حکومت بنی حمود

عبدالرحمن بن ہشام

جس وقت قاسم قرطبہ سے فرار ہو کر اشبیلیہ کی جانب روانہ ہوا تو قرطبہ میں چند روز تک کوئی حاکم اور سلطان نہ تھا قرطبہ والوں کو یہ فکر تھی کہ کسی اموی کو تخت خلافت پر بٹھائیں۔ آخر تین اموی شہزادے تاج و تخت کے مدعی ہوئے۔ ۱۵ رمضان ۴۱۴ھ کو اہل قرطبہ نے ایک مجمع عام میں ان تینوں شہزادوں میں سے ایک کا انتخاب کیا یعنی عبدالرحمن بن ہشام کو مستظہر کے لقب سے تخت نشین کیا۔ مستظہر نے تخت نشین ہو کر اپنے وزرا کی رائے کے خلاف ابو عمران نامی ایک بربری سردار کو جو قید تھا رہا کر دیا اور اس کو سرداری عطا کی۔ اسی ابو عمران کی سازش و کوشش سے ۳ ذیقعدہ ۴۱۴ھ کو مستظہر مقتول ہوا۔