دیگر متحارب سلاطین
معتمد سے الفانسو کا مطالبہ خراج
معتمد کے پاس بھی الفانسو چہارم کا سفیر ابن شالب نامی یہودی پہنچا‘ اور زر خراج کا مطالبہ کیا‘ معتمد نے اس یہودی سفیر کے پاس بلا توقف زر خراج بھیج دیا‘ سفیر نے یہ روپیہ معتمد کے پاس واپس بھیج دیا اور کہا کہ میں چاندی کے سکے یعنی روپیہ نہ لوں گا‘ بلکہ سونے کے سکے یعنی اشرفیاں وصول کروں گا‘ جب یہ روپیہ اس پیغام کے ساتھ معتمد کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے چند سپاہی بھیج کر سفیر کو اپنے پاس بلوایا اور اس گستاخی کی سزا میں اس کو لکڑی کے ایک تختے پر لٹا کر اس کے ہاتھوں اور پائوں میں لوہے کی میخیں ٹھکوا دیں اور یہودی سفیر ابن شالب نے اپنے آپ کو معرض ہلاکت میں دیکھ کر معتمد سے التجا کی کہ اگر تو مجھ کو چھوڑ دے تو میں اپنے برابر وزن کر کے سونا حاضر خدمت کروں گا‘ مگر معتمد نے اس کو ہلاک کر کے اس کے ہمراہیوں کو قید کر لیا معتمد جانتا تھا کہ اب الفانسو چہارم کے حملہ آور ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا‘ ادھر الفانسو اس خبر کے سننے سے بے حد مشتعل ہوا‘ بظاہر تمام جزیرہ نمائے اندلس پر عیسائیوں کے قابض ہو جانے اور مسلمانوں کی حکومت کے ختم ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی‘ کیونکہ آپس کی خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کو اس قابل نہ رکھا تھا کہ وہ عیسائیوں کا مقابلہ کر سکیں۔