دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

عزیز بن عبیدی!

معز کی وفات کا حال سن کر افتگین نے فوجیں تیار کر کے حدود مصر پر فوج کشی کی اور مقام صیدا کا محاصرہ کر لیا۔ صیدا میں ظالم بن موہوب اور دوسرے عبیدی سردار موجود تھے۔ انھوں نے مقابلہ کیا مگر شکست کھا کر بھاگے۔ افتگین نے بڑھ کر علہ کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد طبریہ پر چڑھائی کی۔ اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد دمشق کی جانب واپس ہو گیا۔ عزیز بن معز بن معز نے اپنے وزیر یعقوب بن مکس کے مشورے کے موافق جوہر کاتب کو زبردست فوج دے کر افتگین کے مقابلہ اور دمشق کے لیے روانہ کیا۔ جوہر نے ماہ ذیقعدہ ۳۶۵ھ میں دمشق کا محاصرہ کر لیا۔ اور طرفین سے لڑائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ افتگین نے طول محاصرہ سے تنگ آ کر اعصم بادشاہ قرامطہ کے پاس مقام احساء میں تمام حالات لکھ کر بھیجے اور امداد کی درخواست کی اس خط کے پہنچتے ہی اعصم مع اپنی فوج کے دمشق کی جانب روانہ ہو گیا۔ اس کے قریب پہنچنے کی خبر سن کر جوہر دمشق سے محاصرہ اٹھا کر چل دیا۔ افتگین اور اعصم نے مل کر جوہر کا تعاقب کیا۔ اور مقام رملہ میں جا کر جوہر کو گھیر لیا۔ جوہر رملہ کو مضبوط نہ پا کر عسقلان چلا گیا۔ افتگین اور اعصم نے عسقلان میں جوہر کا محاصرہ کر لیا۔ جوہر نے سخت عاجز ہو کر افتگین سے خط و کتابت شروع کی اور استدعا کی کہ مجھ کو اس محاصرہ سے نکل کر مصر پہنچ جانے دو۔ میں اپنے بادشاہ عزیز بن معز سے آپ کو کافی صلہ دلوادوں گا۔ افتگین جوہر کو چھوڑ دینے پر آمادہ ہو گیا۔ اس کا حال اعصم کو معلوم ہوا تو افتگین کو نصیحت کی اور کہا کہ جوہر کے دھوکے میں نہ آئو۔ یہ مصر جا کر اور اپنے بادشاہ کو مع زبردست فوج کے لے کر ہمارے کچل ڈالنے کی کوشش کرے گا مگر افتگین نہ مانا۔ اس نے جوہر کو نکل جانے کا موقعہ دے دیا۔ جوہر نے عزیز کے پاس پہنچ کر اس کو آئندہ خطرات سے آگاہ کیا۔ اور حملہ کی ترغیب دی۔ عزیز نے فوجیں آراستہ کر کے فوراً چڑھائی کی۔ اور جوہر کو اپنی فوج کا مقدمۃ الجیش بنایا۔