عبدالرحمن ثالث
مراکش پر قبضہ
اسی فرصت میں جنوب کی جانب سے یہ خوشخبری پہنچی کہ عبیدیین جو مراکش کے خاندان ادریسیہ کو مٹا کر تمام ملک مراکش پر قابض و متصرف ہونا چاہتے ہیں ان کے مقابلے سے تنگ آ کر ابراہیم بن محمد ادریسی بجائے اس کے کہ عبیدیین کی فرماں برداری و اطاعت قبول کرے۔ سلطان عبدالرحمن ثالث کی اطاعت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اب تک دربار قرطبہ اور حکومت مراکش کے تعلقات دوستانہ و ہمسرانہ تھے۔ سلطان عبدالرحمن نے اس کو تائید غیبی سمجھ کر فوراً اپنی فوج جہازوں میں سوار کرا کر ساحل مراکش میں اتار دی‘ مراکش ان دنوں کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔ مراکش کے ہر ایک رئیس نے سلطان عبدالرحمن کی سیادت کو قبول و تسلیم کر کے اپنے اپنے ایلچی مع تحف وہدا یا قرطبہ میں بھیجے اور بعض رئوساء خود ہی حاضر قرطبہ ہو گئے۔ عبدالرحمن کی فوجوں نے عبیدیین کی فوجوں کو مار کر بھگا دیا۔ اور اپنی طرف سے سند امارت دے کر وہاں کے رئیسوں کو مامور کیا۔ اس طرح ملک مراکش بھی دربار قرطبہ کا ایک صوبہ بن گیا۔ جس زمانے میں سلطان عبدالرحمن مراکش کی جانب متوجہ تھا۔ اس زمانے میں شمالی عیسائیوں کی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنے خانگی جھگڑوں میں مبتلا تھے۔ عبیدیین کا خطرہ بالکل جاتا رہا۔ کیونکہ ملک مراکش اب سلطان عبدالرحمن کے قبضے میں آ گیا۔ اور اندلس کا ملک بہت محفوظ ہو گیا۔