عبدالرحمن ثالث

حکم کی تصنیف

فن تاریخ سے اس خلیفہ کو بہت شوق تھا۔ اندلس کی ایک تاریخ اس خلیفہ نے خود لکھی تھی۔ مگر وہ زمانہ کی دست برد سے ضائع ہو گئی۔ روئے زمین کے علماء خواہ وہ کسی قوم اور کسی مذہب اور کسی علم و فن سے تعلق رکھتے ہوں قرطبہ کی طرف کھنچ کھنچ کر چلے آئے تھے۔ غرض کہ خلیفہ حکم کے زمانے میں قرطبہ تمام علوم و فنون کا ایک ہی لانظیر مرکز تھا۔