دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
قرامطہ سے جھڑپیں
معز نے قاہرہ پہنچتے ہی قرامطہ کے بادشاہ اعصم کو جو اس زمانے میں اپنے دارالحکومت احساء میں مقیم تھا۔ ایک خط لکھا۔ اس خط میں لکھا کہ تم لوگ پہلے ہمارے ہی باپ دادا کے مناد بنے ہوئے پھرتے تھے اور ہماری محبت کا دعویٰ کرتے تھے۔ اب مناسب یہی ہے کہ تم ہماری اطاعت و فرماں برداری قبول کرو۔ اور ہمارے مقابلے اور مخالفت کا خیال بالکل ترک کر دو۔ اسی قسم کے مضامین نصیحتوں سے لبریز ایک طولانی خط بھیجا گیا۔ یہ خط جب اعصم کے پاس احساء میں پہنچا تو اس نے اس کے جواب میں معز کو لکھا کہ۔’’تمہارا خط ہمارے پاس پہنچا جس میں نفس مطلب تو کم فضول باتیں زیادہ ہیں ہم تم پر فوج کشی کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔ والسلام‘‘
اعصم نے یہ جواب مصر کی جانب روانہ کر کے فوج کو تیاری کا حکم دیا اور خود فوج لے کر مصر کی طرف روانہ ہوا۔ اور حدود مصر میں داخل ہو کر مقام عین شمس میں قیام کیا۔ یہاں تمام فوجیں قرامطہ کی آ آ کر جمع ہو گئیں۔ حسان بن جراح طائی امیر عرب بھی طے کا بہت بڑا گروہ لے کر اعصم کے پاس پہنچ گیا۔ اعصم و حسان نے باہم مشورہ کر کے اپنی فوج کے دستوں کو ملک مصر کے قصبوں کی تاخت و تاراج کے لیے پھیلا دیا۔ اور اس طرح مصر میں قتل و غارت اور خونریزی کا بازار گرم ہو