اندلس پر موحدین کی حکومت

ابن تومرت کا دعویٰ مہدویت

چند روز کے بعد ابن تومرت نے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے مریدین کے طبقات مقرر کیے۔ طبقہ اول کے لوگوں کو مہاجرین اور طبقہ دوم کے لوگوں کو مومنین کا خطاب دیا۔ اسی طرح سات یا آٹھ طبقات قائم کیے۔ جب جمعیت بڑھ گئی تو عبدالمومن کو سپہ سالار بنا کر سلطنت مرابطین کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کیں۔ پہلے مقابلہ میں مومنین کی جماعت کو شکست ہوئی۔ مگر بعد میں انھوں نے مخالفت اور زور آزمائی کا سلسلہ برابر جاری رکھا نوبت یہاں تک پہنچی کہ ملک مراکش کے ایک معقول حصے پر ابن تومرت کا قبضہ ہو گیا۔ ابن تومرت نے ۵۱۷ھ سے جنگی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ سات سال کی لڑائیوں کے بعد ۵۲۴ھ میں ابن تومرت نے وفات پائی۔ اور مرنے سے پہلے عبدالمومن کو امیر المومنین کا خطاب دے کر اپنا ولی عہد و جانشین مقرر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ابن تومرت کی حکومت مرابطین کی مد مقابل اور طاقتور بن چکی تھی۔