دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
ابوعبداللہ کا قتل
عبیداللہ نے حالات کی نزاکت کا اندازہ کر کے اہل کتامہ کے سب سے بڑے سردار عروبہ بن یوسف اور اس کے بھائی حباسہ بن یوسف کو اپنی خلوت خاص میں طلب کر کے نہایت محبت و اخلاص کی باتیں کیں اور حکم دیا کہ ابوعبداللہ اور اس کے بھائی ابوالعباس کو قتل کر دو۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں عروبہ و حباسہ دونوں ابوعبداللہ کے مکان کے باہر باہر ایک جگہ چھپ کر کھڑے ہو گئے۔ جب ابوعبداللہ نکلا تو عروبہ نے حملہ کیا۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ عروبہ تم کس کے حکم سے یہ کام کرتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ جس کی اطاعت کا تم نے ہم کو حکم دیا تھا۔ اسی نے تمھارے قتل کا حکم دیا ہے۔ یہ کہہ کر قبل اس کے کہ ابوعبداللہ کچھ کہے۔ اس کا کام تمام کر دیا۔ اسی طرح ابوالعباس بھی قتل کیا گیا۔ یہ واقع ۱۵ جمادی الآخر ۲۹۸ھ کو وقوع پذیر ہوا۔