وہ آگ جو لوگوں کو حشر کی طرف ہانکے گی
وہ آگ جو لوگوں کو حشر کی طرف ہانکے گی
کچھ اس باب کے متعلق
قیامت کی آخری نشانی اور تمام نشانیوں کو ختم کرنے والی چیز، یمن سے نکلنے والی آگ ہے، جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔ ارض محشر وہ صاف و سفید زمین ہے جو کہ سکے کی طرح برابر ہے جس میں کسی کے لیے بھی کوئی خاص نشانی نہیں ہوگی۔
٭ اس آگ کی علامات کیا ہوں گی ؟
٭ یہ آگ کیسے نکلے گی؟
٭ کہاں سے نکلے گی ؟
٭ اس آگ کے بعد کیا ہوگا؟
اس آگ کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث
٭ سیّدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو ؟
انہوں نے عرض کیا :ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے۔ دھوئیں ؛دجال ؛دابۃ الارض ؛سورج کے مغرب سے طلوع ہونے ؛اور سیّدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے اور یاجوج وماجوج اور تین جگہوں کے دھنسنے ایک دھنسنا مشرق میں اور ایک دھنسنا مغرب میں ایک دھنسنا جزیرۃ العرب میں ہونے اور آخر میں یمن سے آگ نکلنے کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو جمع ہونے کی جگہ کی طرف لے جائے گی۔‘‘ (مسلم)
ایک روایت میں ہے :’’ اور آگ جو عدن کے کنارے سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی ۔‘‘(مسلم)
٭ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ یقیناً قیامت سے پہلے حضر موت کے سمندر سے آگ نکلے گی یا فرمایا کہ حضر موت سے آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکھٹا کرے گی ؛ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! اس وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ، آپ نے فرمایا: ’’ تم شام کولازم پکڑ لو( یعنی ملک شام چلے جاؤ ۔‘‘ (مسند احمد)
٭ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں :
’’ یہودی عالم عبد اللہ بن سلام باغیچہ میں میوہ توڑ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کی خبر ہوئی۔ وہ فورا حاضر خدمت ہوئے؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ:’’ میں آپ سے تین باتیں معلوم کرنا چاہتا ہوں جن کو ماسوائے نبی کے اور کوئی نہیں بتا سکتا۔ ‘‘ ایک یہ کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہوگی؟
دوسرے یہ کہ جنتی سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے ؟
تیسرے یہ کہ بچہ اپنے باپ یا ماں کے مشابہ کس وجہ سے ہوتا ہے؟
آپ نے فرمایا: ’’مجھے ابھی جبریل بتا کر گئے ہیں ، ابن سلام نے کہا، جبریل! وہ تو یہودیوں کا تمام فرشتوں میں سب سے بڑا دشمن ہے، اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:
﴿مَنْ کَانَ عَدُوًّا…﴾آخر تک۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ؟’’ قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ ایک آگ اٹھے گی جو آدمیوں کو مشرق سے مغرب کی طرف بھگا کر لے جائے گی؛ اور جنتیوں کو سب سے پہلے مچھلی کا جگر کھانے کو ملے گا۔ اور بچہ کے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مرد عورت میں سے جس کا مادہ منویہ غالب رہتا ہے۔ بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے اگر ماں کا غالب ہے تو ماں سے اگر باپ کا غالب ہے تو باپ سے عبد اللہ بن سلام نے اس کے بعد کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ ( بخاری)
اشکال :…حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ قیامت کی ابتدائی علا مت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا؛ اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے۔ ان دونوں میں سے کسی کا بھی دوسرے سے پہلے ظہور ہوگا تو اس کے قریب ہی زمانہ میں دوسری علامت ظاہر ہو جائیں گی۔‘‘ (مسلم)
اس روایت اور قیامت کی وہ نشانیاں جن کا بیان پہلے گزر چکاہے ؛ کے مابین جمع (وتوفیق ) کیسے ممکن ہوگی جن میں وارد ہوا ہے کہ قیامت کی پہلی نشانی آگ کا نکلنا ہے ؟
جواب : …یہاں پر اس روایت سے مقصود قیامت قائم ہونے کی نشانی ہے؛ قیامت کے قریب ہونے کی نشانی نہیں ، اس کی تائید بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے : (قیامت کی سب سے پہلی نشانی کون سی ہے ؟) مراد قیامت کا قائم ہونا ہے۔
یہ آگ لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرے گی۔ یہ اس آگ کے علاوہ ہے جو حجاز میں ظاہر ہوئی تھی۔ جس سے بصرہ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوگئی تھیں ۔ یہ آگ ساتویں صدی ہجری میں ظاہر ہوچکی ہے، یہ قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے ایک تھی۔
لوگوں کو حشر میں جمع کرنے کی کیفیت
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، کہ آپ نے فرمایا :
’’ لوگوں کا حشر تین طرح پر ہوگا ایک گروہ تو رغبت رکھنے والوں کا ہوگا، دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا کہ کسی اونٹ پر دو، اور کسی اونٹ پر تین اور کسی پر چار کسی پر دس آدمی سوار ہوں گے اور بقیہ وہ لوگ ہوں گے جنھیں آگ اکٹھا کرے گی، جہاں وہ لیٹیں گے وہاں وہ لیٹے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے وہیں وہ رات گزارے گی، اور جہاں وہ صبح کریں گے وہ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے وہیں وہ شام کرے گی۔‘‘ (بخاری)
اس کا معنی یہ ہے کہ اس آگ سے مقصود لوگوں کو جلانا نہیں ہوگا، بلکہ مقصود انہیں شام کی طرف ارض محشر میں جمع کرنا ہوگا۔ جب لوگ چل پڑیں گے، اور وہ تھک جائیں گے توقیلولہ کرنے (سستانے) کے لیے یا تھوڑدیر سونے کے لیے رکیں گے۔ تو آگ بھی رک جائے گی۔ جب وہ نیند سے بیدار ہوں گے تو آگ ان کی طرف چل پڑے گی، اور انہیں ہانکنا شروع کردے گا۔ایسے ہی جہاں کہیں وہ لوگ رات گزاریں گے، یہ رات بھی ان کے ساتھ ہی رات گزارے گی۔ اور جب صبح ہوگی اورلوگ چل پڑیں گے تو یہ آگ بھی ان کے ساتھ ہی چل پڑے گی۔ یہاں تک کہ ان کو لے کر ارض شام میں پہنچ جائے گی۔
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ سچے اور سچے کہے گئے (رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خداوند قدوس ان پر رحمت نازل فرمائے اور سلام نازل فرمائے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ(قیامت کے دن) لوگ تین قسم کے ہوں گے ایک طبقہ تو سوار ہوگا جو کہ کھاتے اور لباس (پہنتے جائیں گے) اور دوسرے طبقہ کو فرشتے ان کے چہروں کو الٹا کر کے ان کو دوزخ کی جانب گھسیٹ لیں گے اور ان کو دوزخ کی جانب لے کر جائیں گے اور تیسرا طبقہ وہ ہوگا جو کہ پاں سے چلے گا اور دوڑے گا خداوند قدوس سواریوں پر آفت ڈال دے گا ان کو سواری نہ مل سکے گی۔ یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس باغ ہوگا وہ ایک اونٹ کے عوض میں دے دے گا لیکن ان کو اونٹ نہیں ملے گا۔‘‘ (مسند احمد ، نسائی )