عبدالرحمن ثالث

حکومت بنی حمود

دولت ادریسیہ کا ذکر اوپر کسی باب میں آ چکا ہے کہ ہارون الرشید عباسی کے عہد خلافت میں ادریس کی مراکش میں خود مختار سلطنت قائم ہو گئی تھی۔ یہ حکومت ادریسیہ بھی اب مراکش سے زائل ہو چکی تھی۔ منصور اعظم یا ابن ابی عامر کے عہد وزارت و حکومت میں مراکش سے جو بربری لوگ اندلس میں آئے ان کے ہمراہ خاندان ادریسیہ کے دو شخص جو دونوں حقیقی بھائی تھے۔ آئے۔ ان دونوں کے نام علی اور قاسم تھے۔ یہ دونوں حمود بن میمون بن احمد بن علی بن عبیداللہ بن عمر بن ادریس کے بیٹے تھے‘ علی بن حمود اور قاسم بن حمود منصور اعظم کی فوج میں نوکر ہو گئے۔ انھوں نے ان لڑائیوں میں جو عیسائیوں کے ساتھ منصور بن ابی عامر کی ہوئیں خوب بہادری دکھائی اور اپنی قابلیت کا اظہار کیا۔ ابن ابی عامر نے خوش ہو کر ان دونوں کو فوجی افسری عطا کی۔ یہ دونوں بربری فوجوں کے اعلیٰ افسر تھے اور بربری لوگ بھی ان کی افسری سے خوش تھے۔ کیونکہ ان کا خاندان ایک عرصہ تک مراکش میں برسر حکومت رہ چکا تھا۔ یہی دونوں بھائی تھے جنہوں نے بربری فوج کو لے کر خاندان ابن ابی عامر کی بیخ کنی کی اور انہیں دونوں نے مستعین اموی کو خلیفہ بنایا مستعین نے قرطبہ میں تخت خلافت پر جلوس کرنے کے بعد علی بن حمود کو طنجہ اور دیگر صوبجات افریقہ کا والی مقرر کر دیا۔