ایسا زمانہ آئے گا جب ایک سجدہ دنیا و ما فیہا کے برابر ہوگا
ایسا زمانہ آئے گا جب ایک سجدہ دنیا و ما فیہا کے برابر ہوگا
یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانے میں ان کے نازل ہونے کے بعد ہوگا، یعنی آخری زمانے میں ۔ آپ کا زمانہ افضل زمانہ ہوگا۔ عبادات زمانے جگہ اور منزلت کے لحاظ سے ایک دوسرے پر اجرو ثواب میں فضیلت رکھتی ہیں ۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! عنقریب ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے ؛ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہوں گے؛ صلیب توڑ ڈالیں گے؛ خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے؛ جزیہ ختم کر دیں گے (کیوں کہ اس وقت سب مسلمان ہوں گے) اور مال بہتا پھرے گا حتی کہ کوئی اس کا لینے والا نہ ملے گا اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر سمجھا جائے گا۔‘‘
پھرسیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اس کی تائید میں تم چاہو تو یہ آیت پڑھو کہ:
’’اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء :۱۵۹، متفق علیہ)
(اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر سمجھا جائے گا): اس کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کی رغبت نمازوں میں اور دوسرے سارے نیکی کے کاموں میں بڑھ جائے گی۔ کیونکہ ان کی امیدیں کم پڑجائیں گی، اور لوگ اس دنیا سے بے نیاز ہوں گے،اس لیے کہ ان کوقیامت کے قریب ہونے کا یقین ہوچکا ہوگا؛ ان کی رغبت دنیا میں کم ہونے کی وجہ سے اور انہیں دنیا کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے بھی ایسے ہوگا۔
علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نماز کا اجر نمازی کے لیے دنیا و ما فیہا کا صدقہ دینے سے بہتر ہوگا اس لیے کہ وہ اس وقت مال بہہ پڑے گا اور لوگوں میں خود غرضی بہت کم ہوگی اور جہاد میں اخراجات کی ضرورت بہت کم ہوگی۔ اور سجدہ اس حدیث میں اپنے حقیقی معنی میں سجدہ ہی ہے ؛ یا نماز کا سجدہ مراد ہے۔‘‘واللہ اعلم