عبدالرحمن ثالث
دو حریف طاقتیں
اب صرف دو زبردست اور رقیب طاقتیں باقی رہ گئیں جو نسبتاً قرطبہ سے قریب اور موجب خطر تھیں۔ ایک عمر بن حفصون جو مالقہ ریہ‘ بشتر وغیرہ پر قابض و متصرف تھا اور عبیدیین سے ساز باز کر کے قرطبہ کی سلطنت کو درہم برہم کرنا چاہتا تھا عمر بن حفصون اس لیے بھی زیادہ خطرناک تھا‘ کہ اس کو ایک طرف عبیدیین اور دوسری طرف شمالی عیسائی بادشاہوں سے مدد پہنچ سکتی تھی۔ عبیدیین قدرتی طور پر بنو امیہ کے دشمن تھے جس طرح کہ وہ بنو عباس کے بھی دشمن تھے۔ اور عیسائی اس لیے اس کو محبوب تھے کہ وہ مرتد ہو کر پھر عیسائی بن گیا تھا۔
دوسری طاقت ریاست اشبیلیہ کی تھی۔ جہاں عربوں کی حکومت تھی اور شان و شکوہ میں اشبیلیہ کا دربار قرطبہ کے دربار سے فائق نظر آتا تھا۔ عبدالرحمن نے سب سے پہلے اشبیلیہ کے دربار سے فرماں برداری و اطاعت کا اقرار لینا اور شرائط اطاعت کا ادا کرانا چاہا۔ اشبیلیہ کا حاکم ابراہیم بن حجاج فوت ہو کر اس کی جگہ حجاج بن مسلمہ تخت نشین ہو چکا تھا۔ اشبیلیہ کے بہت سے سرداروں نے سلطان عبدالرحمن ثالث کے ساتھ اظہار عقیدت کیا اور دربار اشبیلیہ نے بھی اس موقعہ پر خرخشہ پیدا کرنا مناسب نہ سمجھا۔