محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھتے اور مدینہ (یثرب) کے نواحی علاقہ میں رہتے تھے‘ مدینہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر سوید بن صامت اور ایاس بن معاذ کے ذریعہ پہنچی اور اڑتی ہوئی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی انیس کو جو شاعر بھی تھے تحقیق حال کے لئے مکہ روانہ کیا‘ انیس نے مکہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کی اور مدینہ واپس جا کر سیدنا ابوذر سے ذکر کیا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک ایسا شخص پایا جو نیکی کی ترغیب اور بدی سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس بات سے کچھ تسلی نہ ہو سکی‘ مدینہ سے پیدل چل کر مکہ پہنچے یہاں تک کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں باریاب ہوتے ہی اسلام قبول کیا اور اسی وقت خانہ کعبہ میں آ کر جہاں قریش کا مجمع تھا بلند آواز سے کلمہ توحید پڑھا اور قرآن مجید کی جو آیات یاد کر لی تھیں سنائیں‘ قریش نے کہا کہ اس بے دین کو مارو‘ چنانچہ چاروں طرف سے لوگ پل پڑے اور مارتے مارتے بیہوش کر دیا‘ جان سے مار ڈالے پر آمادہ تھے‘ کہ اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جو ابھی تک کفار ہی میں شامل تھے آ گئے‘ انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ یہ قبیلہ غفار کا آدمی ہے آدمی ہے جہاں سے تم تجارت کے لئے کھجوریں لایا کرتے ہو‘ لوگ یہ سن کر ہٹ گئے‘ یہ ہوش میں آ کر اور اٹھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ گئے‘ اور اگلے دن پھر اسی طرح اعلان کیا‘ قریش نے پھر زدوکوب کی‘ غرض مکہ میں اپنے اسلام کا اعلان کر کے اپنے وطن کو واپس آئے۔۱؎