عبدالرحمن ثالث
سلیمان بن حکم کی خلافت
ان دونوں کے مقتول ہونے کی خبر سن کر ایک اموی شہزادہ سلیمان بن حکم اپنی جان بچا کر قرطبہ سے بھاگا۔ قرطبہ سے باہر بربری لوگ جمع ہو رہے تھے اور اس فکر میں تھے کہ اب کس کو تخت خلافت کے لیے منتخب کیا جائے۔ سلیمان بن حکم کو آتا ہوا دیکھ کر سب خوش ہو گئے۔ اور اس کو خلیفہ بنا کر ’’مستعین باللہ‘‘ کا خطاب دیا اور قرطبہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دی سلیمان بن حکم نے کہا کہ ہماری طاقت ابھی اس قابل نہیں ہے کہ قرطبہ کو فتح کر سکیں۔ مناسب یہ ہے کہ طاقت کو اول بڑھایا جائے یہ سوچ کر سلیمان بن حکم المخاطب بہ مستعین باللہ بربریوں کو لیے ہوئے طیطلہ پہنچا اور احمد بن نصیب کو اپنا وزیر اعظم بنایا اس کے بعد مستعین نے مدینہ سالم کے حاکم واضح عامری سے خط و کتابت کر کے اس کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہا۔ لیکن واضح عامری اس سے پیشتر خلیفہ مہدی کی بیعت کر چکا تھا لہٰذا اس نے صاف انکار کیا۔