عبدالرحمن ثالث

نظم و نسق کا جائزہ

اس کے بعد خلیفہ حکم نے سلطنت کے تمام صیغوں اور محکموں کا جائزہ خصوصی توجہ کے ساتھ لیا۔ ہر ایک وزیر کے دفتر کا معائنہ کیا۔ فوج کے رجسٹروں کو جانچا اور افواج شاہی کی موجودات لی۔ غرض نہایت احتیاط کے ساتھ سلطنت کی جزئیات تک سے اپنے آپ کو واقف و آگاہ بنایا۔ حالانکہ وہ پہلے سے بھی سلطنت کے کاموں سے ناآشنا نہ تھا۔ اور ہر صیغہ کی نگرانی کر چکا تھا۔ اپنے علم و واقفیت کی تجدید کر لینے کے بعد اس نے ہر ایک اہل کار کے پاس اس کے مامور و مستقل ہونے کے پروانے روانہ کئے۔ گویا ہر ایک اہل کار کو اس نئے خلیفہ نے از سر نو اس کی خدمت پر مامور کیا۔ اس طرز عمل سے نئے خلیفہ کی بیدار مغزی اور مستعدی کا سکہ دلوں پر بیٹھ گیا۔