عبدالرحمن ثالث
بحری و بری قوت میں اضافہ
۳۲۸ھ سے بحیثیت مجموعی خلیفہ ناصر کے لیے اطمینان و فراغت کا زمانہ شروع ہوا۔ کوئی پریشان کرنے والی بات بظاہر باقی نہ تھی۔ اسی فرصت میں خلیفہ ناصرلدین اللہ یعنی عبدالرحمن ثالث نے بحری قوت کے بڑھانے اور ساتھ ہی بری فوجوں کے باترتیب بنانے کی طرف توجہ کی۔ بہت سے جنگی جہاز بنوائے گئے۔ اور اندلس کا بیڑا اس زمانے کے تمام جنگی بیڑوں سے طاقتور ہو گیا۔ بحر روم پر خلیفہ ناصر کی سیادت مسلم ہو گئی۔ خلیفہ نے قدیمی شاہی محل کے متصل ایک عظیم الشان قصر دار الروضہ کے نام سے تعمیر کرایا۔ مسجد قرطبہ کی زیب و زینت اور وسعت میں اضافہ کیا گیا۔ علمی مجالس اور مذاکرات علمیہ کا سلسلہ جاری ہوا۔ تجارتوں میں سہولتیں پیدا ہوئیں۔ اوراندلس کے تاجر دور و دراز مقامات تک مال تجارت لے کر پہنچنے لگے۔