جھوٹی نبوت کے دعویداروں (دجالوں )کا ظہور
جھوٹی نبوت کے دعویداروں (دجالوں )کا ظہور
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک، جھوٹے دجالوں کا خروج ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوں گے جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے اوراپنے جھوٹ سے لوگوں کے درمیان فتنے کو ہوا دیں گے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ان کی تعداد تیس ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے دجال نکل جائیں ( وہ سب کے سب )ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہوگاکہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘ (بخاری)
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ نشانی بھی واقع ہوچکی ہے۔ قدیم اور جدید ہر دور میں کافی سارے جھوٹی نبوت کے دعویدار ظاہر ہوئے ہیں اور یہ بات بھی کوئی بعید نہیں ہے کہ کچھ اور دجال اور کذاب بھی ظاہر ہوں یہاں تک کہ سب سے بڑے کانے دجال (مسیح الدجال ) کا خروج ہوجائے۔(اس کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا:
’’ بے شک اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت میں تیس دجال کذاب ظاہر ہوں گے ؛ ان کے آخر میں کانا دجال کذاب آئے گا۔‘‘ (مسند احمد، صحیح)
سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ بتوں کی عبادت کریں اور بے شک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ‘‘ (ابو داؤد و ترمذی)
ایک دوسرے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ستائیس جھوٹے نبی ظاہر ہوں گے، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی۔ ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بے شک میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی اوران میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ بے شک میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘ (مسند احمد، طبرانی )
ماضی کے چند جھوٹے نبی :
ماضی میں ان جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی تعداد ظاہر ہوچکی ہے ؛ (ان میں سے ):
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دور میں یمن میں اسود عنسی نے مرتد ہوکر نبی ہونے کا دعویٰ کردیا۔ اس کا مرتد ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پہلا مرتد ہونے کا واقعہ تھا۔ اس کے ساتھ جو بھی لڑاکے تھے وہ بھی(اس مرتد کے دفاع کے لیے ) حرکت میں آگئے۔ تین یا چارماہ کے عرصہ میں پورے یمن پر غالب آگیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے مسلمانوں کی طرف ایک خط بھیجا، جس میں لوگوں کو اس سے جنگ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔لوگوں نے آپ کی پکار پر لبیک کہا، اور اس جھوٹے شخص کواس کی بیوی کی مدد سے اس کے گھر میں قتل کردیا۔ اس جھوٹے نے اس بیوی کا پہلا شوہر قتل کردینے کے بعد اس سے جبری شادی کر لی تھی۔ یہ عورت اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والی تھی۔ اس ملعون کے قتل ہونے سے اسلام اور اہل اسلام پھر سے یمن پر غالب آگئے۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک خط لکھا، مگر اس سے پہلے اسی رات آپ کے پاس آسمانوں سے خبر پہنچ چکی تھی ؛ اور آپؐ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بتادیا تھا۔ اس جھوٹے نبی کے ظاہر ہونے سے لے کر اس کے قتل ہونے تک تقریباً تین یا چار ماہ کا عرصہ یمن پر اس کا غلبہ رہا۔
۲۔ طلیحہ بن خویلد الأسدی:کئی بار اس سے مسلمانوں کی جنگیں ہوئیں ۔ پھر یہ مسلمان ہوگیا، اوراچھا مسلمان ثابت ہوا، اورمسلمانوں کے لشکر سے مل کر جنگیں لڑیں ۔ جہاد میں بہت سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، آخر کار معرکہ نہاوند میں شہادت پائی۔
۳۔ مسیلمہ کذاب: ان ہی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک مسیلمہ کذاب تھا۔ اس کاگمان تھا کہ اندھیرے میں اس کے پاس وحی آتی ہے۔ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جناب خالد بن ولید، حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور سیّدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا۔ مسیلمہ نے اپنے چالیس ہزار کے لشکر کے ساتھ ان لوگوں کا استقبال کیا۔ ان کے مابین انتہائی خون ریز جنگ لڑی گئی۔ جس میں ہزیمت مسیلمہ اوراس کے ماننے والوں کا مقدر رہی۔ آخر کار یہ جھوٹا نبی سیّدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا؛ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت فرمائی اور توحید کا جھنڈا بلند ہوگیا۔
۴۔ سجاح بنت حارث : اس کا تعلق قبیلہ بنوتغلب سے تھا۔ یہ عیسائی عربوں کی ایک عورت تھی۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدنبوت کادعویٰ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے خاندان میں سے اور باہر کے لوگوں کی ایک جماعت اس کے آس پاس جمع ہوگئی۔ اس نے اپنے آس پاس کے قبیلوں پر شب خون مارا۔ اور اپنی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے یمامہ جا پہنچی۔ جہاں پر اس نے مسیلمہ کذاب کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر اپنے ایمان کااظہار کیا، اور اس کے ساتھ شادی رچا لی۔ جب مسیلمہ قتل ہوگئے تو یہ اپنے علاقے میں واپس چلی گئی۔ اوراپنی قوم بنی تغلب میں ہی مقیم رہی۔ اس کے بعد اس نے بھی اسلام قبول کرلیا، اور ایک اچھی مسلمان ثابت ہوئی۔ پھر اس کے بعد بصرہ منتقل ہوگئی؛ اوروہیں پر اس کا انتقال ہوا۔
۵۔ مختار ثقفی :تابعین کرام کے زمانے میں اس کا خروج ہوا۔ اس نے سب سے پہلے اپنے آپ کو ایک شیعہ کے طور پر ظاہر کیا،جس کی وجہ سے اس کے آس پاس شیعہ کی ایک بڑی جماعت جمع ہوگئی۔ یہ گمان کرتا تھا کہ اس کے پاس جبرئیل امین وحی لے کر آتے ہیں ۔ اس کے اور سیّدنامصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے مابین کئی معرکے ہوئے، آخر کار یہ ملعون مارا گیا۔
۶۔ حارث بن سعید : ان ہی جھوٹوں میں سے ایک حارث بن سعید کذاب بھی تھا۔ جس نے پہلے پہل دمشق میں عبادت گزاری ظاہر کی۔ پھر یہ گمان کرنے لگا کہ وہ نبی ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اس بات کی خبر خلیفہ عبد الملک بن مروان تک پہنچ گئی ہے توچھپ گیا۔ بصرہ کے ایک آدمی نے اس کے گھر کاپتہ لگالیا۔ اور اس نے ظاہری طور پر خود کو اس کے ماننے والوں میں سے ایک بتایا۔ حارث نے اپنے خواص کو حکم دے دیا کہ جب بھی یہ شخص اس کے پاس آنا چاہے تو اسے نہ روکا جائے۔ اس شخص نے یہ خبر عبد الملک بن مروان تک پہنچائی۔ جس نے اس آدمی کے ساتھ ایک لشکر بھیجا جنہوں نے اس آدمی کو گرفتار کرلیا۔ اسے عبد الملک کے پاس لایا گیا۔ عبد الملک نے علماء و فقہاء کی ایک جماعت کا انتخاب کیا تاکہ وہ اسے وعظ ونصیحت کریں اور سمجھائیں کہ ایسا دعویٰ صرف شیطانی دعویٰ ہے۔ جب اس نے ان علماء کی بات ماننے اور توبہ کرنے سے انکار کردیا ؛ تو پھر اسے قتل کردیا گیا۔
۷۔ مرزا غلام احمد قادیانی : اس زمانے میں تقریباً ایک سوسال پہلے ہندوستان میں ایک آدمی ظاہر ہوا، جسے غلام احمد قادیانی کہا جاتا تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٖ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ اور اس کے ذہن میں یہ بات بھی سما گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ اسی سال تک زندہ رہے گا۔ (لوگ اس کے دھوکے میں آگئے ) اور اس کے ماننے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس کے گرد و نواح میں جمع ہوگئی۔ علمائے کرام نے اسے چیلنج کیا، اور اس کے دعووں پر رد کیا۔ اوربیان کیاکہ یہ ایک دجال ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے والوں میں ایک عالم جناب ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ تھے۔ علمائے کرام میں سے یہ صاحب ثناء اللہ رحمہ اللہ کے خلاف بہت ہی سخت ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ۱۹۰۸ء میں قادیانی نے انہیں چیلنج کیا کہ ان دونوں میں سے جھوٹا اورکذاب دوسرے کی زندگی میں ہی مرجائے گا؛ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ سچے کی زندگی میں جھوٹے کو موت دے اور اس پر طاعون کی بیماری مسلط کرے جس سے اس کی موت واقع ہو۔ ایک سال کے بعد قادیانی کی دعا قبول ہوگئی۔ اس کے خاتمہ کے متعلق اس کے سسر کا بیان ہے کہ’’ جب اس کی بیماری شدت پکڑ گئی تو اس نے مجھے جگایا، میں اس کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ تکلیف کی شدت میں مبتلا تھا۔وہ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا: مجھے’’کولیرا ‘‘ ہوگیا ہے ؛ پھر اس کے بعد وہ ایک کلمہ بھی صاف طور پر نہیں بول سکا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا۔[1]
جھوٹے نبیوں کے ظہور کا یہ سلسلہ ایک کے بعد ایک کرکے جاری رہے گا، یہاں تک کہ وہ تعداد پوری ہوجائے جس کے متعلق ہمیں سچے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔ یہاں تک کہ ان سب کے آخر میں دجال اعظم (مسیح الدجال)آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔ اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جو کہ اللہ کے ایک سچے نبی ہیں ، آخری نبی کے سچے امتی کی حیثیت سے نازل ہوں گے، اور اس دجال کو قتل کریں ۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں : بڑی نشانی ۱۔۲۔)
یہاں پر بعض لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ آپ نے تو تیس جھوٹے نبیوں کے ظاہر ہونے کے متعلق خبر دی تھی، مگر آج تک جن لوگوں نے نبوت کادعویٰ کیا ہے ان کی تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے ؛ اس کی کیا وجہ ہے ؟
اس کاجواب یہ ہے کہ’’ ان تیس سے مراد وہ تیس ہیں جن کی شہرت ہوگی اوربڑی تعداد میں ان کے ماننے والے ہوں گے، اور ممکن ہے کہ کہیں پر یہ لوگ اپنا ملک قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں ، مگر جو لوگ ان کے علاوہ ہوں گے وہ کسی شمار میں نہیں آئیں گے۔