چوپایہ
چوپایہ
کچھ اس باب کے متعلق
آخری زمانے میں جب فساد بہت زیادہ پھیل جائے گا، اور برائیوں کاغلبہ ہوگا اور لوگ ان چیزوں کے عادی ہوجائیں گے اور اچھے اور برے آپس میں مل جائیں ، مومن اور منافق ایک ہوجائیں گے بلکہ مسلمان اور کافر ایک ہوجائیں گے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ اس چوپائے کونکلنے کی اجازت دے گا۔
یہ چوپایہ کیا ہے ؟
یہ کہاں سے اورکب نکلے گا؟
اور یہ چوپایا کرے گا کیا کیا ؟
چوپائے کے متعلق آیات
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا؛ ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔‘‘ (النمل: ۸۲)
اللہ تعالیٰ کے فرمان:[آیت میں وارد لفظ] (تکلمہم) سے مراد کیا ہے؟ کہا گیا ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان سے کلام کرے گا، اوریہ بھی کہا گیاہے کہ : اس سے مراد ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا۔ اس چوپائے کی صفات کے بارے میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔
امام ماوردی اور امام ثعلبی نے اس چوپائے کی بڑی عجیب صفات بیان کی ہیں ، جن پر کوئی دلیل دلالت نہیں کرتی، مقال کے طور پر کہ : اس چوپائے کا سر بیل کے سر کی طرح ہوگا، اور اس کے کان اونٹ کے کانوں کی طرح ہوں گے۔
مگر ہمیں اس کی صفات پتہ ہیں کہ…
٭ یہ ایک حقیقی چوپایہ ہوگا
٭ یہ لوگوں سے بات چیت کرے گا
٭ یہ جانور زمین سے نکلے گا
یہ چوپایہ کہاں سے نکلے گا؟
٭ کہا گیا ہے کہ یہ جانور مکہ مکرمہ میں صفاء کے پہاڑ سے نکلے گا۔
٭ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعبہ کے نیچے سے نکلے گا۔
٭ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی صحراء سے نکلے گا۔
لیکن اس جانور کے نکلنے کی جگہ کے بارے میں ایک بھی صحیح اور ثابت شدہ حدیث نہیں ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ : ہم اس جانور کے نکلنے کے بارے میں ایمان رکھتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے، مگر یہ نہیں جانتے کہ کہاں سے اس کا خروج ہوگا۔
اس چوپائے کی حقیقت کیا ہے ؟
٭ کہا گیا ہے کہ یہ جانور ایک آدمی ہوگا؛ لوگوں سے جھگڑا کرے گا ؛ یہ قول باطل ہے۔
٭ ایک قول یہ ہے کہ یہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی ہوگی۔
٭ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا بچہ ہوگا۔
یہ چوپایا کیا کرے گا ؟
یہ چوپایا لوگوں سے کہے گا: (بے شک لوگ ہماری نشانیوں پر ایمان نہیں رکھتے ) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا؛ ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔‘‘ (النمل :۸۲)
لوگوں کو نشان زدہ کرے گا:
نشان زدہ کرنے سے مراد آگ سے ڈنک لگانا ہے۔ سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ چوپائے کو نکالا جائے گا، وہ لوگوں کے ناک پر نشان لگائے گا، پھر وہ (نشان زدہ افراد عام) لوگوں میں مل جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی اونٹ خریدے گا، تو اس سے کہا جائے گا تم نے یہ اونٹ کس سے خریدا؟ وہ کہے گا: میں نے ایک ایسے آدمی سے خریدا ہے جس کی ناک کا ایک طرف داغدار تھا؟‘‘(مسند احمد )
٭ اس داغ کی کیفیت کیا ہوگی، کیا یہ داغ ہمیشہ رہے گا؟
٭ کیا آنے والی نسلوں میں بھی یہ نشان ہوگا ؟
٭ جب چوپایہ لوگوں کو نشان لگادے گا، اور حق باطل سے واضح ہوجائے گا اورمومن اورکافر جدا جدا ہوجائیں گے، تو پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟
ایک زمانے تک لوگ اسی حال پر رہیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی انسان دوسرے کو آواز دے گا اے مومن، یا کہے گا : ’’اے کافر !‘‘ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا ارادہ قیامت قائم کرنے کا ہوگا تو ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جو مومنین کی روحوں کو قبض کر لے گی۔ اس لیے کہ قیامت صرف برے لوگوں پر قائم ہوگی۔ اور مومنین کو فزع اکبر ( بڑا خوف ) کچھ بھی غمگین نہ کرسکے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال میری امت میں خروج کرے گا۔ اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا؛ گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں ؛تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے۔ پھر لوگ سات سال اس طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گامگر اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا ؛ تو وہ ہوااس پہاڑ میں اس آدمی تک پہنچ کر اس کی روح قبض کر کے ہی چھوڑے گی۔ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے ؛جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بے عقل ؛درندہ صفت ہوں گے۔ وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے۔ ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا :’’کیا تم میری بات نہیں مانتے ؟ تو وہ کہیں گے کہ: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ؟
تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا؛ اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ؛ان کا رزق اچھا ہوگا۔ اور ان کی زندگی عیش وعشرت کی ہوگی۔ پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا؛ اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا۔ اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا؛ وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے ۔‘‘ (مسلم)
اورایک روایت میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بے شک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجیں گے جو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی، وہ کسی ایک جی کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گی جس میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، یا فرمایا کہ جس جی میں ایک ذرہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اسے قبض کرلے گی ۔‘‘ (مسلم )
اس ہوا کے بعد برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے، قیامت ان پر ہی قائم ہوگی۔