مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین انتہائی خونریز جنگ
مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین انتہائی خونریز جنگ
۱۰۵۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین انتہائی خونریز جنگ
۱۰۶۔قسطنطنیہ کی فتح
مسلمانوں اور عیسائیوں کی تاریخ آپس میں کشمکش اور ٹکراؤ سے بھری پڑی ہے۔ اس میں جنگیں بھی ہوئیں ،صلح بھی ، قتال بھی ہوتا رہا اور امن بھی قائم ہوتا رہا۔ آج کل بھی مسلمانوں کے حالات رومیوں کے ساتھ صحیح ڈگر پر نہیں ہیں بلکہ جنگ اور امن کے مابین ایک اضطرابی کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ :مسلمانوں اور رومیوں کے مابین ایک بہت بڑی جنگ ہوگی۔ یہ جنگ امام مہدی کے ظہور سے کچھ پہلے ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ کو بڑی خون ریز جنگ کا نام دیا ہے۔ وہ اس طرح بھی کہ اس جنگ میں مسلمانوں کوفتح نصیب ہوگی۔ پھر وہ قسطنطنیہ فتح کرنے کے لیے متوجہ ہوں گے اور اسے فتح کریں گے، پھر دجال ظاہر ہوگا۔
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی تخریب کا سبب ہے۔مدینہ کی تخریب کاری بڑی جنگ کا سبب ہے اور جنگ وجدال قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہے۔ اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا سبب ہے ۔‘‘ (ابو داؤد )
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
’’تم لوگ عنقریب اہل روم معاہدہ صلح کرو گے امن کا۔ پھر تم اور وہ مل کر اپنے پیچھے سے آنے والے دشمن سے جنگ کروگے۔ پس تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں مال غنیمت ملے گا؛ اور تم سلامتی کے ساتھ واپس لوٹ آ گے یہاں تک کہ تم ٹیلے والی چراگاہ میں اترو گے تو ایک نصرانی شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا کہ صلیب غالب آگئی تو مسلمانوں میں سے ایک شخص غضبناک ہو کر اسے مارے گا اس وقت غداری کریں گے اہل روم اور جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
ایک روایت میں ہے : ’’پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف دوڑیں گے اور لڑائی کریں گے تو اللہ تعالیٰ شہادت عطا فرما کر بزرگی اور عزت دے گا۔‘‘ (ابو داؤد )
صحیح مسلم میں اس کی تفصیل:
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں (یہ جگہ شام کے شہر حلب کے قریب ہے؛ یہیں پر خون ریز جنگ ہوگی) ان کی طرف ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا ؛ اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے۔ جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ: تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو؛ جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے۔ (یہ جملہ مسلمانوں اور رومیوں کے مابین ان سابقہ جنگوں کے پیش آنے پرجن میں مسلمانوں کو عیسائیوں پر فتح ہوگی، وہ ان کے لوگوں کو قیدی بنائیں گیاور وہ قیدی اسلام قبول کرکے جہاد کرتے ہوئے میدان میں آئیں گے)
مسلمان کہیں گے : نہیں ؛اللہ کی قسم !ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو۔
بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے؛ بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے ؛جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا۔ اور ایک تہائی قتل کیے جائیں گے؛ جو اللہ کے نزدیک افضل الشہدا ء ہوں گے۔ اور ایک تہائی فتح حاصل کرلیں گے۔ انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا۔ پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی ؛ تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا : تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے۔
وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکن یہ خبر باطل ہوگی۔ جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا۔‘‘
ایک روایت میں ہے: ’’اسی دوران کہ وہ دجال سے قتال کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے؛ اس سے پہلے وہ اہل روم سے جنگ کرچکے ہوں گے۔ ابھی انہوں نے مال غنیمت تقسیم بھی نہیں کیا ہوگا۔ وہ اپنی صفیں درست کر رہے ہوں گے، اقامت کہی جائے گی، اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
اس جنگ کی کچھ تفصیل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی۔ پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ’’ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے جمع ہوں گے؛ اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لیے جمع ہو جائیں گے۔‘‘
میں نے کہا: آپ کی مراد رومی ہیں ؟ انہوں نے کہا :ہاں ۔
اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی ؛اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے۔ پھر وہ خوب جہاد کریں گے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہو جائے گا۔ پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے ؛اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا ،اور جو لشکر لڑائی کے لیے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہو جائے گا۔مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے۔ پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہو جائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا۔ اور جو لشکر لڑائی کے لیے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہو جائے گا۔ ۔ پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا۔ اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا؛ یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے، یہاں تک کہ مردہ ہو کر گر پڑیں گے۔ اور ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا؟
پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی۔ پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ: دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے۔
یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے۔ پھر دس سواروں کا ہراول دستہ روانہ کریں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں ان کے اور ان کے آباء اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
اس بڑی اور خون ریز جنگ کے دن مسلمانوں کے لشکر کاپڑاؤ شام کے شہر دمشق میں غوطہ کے مقام پر ہوگا۔ وہ اس وقت روئے زمین کا سب سے بہترین لشکر ہوگا۔ جنہیں اللہ تعالیٰ رومیوں پر فتح عطا کریں گے۔ سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس جنگ کے دن مسلمانوں کا خیمہ غوطہ میں ہوگا، وہ اس شہر کے نواح میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، یہ شام کے بہترین شہروں میں سے ہے۔‘‘ (مسند احمد، مستدرک حاکم)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا خیمہ غوطہ میں ہوگا، اس میں ایک شہر ہوگا جسے دمشق کہا جاتا ہوگا۔یہ اس وقت مسلمانوں کی سب سے بہترین منزل ہوگا۔‘‘ (مسند احمد، ابو داؤد)
اس وقت اللہ تعالیٰ فلسطین کو مسلمانوں کے ہاتھوں پر بغیر قتال کے فتح کریں ۔ اس دن امام مہدی کی قیادت میں ان لوگوں کا اسلحہ سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ، لا إلہ إلا اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر کہنا ہوگا۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیا تم نے ایک شہرکا سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں اور دوسری طرف سمندر میں ہے ؟‘‘
صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں ؛ اے اللہ کے رسول!
آپ نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ بنو اسحق میں سے ستر ہزار آدمی جنگ نہ کرلیں ۔ جب وہ وہاں آئیں گے تو اتریں گے۔ وہ نہ ہتھیاروں سے جنگ کریں گے ؛اور نہ تیر اندازی کریں گے؛ وہ کہیں گے: لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر ؛ تو اس سے اس شہر کی ایک طرف گر جائے گی(ثور نے کہا میں سمندر کی طرف کے علاوہ کوئی دوسری طرف نہیں جانتا)۔ پھر وہ دوسری مرتبہ لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبرکہیں گے تو ان کی لیے کشادگی کر دی جائے گی۔ اور وہ اس میں داخل ہو جائیں گے اور مال غنیمت لوٹ لیں گے۔ پس اسی دوران کہ وہ مال غنیمت آپس میں تقسیم کر رہے ہوں گے کہ انہیں ایک چیخ سنائی دے گی جو کہہ رہا ہوگا کہ دجال نکل چکا ہے تو وہ ہر چیز چھوڑ کر لوٹ جائیں گے۔‘‘ (مسلم)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’قاضی عیاض نے فرمایاہے: ((صحیح مسلم کے تمام اصلی نسخوں میں یہی لفظ ہے کہ وہ بنی اسحق سے ہوں گے۔ ‘‘
بعض علمائے کرام کا فرماناہے: ’’ معروف اور محفوظ بات یہی ہے کہ (بنی اسماعیل ) اس پر حدیث اور اس کا سیاق دلالت کرتے ہیں ، اس لیے کہ اس سے مراد عرب لیے گئے ہیں ، اور اس شہر سے مراد قسطنطنیہ ہے۔ ‘‘
اس کے علاوہ جو چیز ان کے بنی اسماعیل ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ حضرت ذی مخمر والی روایت ہے۔ جس میں ہے کہ رومی اپنے ساتھیوں سے کہیں گے: تمہارے لیے عربوں کی حد کافی ہے۔ پھر وہ غداری کریں گے، اور مسلمانوں کے ساتھ ایک بہت سخت جنگ کے لیے جمع ہوں گے۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ آخری اور بڑی جنگ رومیوں اور عربوں کے مابین ہوگی۔ اس حدیث کے ابواب بھی ظاہری طور پر اسی پر دلالت کرتے ہیں ۔ اور جو لوگ اس خون ریز جنگ میں شریک ہوں گے وہی قسطنطنیہ فتح کریں گے۔
اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے جو سیّدنا عمروبن عوف رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہیکہ ’’ پھر ان کی طرف اہل حجاز کے مسلمانوں کا ایک لشکر نکلے گا۔‘‘
پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ بنو اسمعیل ہوں گے نہ کہ بنو اسحق۔ واللہ اعلم (اتحاف)