محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

سوید بن صامت

نبوت کا گیارہواں سال شروع ہو چکا تھا‘ مدینہ کا رہنے والا قبیلہ اوس کا ایک شخص سوید بن صامت مکہ میں آیا جو اپنی قوم میں کامل کے لقب سے مشہور تھا‘ اس کی ملاقات اتفاقاً سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی‘ اس نے کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھی وہی ہے جو میرے پاس ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تیرے پاس کیا ہے‘ اس نے کہا حکمت لقمان‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سنائو‘ اس نے کچھ اشعار پڑھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سن کر فرمایا کہ یہ اچھا کلام ہے لیکن میرے پاس قرآن مجید ہے‘ جو اس سے بہتر و افضل ہے‘ اور ہدایت و نور ہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن مجید اس کو سنایا‘ اس نے قرآن مجید سن کر اقرار کیا کہ واقعی یہ ہدایت اور نور ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ مسلمان ہو گیا بعض میں ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوا‘ مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت بالکل نہیں کی‘ مدینہ میں جا کر وہ ایک لڑائی میں جو اوس و خزرج کے درمیان ہوئی مارا گیا۔۱؎