محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

مدینہ کی طرف ہجرت کا اذن عام

عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے مظالم نے مسلمانوں کے لئے مکہ کی رہائش غیر ممکن بنا دی تھی‘ جس کا اندازہ کرنے کے لئے ذیل کے واقعات کافی ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مظالم قریش کو حد سے متجاوز دیکھ کر تمام مسلمانوں کو جو مکہ میں موجود تھے اجازت دے دی کہ اپنی جان بچانے کے لئے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں‘ لوگ یہ حکم پاتے ہی اپنے گھروں کو خالی چھوڑ چھوڑ کر عزیزوں رشتہ داروں سے جدا ہو کر مدینہ کی طرف جانے لگے‘ قریش نے جب دیکھا کہ یہ لوگ یہاں سے ترک سکونت کرنے پر آمادہ ہیں اور مدینہ میں جا کر اطمینان و فراغت سے زندگی بسر کریں گے تو ان کو یہ بھی گوارا نہ ہوا‘ ہجرت کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے لگے۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ میرے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا‘ مجھ کو اونٹ پر بٹھایا‘ میری گود میں میرا چھوٹا بچہ سلمہ تھا‘ جب ہم روانہ ہوئے تو میرے قبیلہ کے لوگوں نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو آ کر گھیر لیا اور کہا کہ تو تو جا سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ تو ہماری لڑکی کو لے جائے‘ اتنے میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے قبیلے والے بھی آ گئے‘ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں جاتی تو بچہ ہمارے قبیلہ کا بچہ ہے اسے تم لوگ نہیں لے جا سکتے‘ چنانچہ بنو عبدالاسد تو بچہ کو چھین کے لے گئے اور بنو مغیرہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا کو لے گئے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنھا تنہا مدینہ کو چلے گئے‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے خاوند اور بچہ دونوں جدا ہو گئے‘ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیوی اور بیٹے دونوں کو چھوڑ کر ہجرت کا ثواب حاصل کیا۔۱؎ سیدنا صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب مکہ سے جانے لگے تو ان کا تمام مال و اسباب مکہ والوں نے چھین لیا اور ہزاروں روپے کا مال و زر چھین کر بہ یک بینی و دوگوش مدینہ کی طرف جانے دیا۔۲؎ سیدنا ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا ارادہ کیا‘ مشرکین کو خبر ہو گئی‘ انہوں نے سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر قید کر دیا اور قسم قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔۱؎ سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ جا پہنچے تھے‘ ابوجہل ان کے پیچھے وہیں پہنچا اور دھوکہ دے کر مکہ میں لایا اور یہاں لا کر قید کر دیا۔ غرض اس قسم کی رکاوٹوں کے باوجود ایک ایک دو دو کر کے بہت سے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ میں پہنچ گئے‘ وہاں یہ تمام مہاجرین مدینہ کے مسلمانوں کے مہمان تھے‘ مکہ سے آئے ہوئے ان مہمانوں کا نام مہاجرین اور مدینہ منورہ کے باشندوں یعنی میزبانوں کا نام انصار مشہور ہوا‘ آئندہ اسی نام سے یہ لوگ تعبیر کئے جائیں گے۔ اب سنہ ۱۴ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم شروع ہو گیا تھا‘ مکہ میں صرف آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل و عیال باقی رہ گئے تھے‘ یا چند نہایت ہی کمزور و ضعیف لوگ جو ہجرت کی طاقت نہ رکھتے تھے باقی تھے‘ ورنہ تمام مسلمان مکہ سے ہجرت کر چکے تھے اور مکہ میں بہت سے گھر جن میں مسلمان آباد تھے خالی پڑے ہوئے تھے‘ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ابھی تک ہجرت کا ارادہ نہیں فرمایا تھا‘ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم وحی الہی یعنی اجازت و حکم الٰہی کے منتظر تھے‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ہمراہی کے لئے کہ رفیق سفر ہوں گے روک لیا تھا‘۲؎ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم اور اجازت کی بنا پر رکے ہوئے تھے۔۳؎