سلطنت غرناطہ

سلطان محمد غنی باللہ

یوسف کے بعد اس کا بیٹا محمد تخت نشین ہوا۔ اور غنی باللہ کا لقب اختیار کیا۔ تخت نشینی کے چند روز بعد سلطان محمد نے لسان الدین ابن الخطیب کو ابوسالم بن ابوالحسن مرینی شاہ مراکش کے پاس بھیجا کہ اس کو عیسائیوں کے خلاف امداد پر آمادہ کر لے۔ ابو سالم نے فوج بھیج دی اور عیسائیوں سے معمولی لڑائیاں ہوئیں۔ مگر کوئی قابل تذکرہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ حاجب السلطنت رضوان نامی اس بادشاہ کے مزاج میں دخیل ہو کر سیاہ و سفید کا مالک ہو گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطان محمد کے سوتیلے بھائی اسماعیل نے ۲۸ رمضان ۷۶۰ھ کو جب کہ سلطان محمد شہر سے باہر جنت العریف میں مقیم تھا قلعہ غرناطہ پر قبضہ کر لیا۔ ۷۹ رمضان کی صبح کو جب سلطان محمد نے سنا کہ شہر و قلعہ پر اسمٰعیل کا قبضہ ہو چکا ہے۔ تو وہ سیدھا وادی آش کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر فوج کو فراہم کرنے لگا۔ ساتھ ہی اس نے شاہ قسطلہ سے خط و کتابت کر کے اس کو اپنی امداد پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر ابھی اس عیسائی بادشاہ کی طرف سے کوئی تسکین بخش جواب نہیں ملا تھا کہ سلطان ابو سالم بن ابو الحسن مرینی بادشاہ مراکش کی طرف سے ۱۰ ذی الحجہ ۷۷۰ھ کو ابو القاسم ابن شریف بطور سفیر پہنچا اور سلطان محمد سے کہا کہ بادشاہ مراکش کے ساتھ چونکہ آپ کے قدیمی دوستانہ تعلقات ہیں۔ لہٰذا ان تعلقات کی بناء پر ابوسالم خواہش مند ہے کہ آپ اس کے ہاں بطور مہمان تشریف لے چلیں۔ وہ آپ کی ہر قسم کی امداد کرنے پر آمادہ ہے۔ سلطان محمد ۱۱ ذی الحجہ کو وادی آش سے مراکش کی جانب روانہ ہوا۔ اور مراکش پہنچ کر عزت و حرمت کے ساتھ سلطان ابوسالم کا مہمان ہوا۔ ادھر غرناطہ میں سلطان اسماعیل کی حکومت شروع ہو گئی۔