عبدالرحمن ثالث

تخت نشینی

اس کے بعد خلیفہ ہشام کی رسم تخت نشینی ادا ہوئی۔ فائق و جوذر کو جو اپنے منصوبے میں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے اس کے بعد نو عمر خلیفہ کے خلاف لوگوں میں ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کی اور مغیرہ کے بے گناہ مارے جانے کی طرف توجہ دلائی اس سے ایک عجیب قسم کی برہمی اور ناراضگی لوگوں میں پیدا ہوئی اور چند ہی روز کے بعد دارلسلطنت قرطبہ میں خبر پہنچی کہ شمالی سرحد کے عیسائی باج گزار حکمرانوں نے اسلامی علاقے میں لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا ہے۔ اور نو عمر خلیفہ کے تخت نشین ہونے سے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان حالات میں وزیر اعظم جعفر نے اپنی قابلیت کا کوئی بہترین نمونہ نہیں دکھایا اور آپس کی مخالفتوں اور رقابتوں نے بھی اس کو بد حواس اور مجبور سا کر دیا۔