صرف خاص لوگوں کو سلام کرنا
صرف خاص لوگوں کو سلام کرنا
اللہ تعالیٰ نے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ آپس میں محبت اور تعلق کی ایک نشانی ہو۔ پس اس لیے سنت یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، مالدار غریب کو سلام کرے، اور عربی اور عجمی، کالا اور گورا آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں ، خواہ وہ ایک دوسرے کوجانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے، جب تک ایمان نہ لے آؤاور اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگ جاؤ؛ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تم آپس میں محبت کرنے لگ جاؤگے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔‘‘ ( مسلم)
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ صرف خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف اسے سلام کرے گا جسے پہچانتا ہوگا، اور جس سے شناسائی نہیں ہوگی اسے سلام نہیں کرے گا،حالانکہ سنت تو یہ ہے کہ ہر مسلمان کوسلام کیا جائے خواہ اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔
جناب ابو جعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کہا : ’’ اے عبد اللہ بن مسعود ! السلام علیکم۔ ‘‘ تو سیّدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ؛ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے:
’’بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ کوئی آدمی مسجد سے گزرے گا، مگر دو رکعت نماز(تحیۃ المسجد) نہیں پڑھے گا ؛ اور صرف اسے سلام کرے گا جسے وہ پہچانتا ہوگا ۔‘‘(صحیح ابن خزیمہ)
بخاری اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، ہر شخص کو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں سلام کرو۔‘‘