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یثرب (مدینہ) کی طرف ہجرت کا حکم نازل ہو گیا۔ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ رفیق سفر کون ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے رفیق سفر ہو گے‘ یہ سن کر جوش مسرت سے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے‘ انہوں نے فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! میں نے دو اونٹنیاں پہلے ہی سے خرید کر اور خوب کھلا پلا کر موٹی تازی کر رکھی ہیں‘ ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نذر کرتا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں اس اونٹنی کو قیمتاً لوں گا‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قیمت ادا فرمائی اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو وہ قیمت لینی پڑی‘ اسی وقت سے ہجرت کی تیاری شروع ہو گئی‘ سیدنا اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنھا نے ستو کے تھیلے اور کھانے وغیرہ کا سامان درست کیا‘ ۲؎ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر اس وقت چھوٹی تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسی وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دے کر اپنے مکان پر واپس تشریف لے آئے‘ اب جو آنے والی رات تھی اسی رات میں مشرکوں کا ارادہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو گذشتہ شب کی قرار داد کے موافق قتل کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے رات سنسان ہوتے ہی آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور اس انتظار میں رہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم رات کے وقت نماز پڑھنے کے ارادے سے باہر نکلیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر یک لخت حملہ آور ہوں گے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وحی الٰہی کے موافق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا دیا اور اپنی چادر ان پر ڈال دی‘ امانتیں جو اہل مکہ کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھیں وہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سپرد کر کے سمجھا دیا‘ کہ صبح اٹھ کر یہ امانتیں ان کے مالکوں کے پاس پہنچا دینا‘ اس کے بعد تم بھی مدینہ کی طرف آ جانا‘ یہ سب کام کر کے رات کی تاریکی میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم گھر سے نکلے‘ اول آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات {فَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ} پڑھ کر ایک مٹھی خاک پر دم کر کے ان کفار کی طرف پھینک دی اور صاف نکلے ہوئے چلے آئے‘ کفار میں سے کسی کو بھی نظر نہ آئے۔ {وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ}۱؎ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دونوں اونٹنیاں عبداللہ بن اریقط کو جو کافر مگر بھروسہ کا آدمی تھا سپرد کر دی تھیں اور معقول اجرت بھی مدینہ بھر کی رہبری کے لئے ٹھہرا لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مکان سے نکل کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منتظر تھے اسی وقت دونوں روانہ ہو گئے اور مکہ کی نشیبی سمت چار میل کے فاصلہ پر کوہ ثور کے ایک غار میں جو غار ثور کے نام سے مشہور ہے چھپ کر بیٹھے رہے۔۲؎ ادھر مکہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ رات بھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بستر پر استراحت فرماتے رہے‘ کفار مکہ بھی رات بھر مکان کا محاصرہ کئے ہوئے کھڑے رہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بستر پر سوتا ہوا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا گمان کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اٹھ کر باہر تشریف لانے کا انتظار کرتے رہے‘ جب نماز فجر کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ خواب سے بیدار ہو کر اٹھے تو کفار نے پوچھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہاں ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ کو کیا خبر‘ خبر تو تم کو ہونی چاہیے کہ تم پہرے پر تھے میں تو رات بھر سوتا رہا ہوں‘ کفار نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا‘ ان کو مارا اور تھوڑی دیر تک گرفتار رکھا پھر چھوڑ دیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اطمینان سے تمام امانتیں ان کے مالکوں کو پہنچائیں۔ اس جگہ یہ بات خاص طور پر توجہ کے قابل ہے کہ کفار آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کے در پے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دیانت و امانت پر ان کو اس قدر اعتماد تھا کہ اپنی قیمتی چیزیں‘ زیورات‘ چاندی‘ سونا سب آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے پاس امانت رکھ جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ سے رخصت ہوتے وقت بھی اپنی امانت داری کو اس احتیاط سے ملحوظ رکھا کہ اپنے چچا زاد بھائی کو جو بیٹے کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے پاس رہتے تھے صرف اس لئے چھوڑ گئے کہ امانتیں ان کے مالکوں کے پاس بہ احتیاط تمام پہنچ جائیں۔ کفار‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سیدھے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے دروازے پر آواز دی‘ سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ باہر نکلیں‘ ابوجہل نے پوچھا‘ لڑکی تیرا باپ کہا ہے؟ بولیں مجھے خبر نہیں یہ سن کر اس نے اس زور سے طمانچہ مارا کہ ان کے کان کی بالی نیچے گر گئی‘ اسکے بعد کفار تمام مکہ اور اس کے اطراف میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلاش و جستجو میں دوڑے دوڑے پھرنے لگے‘ کہیں کوئی پتہ نہ چلا بالآخر انہوں نے اعلان کیا کہ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو زندہ یا مردہ گرفتار کر کے لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دئیے جائیں گے‘ اس انعامی اشتہار کو سن کر بہت سے لوگ مکہ کے چاروں طرف دور دور تک نکل پڑے۔۱؎ رات کی تاریکی میں دونوں محب و محبوب غار ثور کے قریب پہنچ گئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو باہر چھوڑ کر پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوئے‘ اس کو اندر سے صاف کیا۔ اس کے اندر جہاں جہاں سوراخ تھے ان کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر رکھے‘ اس طرح تمام روزن بند کر کے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اندر لے گئے‘ یہ دونوں آفتاب و ماہتاب کامل تین دن اور تین رات غار میں چھپے رہے‘ قریش کے بڑے بڑے سردار انعامی اشتہار مشتہر کر کے خود بھی سراغ رسانوں کو ہمراہ لے کر نقش قدم کا سراغ لیتے ہوئے غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ ان کے ہمرا ہی سراغ رسانوں نے کہا کہ بس اس سے آگے سراغ نہیں چلتا یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم یہیں کسی جگہ پوشیدہ ہے‘ یا یہاں سے آسمان پر اڑ گیا ہے‘ کسی نے کہا کہ اس غار کے اندر بھی تو جا کر دیکھو‘ دوسرا بولا ایسے تاریک اور خطرناک غار میں انسان داخل نہیں ہو سکتا‘ ہم اسے مدت سے اسی طرح دیکھتے آئے ہیں‘ تیسرا بولا کہ دیکھو اس کے منہ پر مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے‘ اگر کوئی شخص اس کے اندر داخل ہوتا تو یہ جالا سلامت نہیں رہ سکتا تھا‘ چوتھے نے کہا وہ دیکھو کبوتر اڑا ہے اور انڈے نظر آ رہے ہیں جن کو بیٹھا ہوا سہہ رہا تھا اس کے بعد سب کو اطمینان ہو گیا اور کوئی اس غار کی طرف نہ بڑھا۔ یہ کفار غار کے اس قدر قریب پہنچ گئے تھے کہ اندر سے ان کے پائوں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو نظر آ رہے تھے اور ان کی باتیں کرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی‘ ایسی خطرناک حالت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور! کفار تو یہ پہنچ گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ {لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا} (التوبۃ : ۹/۔۴) (مطلق خوف نہ کر اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے) پھر فرمایا:۔ وما ظنک باثنین اللٰہ ثالثھما (تو نے ان دونوں کو کیا سمجھا ہے‘ جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے)