قیامت کی نشانیوں کو واقعات پر منطبق کرنے کے قواعد
قیامت کی نشانیوں کو واقعات پر منطبق کرنے کے قواعد
ماضی اور حال کے ہر دور میں مختلف اطراف سے علامات ِقیامت والی احادیث کو واقعات پر منطبق کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں ؛ اور ان کے بارے میں دو ٹوک طور پر کہا جاتا رہا ہے کہ یہی وہ نشانی ہے جس کے بارے میں خبر دی گئی تھی۔ اس لیے میں نے بہتر سمجھا کہ قیامت کی نشانیوں کو واقعات پر منطبق کرنے کے کچھ قواعد و ضوابط بھی تحریر کردوں ۔
پہلا قاعدہ:… ہم سے یہ مطلوب نہیں ہے کہ ہم ان احادیث کو واقعات پر منطبق کریں
جو انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اپنے تمام احساسات کے ساتھ اپنے شب و روز میں اس کا مشاہدہ کررہا ہے، اس کے ساتھ جو سخت ترین حالات پیش آرہے ہیں وہ لوگ اس کا اس شدت سے احساس نہیں کررہے جن کے حواس و مدارک ماضی کا ساتھ نہیں دے رہے۔ زمانہ ٔحاضر میں موجود انسان اپنے زمانے کے حوادثات کو بہت ہی بڑا سمجھتا ہے او ران سے خوف کھاتا ہے۔ اورزمانہ حاضر کے چھوٹے مصائب بھی ماضی کے بڑے مصائب سے زیادہ سخت اور بڑے ہیں ۔
اسی وجہ سے یہ مشاہدہ کرنے والا قیامت کی نشانیوں اور ان کے مقدمات(پہلے کے واقعات ) کو اپنے دن اور رات اور مشاہدات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے ایسے واقعات بھی گزر چکے ہیں جو ان سے زیادہ سخت تھے، مگر وہ واقعات اس طرح سے اس انسان پر اثر انداز نہیں ہوئے ؛ یا پھر یہ انسان ان واقعات کی حقیقت سے ہی لا علم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ متقی اہل علم و معرفت کے لیے جائز ہے کہ وہ قیامت کی نشانیوں کو حالات پر منطبق کرنے کے لیے اجتہاد سے کام لیں ۔ جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابن صیاد کے بارے میں اجتہاد کیا تھا کہ یہی دجال ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر کوئی رد نہیں کیا۔
لیکن اگر اس اجتہاد کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں تفریق پیدا ہورہی ہو،یا اس اجتہاد پر کوئی شرعی قباحت ہو، یا دلیل اس کے خلاف ہو تو ایسے انسان کو اس اجتہاد سے منع کیا جائے گا؛ اور اسے تعزیراً سزا بھی دی جائے گی۔ الایہ کہ اس کے پاس کوئی دلیل موجود ہو۔(وہ مسائل جن میں اجتہاد سے منع کیا جائے گا): جیسے قتال یا فتنہ کالزوم؛ یا کسی غیر کی بے عزتی کرنے کو مباح سمجھنا، یا صفوں میں انتشار پیدا کرنا، اس میں بغیر دلیل ِ وحی کے اجتہاد جائز نہیں ہے۔
قیامت کی نشانیوں سے متعلق احادیث کے ناظرین میں سے بعض ماضی اور حاضر کے واقعات کو جمع کرنے کے گرویدہ ہیں اور وہ احادیث جن مین مستقبل میں پیش آنے والے امور اور قیامت کی نشانیوں کا ذکر ہے ؛ انہیں بہ تکلف واقعات پر فِٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
مثال کے طور پر ان میں سے کوئی ایک جب یہ حدیث پڑھتا ہے :
’’ عنقریب اہل عراق کی طرف(خراج) میں نہ کوئی قفیز[1] آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم۔ ‘‘ وہ اس کے بارے میں کہتے ہیں : ’’قیامت کی یہ نشانی ۱۴۱۰ ہجری بمطابق ۱۹۹۰ عیسوی میں پیش آچکی ہے، جب امریکہ (عجمی ملک ) کی طرف سے عراق کا اقتصادی محاصرہ کیا گیا۔
اگرچہ اپنی جگہ واقعی اس کا بہت بڑا احتمال ہے؛ مگر یہ طریقہ کہ احادیث کویوں زندگی میں پیش آنے والے واقعات پر منطبق کرنے میں تھوڑا سا منہج سلیم سے رو گردانی ہے، اور یہ معاملہ اس وقت اور بھی سخت ہوجاتا ہے جب اس کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں (یقینی طور پر قیامت کی نشانی ہونے کا) کہا جائے۔
اس بارے میں سب سے عجیب بات تویہ ہے کہ بعض علماء نے دنیا وی عمر کی حد مقرر کی ہے، بعض نے نو سوسال اور بعض نے ہزار سال کہا ہے ؛ اور اس بارے میں ان روایات کا سہارا لیا ہے جو امام سیوطی اور امام سخاوی رحمہما اللہ اور کچھ دوسرے علماء کے ہاں پائی جاتی ہیں ۔
کتابوں میں اس کے متعلق مثالیں
جوکچھ صاحب کتاب ’’ اسرار الساعۃ‘‘(قیامت کے اسرار ) نے ذکر کیا ہے کہ ’’ظہور مہدی سے پہلے دجال کو ایران میں حکومت عطا کی جائے گی۔‘‘ پھر وہ بیان کرتا ہے کہ ’’وہ یعنی دجال محمد خاتمی ہے اور اس کا لقب آیۃ اللہ گوربا چوف ہے۔ ‘‘
ایک دوسرے مصنف نے اپنی کتاب ’’المسیح الدجال ‘‘ میں دو ٹوک الفاظ میں یقینی طور پر کہا ہے کہ مہدی منتظر سابق عراقی صدر صدام حسین (شہید رحمہ اللہ ) ہے۔ ‘‘[1]
محمد امین جمال نے اپنی کتاب ’’ہرمجدون‘‘ میں یہ گمان ظاہر کیا ہے کہ وہ سفیانی جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے، اس سے مراد صدام حسین ہے۔
ایک اور مصنف نے اپنی کتاب ’’ اشراط الساعۃ و ہجوم الغرب ‘‘(قیامت کی نشانیاں اور مغرب کا ہجوم) میں یہ خیال ظاہر کیاہے کہ اس سفیانی سے مراد اردن کا سابق بادشاہ ’’ شاہ حسین ‘‘ مراد ہے۔[2]
ایسے دعووں کے بارے میں دوٹوک رائے اختیار کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ ہاں ، اگر واضح طورپر قرائن جمع ہو جائیں کہ کسی حدیث میں وارد نشانیاں پورے طور پر کسی واقعات پر صادق آتی ہیں ۔ اور یہ معاملہ بھی اتنا واضح ہو کہ اس میں کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش باقی نہ ہو، تو اس حدیث کو ایسے واقعہ پر منطبق کرنے میں کوئی حرج نہیں ، مگر اس کے ساتھ یہ امکان بھی باقی رہتا ہے کہ یہ حدیث اس واقعہ سے مشابہت رکھنے والے کسی دوسرے واقعہ پر بھی صادق آسکتی ہے یا کسی دوسرے واقعہ میں اس سے بڑھ کر بھی واضح ہوسکتی ہے۔
اس کی چند اور مثالیں
۱۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کے واقعہ میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، انہوں نے حجاج بن یوسف ثقفی جو کہ سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے لشکر کی قیادت کررہا تھا، اسے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’سن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک حدیث بیان فرمائی تھی کہ’’ قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہوگا کہ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا اور ظالم میں تیرے علاوہ کسی کو نہیں سمجھتی۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ ’’حجاج اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت اسما کو کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ (مسلم )
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا جھوٹے کے متعلق یہ فرمانا کہ ’’ ہم نے اسے دیکھ لیا ہے‘‘
اس سے ان کی مراد مختار بن ابو عبید ثقفی ہے، جو کہ انتہائی جھوٹا انسان تھا۔ اس کے قبیح ترین جھوٹ میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے پاس جبرئیل امین آتے ہیں ۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ یہاں پر کذاب سے مراد مختار بن عبید اور ظالم سے مراد حجاج بن یوسف ہے۔ واللہ اعلم
۲۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیا مت قائم نہ ہوگی جو کہ بصریٰ کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔‘‘
یہ آگ یقیناً نکل چکی ہے اورکہا جاتا ہے کہ یہ آگ تین مہینے تک رہی۔ اور مدینہ کی عورتیں اس آگ کی روشنی میں سوت کاتا کرتی تھیں ۔
ابو شامہ اس آگ کے متعلق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ بدھ کی رات ۳ جمادی الآخر۶۵۴ ہجری کو مدینہ میں آوازیں پیدا ہوئیں اور تیز ہوا چلی؛ اس کے بعد زلزلہ آیا، جس سے زمین کانپ اٹھی؛ چھتیں ، دیواریں اور لکڑیاں لرزہ براندام ہونے لگیں ۔(اسی مہینہ کے )جمعہ کے دن تک ہر گھنٹے کے بعد ایسا ہوتا رہا۔ پھر بنی قریظہ کے قریب حرہ کے علاقے میں بہت بڑی آگ ظاہر ہوئی۔ ہم اس آگ کو اپنے گھروں سے مدینہ کے اندر دیکھتے تھے۔گویا کہ وہ ہمارے ہاں ایک بہت بڑی آگ ہو۔ وادی شظاکی طرف اس آگ سے وادیاں بہہ پڑیں اور اس آگ کی چنگاریاں گویا کہ ایک ’’محل‘‘ ہوتی تھیں ۔‘‘
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ہمارے زمانے میں ۶۵۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں آگ نکلی۔ یہ بہت بڑی آگ تھی جو مدینہ کے شرقی علاقے ’’حرہ‘‘ کے پچھلی جانب سے نکلی تھی اور اس آگ کے نکلنے کا علم حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے۔ ‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جو بات میرے لیے ظاہر ہوتی ہے کہ یہی مذکورہ آگ مدینہ کے نواحی علاقہ میں ظاہر ہوئی تھی جیسا کہ امام قرطبی اور دوسرے لوگ سمجھے ہیں ۔ ‘‘ (فتح الباری)
۳۔ وہ روایت جسے امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ فتنے ظاہر ہوں ، اور جھوٹ کی کثرت ہو، اور بازار قریب قریب ہوجائیں ، اور زمانہ آپس میں قریب ہوجائے، اور ہرج بہت زیادہ ہوجائے۔‘‘ پوچھا گیا یا رسول اللہ ! ہرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: ’’ قتل و غارت۔ ‘‘
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فتح الباری میں اس حدیث پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حدیث میں مذکور ’’التقارب ‘‘ کی اقرب ترین شرح اس زمانہ میں شہروں اور ریاستوں کے درمیان پیدا ہونے والی قربت اور ان کے مابین سفر کرنے کے لیے وقت کا گھٹ جانا ہے۔ اس کا سبب جہازوں ، گاڑیوں اور دوسرے ذرائع مواصلات کی ایجاد ہے۔ اور اس کے علاوہ دوسری چیزیں بھی ہیں ۔ واللہ اعلم
دوسرا قاعدہ:…یہ شرط نہیں کہ قیامت کی نشانیاں قیامت کے بالکل قریب ہوں
بلکہ ان کے مابین لمبا زمانہ ہوسکتا ہے :
قیامت کی نشانیاں وہ علامات ہیں جو اس کے عنقریب واقع ہونے پر دلالت کرتی ہیں ، خواہ یہ نشانیاں وقوع قیامت کے قریب تر ہو یا اس سے کچھ دور ہوں ۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
’’میں اور قیامت اس طرح ( ساتھ ساتھ ) بھیجے گئے ہیں ؛ یہ فرماکر آپ نے درمیانی اور اس کے ساتھ والی انگشت ’’ شہادت ‘‘ کو آپس میں ملا لیا۔‘‘ ( متفق علیہ )
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور موت یہ ایسی نشانیاں ہیں جو قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہیں ، اگر چہ ان کے بعد پیش آنے والی دوسری نشانیاں قیامت کے زیادہ قریب ہیں ۔
علامات قیامت کے وقوع کے لحاظ سے اس کی ممکن اقسام
قیامت کی نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کے لحاظ سے انہیں مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
٭ ان میں سے بعض وہ نشانیاں ہیں جو واضح طور پر پیش آچکی ہیں ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں خبر دی تھی، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اورآپؐ کی موت اورجھوٹے انبیاء کا ظہور۔
٭ وہ نشانیاں جن کا پہلا حصہ وقوع پذیر ہوچکا ہے اور ا س میں برابر زیادتی ہورہی ہے۔ جیسا کہ بازاروں کا قریب ہونا، کتابوں کا پھیل جانااور قتل و غارت (کا عام ہو جانا ) کی کثرت۔
٭ ان میں سے کچھ وہ نشانیاں ہیں جو کہ ابھی تک مطلق طور پر پیش نہیں آئیں ؛وہ عنقریب وقوع پذیر ہوں گی۔
جیسے کہ چوپائے کا نکلنا، اور دجال کا ظہور۔
تیسرا قاعدہ:… علاماتِ قیامت کی احادیث کو غلط جگہوں پر منطبق کرنے کے خطرات
۱۔لاعلمی پر مبنی غائبانہ اٹکل پچو باتیں
جب آپ کسی حدیث میں وارد قیامت کی نشانی کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں کہیں گے کہ یہ نشانی ایسے ایسے پیش آچکی ہے ؛ تو آپ کا یہ دعویٰ شرعی یا نظری دلیل یا قرینہ کا محتاج ہوگا۔ جب کہ اس بارے میں نہ ہی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی قرینہ پایا جاتا ہے۔ اور کسی بھی سچے مسلمان اور مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان کو ان امور شریعت میں بے لگام چھوڑ دے جن کے بارے میں اسے کوئی (حتمی ) علم نہیں ہے۔
۲۔ مشروع عمل کو ترک کرنایا غیر مشروع عمل کا کرنا:
بعض لوگوں نے جب وہ کتابیں پڑھیں جو امام مہدی کے بارے میں بحث کرتی ہیں ، اور ان کے مؤلفین نے حتمی طور پر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مہدی فلاں انسان ہے۔ تو بعض قارئین خروج مہدی کا انتظار کرنے لگے اور اس کے ظہور کے اعتبار سے اپنے کاموں کو ترتیب دینے لگے۔ بعض لوگوں نے تو تلوار اور گھوڑے بھی خرید لیے تاکہ وہ آنے والے سالوں میں انتہائی خون ریز جنگوں کے لیے خود کو تیار کرسکیں ۔ بعض نے تو شادی کرنے یا گھربنانے کوبھی ترک کردیا۔ اس لیے کہ ان کے خیال کے مطابق دجال کے خروج میں دو کمان کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ہے اور اس طرح کی کئی دیگر باتیں بھی ہیں جنہیں طوالت کے پیش نظر چھوڑا جا رہا ہے۔
۳۔ممکنہ خطرہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جانے لگے:
اگر واضح الفاظ میں کسی انسان کے متعلق جب یہ کہا جائے کہ مہدی سے مقصود وہی انسان ہے اور پھر اس کے خلاف ظاہر ہو، تواس کی وجہ سے لوگ مہدی کے بارے میں وارد احادیث کو جھٹلا سکتے ہیں ۔ یہی مثال اس کے علاوہ باقی نشانیوں کی بھی ہے، جب ان کی صحت کے بارے میں بغیر یقین کامل کے دو ٹوک الفاظ میں کہا جائے کہ یہی وہ نشانی ہے جو احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ ( تو پھر اس کے خلاف اگر ظاہر ہوجائے تو عام لوگ احادیث کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر ان کا انکار کرسکتے ہیں )