چھوٹے سر والوں ( بیوقوفوں ) کا کلام کرنا

چھوٹے سر والوں ( بیوقوفوں ) کا کلام کرنا

اصل تو یہ ہے کہ (اہم قومی معاملات میں ) وہ لوگ عوام سے بات کریں جن کی بات معتبر ہو، مرادعاقل و حکیم اورفصیح انسان ہے۔( لوگ جس کی بات مانتے ہوں ) مگر عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب لوگ بگڑ جائیں گے، لوگوں سے بات کرنے والا انسان چھوٹے سر والا ہوگا؛ یعنی بیوقوف اور نچلے درجے کا انسان، ( جس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عنقریب لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جب جھوٹے کو سچا کہا جائے گا ؛ اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا؛ امانتدار کو خائن کہا جائے گا، اور خائن کو امانت دار بنایا جائے گا ؛ اور رویبضہ اس میں باتیں کرنے لگیں گے۔‘‘ آپ سے پوچھا گیا : یارسول اللہ! رویبضہ کیا چیز ہے ؟ توآپ نے فرمایا: ’’بیوقوف جب عام لوگوں کے معاملات میں باتیں کرنے لگے ۔‘‘ (ترمذی ) ہمارے اس زمانے میں یہ نشانی بھی صاف ظاہر ہے کہ نچلے درجے کے لوگ اوپر آگئے ہیں ، اورانہیں اچھے اور نیک لوگوں پر ترجیح حاصل ہے۔اور معاملات بیوقوف اور گھٹیا لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ بات عام ہوچکی ہے۔ واجب تو یہ تھا کہ لوگوں کے معاملات پر ذمہ دار بنانے اور ان کی سیاست پر اہل علم و عقل اور تجربہ کار لوگوں آگے لایا جائے۔ لوگوں کے احوال پر غور کرنے والا انسان دیکھے گا کہ لوگ بھی ایسے ہی افراد میں میلان رکھنے لگے ہیں ، اگرچہ اس میں ان کے دین و ایمان اور مال و متاع کا سودا ہی کیوں نہ ہو، اسی لیے انہوں نے جاہل لوگوں کواپنا سردار بنالیا ہے۔