اندلس پر موحدین کی حکومت

ابویوسف منصور

ابو یعقوب کے بعد اس کا بیٹا ابو یوسف منصور تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے وقت منصور کی عمر ۳۲ سال کی تھی۔ یہ ایک عیسائی عورت ساحرہ نامی کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ منصور کے عہد حکومت میں اندلس کے اندر ہر طرح مسلمانوں کو رفاہیت و غلبہ حاصل رہا۔ منصور ہر طرح اپنے باپ سے مشابہہ تھا۔ علماء و فضلاء کا بے حد قدر دان اور کتابوں کا شائق تھا۔ جس طرح ابو یعقوب کبھی اندلس اور کبھی مراکش میں رہا۔ اسی طرح منصور نے بھی اپنی حکومت کا اکثر زمانہ اندلس میں گزارا۔ ۵۴۵ھ میں منصور نے اندلس کے مغربی حصے سے عیسائیوں کے اثر کو بالکل مٹا دیا۔ اور الفانسو ثانی بادشاہ طیطلہ نے منصور کی خدمت میں پانچ سال کے لیے صلح کی درخواست پیش کی۔ منصور نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا۔ کہ عیسائی یورپ کے ہر ایک ملک سے جمع ہو ہو کر شام و فلسطین پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ الفانسو دوم شاہ طیطلہ کو یہ خوف تھا۔ کہ کہیں منصور میرا نام و نشان نہ مٹا دے۔ اس لیے اس نے پنج سالہ صلح کی درخواست منظور کرا کر اپنا اطمینان کیا کہ اس عرصہ میں صلیبی مجاہدین فارغ ہو کر میری مدد پر پہنچ سکیں گے۔ خود اندلس کے عیسائی شام و فلسطین کے صلیبی حملوں میں بکثرت شامل ہوتے تھے۔ منصور کی بحری طاقت بھی چونکہ بہت زبردست تھی اس لیے سلطان صلاح الدین ایوبی نے منصور کے پاس اپنا ایک سفیر عبدالرحمن ابن منقذ نامی جو اعلیٰ درجہ کا شاعر بھی تھا بھیجا۔ اور ایک خط منصور کے نام اس سفیر کے ہاتھ روانہ کیا۔ جس میں لکھا تھا کہ عیسائی فوجیں فلسطین پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ اس وقت اگر اپنے جنگی جہازوں کو مسلمانوں کی امداد کے لیے بھیجو اور ساحل فلسطین کی حفاظت کے کام میں اعانت کرو۔ تو بڑی آسانی سے عیسائیوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اس خط میں سلطان صلاح الدین نے منصور کو امیرالمومنین کے خطاب سے مخاطب نہیں کیا تھا۔ کیونکہ سلطان صلاح الدین صرف خلیفہ بغداد ہی کو امیر المومنین خلیفۃ المسلمین سمجھتے تھے۔ اتنی سی بات پر منصور کبیدہ خاطر ہوا۔ ابن منقذ کی بظاہر خوب خاطر مدارات کی۔ اور ایک قصیدے کے صلہ میں ابن منقد کو چالیس ہزار درہم انعام کے دئیے مگر سلطان صلاح الدین نے جو امداد طلب کی تھی اس کے دینے میں لیت و لعل اور پس و پیش کیا۔ الفانسو ثانی بادشاہ طیطلہ پنج سالہ صلح کے دوران میں مسلمانوں کی حملہ آوری سے تو بالکل مطمئن تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا۔ کہ مسلمان وعدہ کے خلاف کبھی حملہ آور نہیں ہو سکتے اس عرصہ میں اس نے خوب فوجی تیاریاں کیں۔ دوسرے عیسائی سلاطین کو اپنی مدد کے لیے آمادہ کیا۔ اور اپنی اس تیاری کو بھی مثل صلیبی جنگوں کے مذہبی جہاد قرار دے کر بآسانی ہر قسم کی امداد و اعانت عیسائیوں سے حاصل کی۔ مدت صلح کے گذرنے پر ماہ رجب ۵۹۱ھ میں کئی عیسائی سلاطین اور ان کی فوجوں کو ہمراہ لیے ہوئے مقام مالار کو علاقہ بطلیوس میں پہنچا تھا۔ کہ ادھر سے منصور مقابلہ پر پہنچ گیا۔ بڑے زور شور کی لڑائی ہوئی۔ عیسائیوں کے مقابلے میں اسلامی فوج کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی۔ مگر عیسائی اپنی فوج کے ایک لاکھ ۴۶ ہزار آدمیوں کو قتل اور تیس ہزار کو قید کرا کر میدان جنگ سے فرار ہوئے۔ یہ بہت بڑی اور نہایت عظیم الشان فتح تھی‘ جو منصور کو حاصل ہوئی اور اس نے عیسائیوں کی ہمتوں کو بہت کچھ پست کر دیا۔ اس لڑائی میں ڈیڑھ لاکھ خیمے۔ اسی ہزار گھوڑے‘ ایک لاکھ خچر اور چار لاکھ باربر داری کے گدھے اور ساٹھ ہزار مختلف وضع کے زرہ بکتر مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ جس سے بآسانی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ عیسائیوں کی تیاریاں کیسی مکمل اور عظیم الشان تھیں۔ اور منصور کے خلاف الفانسو دوم نے کیسی زبردست طاقت فراہم کی تھی۔ منصور نے یہ تمام مال غنیمت جس میں بہت سازر و جواہر بھی شامل تھا۔ سب اپنی فوج میں سپاہیوں کو تقسیم کر دیا۔ الفانسو دوم اس میدان سے بھاگ کر اپنی بقیہ فوج کے ساتھ قلعہ رباح میں پناہ گزیں ہوا۔ منصور بھی پاشنہ کوب پہنچا اور اس قلعے کا محاصرہ کیا۔ الفانسو یہاں سے بھاگ کر طیطلہ میں آیا اور اس شرم انگیز شکست کے غم و غصہ میں سر وریش کو منڈوا ڈالا۔ اور صلیب کو اٹھا کر قسم کھائی کہ جب تک ان لاکھوں عیسائی مقتولوں کا انتقام نہ لے لوں گا۔ اس وقت تک عیش و آرام کو حرام سمجھوں گا۔ منصور کو جب معلوم ہوا کہ الفانسو نے طیطلہ میں جا کر اس طرح قسم کھائی ہے۔ اور وہ دوبارہ جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو وہ بلا توقف طیطلہ پر حملہ آور ہوا اور شہر کا محاصرہ کر کے قلعہ شکن توپوں سے فصیل و قلعہ کی دیواروں کو چھلنی کر دیا۔ قریب تھا کہ شہر اور الفانسو دونوں منصور کے قبضے میں آ جائیں۔ لیکن اس سقیم حالت میں الفانسو ثانی نے اپنی حمیت و غیرت کا یہ نمونہ دکھایا کہ اپنی ماں اور بیوی اور بیٹیوں کو منصور کے پاس بھیجا۔ یہ عورتیں سر برہنہ روتی ہوئی منصور کے سامنے آئیں اور الفانسو کی ماں نے اپنے بیٹے کے لیے عفو تقصیرات کی درخواست کرتے ہوئے اس قدر آہ و زاری کی کہ منصور اس نظارہ کی تاب نہ لا سکا۔ آنسوئوں کے دریا نے خون کے دریا پر غلبہ حاصل کیا اور قہر و غضب کو صفت رحم سے مغلوب ہونا پڑا۔ منصور نے الفانسو کی ماں اور بیوی اور بیٹیوں کی بہت دل دہی اور تشفی کی ان کو گراں بہا زیورات اور انعام و اکرام سے مالا مال کر کے عزت و حرمت کے ساتھ شہر میں واپس بھیجا۔ اور اسی وقت طیطلہ سے کوچ کر کے قرطبہ میں چلا آیا۔ الفانسو نے منصور کے روانہ ہونے کے بعد اپنے سفیروں کو اقرار اطاعت اور عہد نامہ کی تحریر و تکمیل کے لیے روانہ کیا جو قرطبہ میں حاضر دربار ہوئے۔ منصور کے پاس جو تیس چالیس ہزار عیسائی قیدی تھے۔ ان کو منصور نے مراکش میں بھیج کر آباد کرا دیا۔ اور ان کا ایک الگ قبیلہ قرار دیا گیا۔ منصور نہایت نیک طینت عابد و زاہد اور متبع سنت فرماں روا تھا۔ اس کے حکم سے جہری نمازوں میں امام الحمد سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بالجہر پڑھتے تھے۔۱؎ ابوالولید ابن رشد نے ۵۹۴ھ کے آخری ایّام میں منصور کے عہد حکومت میں مراکش کے اندر وفات پائی ماہ صفر ۵۹۵ھ میں منصور قریباً پندرہ سال کی فرماں روائی کے بعد فوت ہوا۔ اسی سال انگلستان کا بادشاہ رچرڈ فوت ہوا۔