امام مہدی کا ظہور
امام مہدی کا ظہور
آخری زمانے میں فساد کی کثرت اور ظلم کے انتشار کے ساتھ ؛جب کہ طاقتور کمزور کو کھا رہا ہوگا؛اہل شر و فتنہ غالب ہوں گے، اور حکومت ان کے ہاتھوں میں ہوگی ؛ اس وقت مومنین ایک نئی صبح کے منتظر ہوں گے۔ جس صبح میں اللہ تعالیٰ ان تمام مظالم کوختم کردیں گے،جو اس وقت پھیلے ہوئے ہیں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ محمد بن عبد اللہ الحسنی العلوی مہدی کو ظہور کی اجازت دیں گے۔
٭ یہ مہدی کون ہے؟
٭ اس کے ظہور کے اسباب کیا ہیں ؟
٭ وہ کہاں پرظاہر ہوگا؟
٭ کیا وہ اس وقت موجود ہے؟
٭ وہ مہدی ظہور کے بعد کیا کرے گا؟
٭ اس کی اتباع کرنے والے کون ہوں گے؟
ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے سوال ہیں ، جو کہ صرف مہدی کا لفظ سننے سے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ۔ آنے والے صفحات میں ہم ان سوالوں کا وضاحت اور اختصار کے ساتھ جواب دیں گے۔
امام مہدی کانام اور نسب :
آپ کا نام و نسب …محمد بن عبد اللہ الحسنی العلوی ہے۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اولاد ہوں گے۔
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ دنیاکے ختم ہونے میں ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ نے اس دن کو اتنا لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ ایک آدمی مجھ سے یا فرمایا کہ اہل بیت میں سے بھیجیں گے جس کا نام مرے نام سے اور جس کے باپ کے نام مرے باپ کے نام سے مطابقت رکھتا ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد)
ظہور کا سبب:
یہ نیک انسان آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔ ایسا اس وقت ہوگا جب فساد عام ہوگا، برائیاں کثرت کے ساتھ ہوں گی۔ ظلم زورں پر ہوگا، عدل کم ہوگا۔ مہدی ہی وہ انسان ہوگا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ اس امت کے احوال کی اصلاح فرمائیں گے۔ اس انسان کواہل سنت والجماعت کے ہاں مہدی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کے لیے اس کے پیروکار جمع ہوجائیں گے۔ وہ کئی جنگوں میں مومنین کی قیادت کریں گے۔ اور ایک دانش مند قائد اور حاکم ہوں گے۔
مہدی کی صفات:
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مہدی مجھ سے ہوگا،یعنی میری نسل سے ہوگا۔ یہ مہدی کانسب ہے۔ پھر ان کی پیدائشی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر دی گئی تھی اور سات سال تک حکومت کریں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
آپ کی حکومت کی مدت کے بارے میں آگے آرہا ہے۔
امام مہدی کی صفات :
اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرح ہوگا، اوراس کے باپ کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم کے نام سے مطابقت رکھتا ہوگا۔ پس آپ کانام محمد بن عبد اللہ ہوگا۔ آل بیت سے ہوں گے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نسل سے ہوں گے۔
حسن بن علیؓ کی نسل سے ہونے میں حکمت:
جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے والد کی شہادت کے بعد خلیفہ بنے۔ اس وقت مسلمانوں کے دو امیر ہوگئے:
٭ سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ ، ان کی امارت عراق، حجاز اور دوسرے علاقوں میں تھی۔
٭ جناب معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما ، ان کی امارت شام اور اس کے گرد و نواح میں تھی۔
سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ خلیفہ رہنے کے بعد بغیر کسی دنیاوی معاوضہ کے؛صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی خاطر؛ اورمسلمانوں کے خون بچانے کی خاطر سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں تنازل کرلیا۔ جو انسان کسی چیز کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یا اس کی اولاد کو اس سے زیادہ عطا کرتے ہیں ۔ (المنار المنیف لابن قیم :۱۵۱)
آپ کی حکومت کی مدت :
آپ مسلمانوں پر سات سال تک حکومت کریں گے، اس مدت میں وہ زمین کو عدل سے ایسے بھر دیں گے جیسے اس سے پہلے ظلم سے بھر گئی تھی۔ ان کے دور میں اس امت پر بہت بڑی نعمتیں ہوں گی، زمین اپنی نباتات نکالے گی، آسمان پانی برسائے گا، اور مال بغیر گنے دیا جائے گا۔ اس بارے میں احادیث عنقریب آئیں گی۔
مہدی کہاں سے نکلے گا؟
مہدی محمد بن عبداللہ الحسنی العلوی مشرق کی جانب سے نکلے گا۔ وہ اپنے خروج کے وقت اکیلا نہیں ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ مشرق کے لوگوں سے اس کی مدد کریں گے، جو کہ دین دار ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔
آپ کے خروج کا وقت :
آخر زمانے میں جب لوگوں کا معاملہ نہایت مضطرب ہو گا تو خلفاء کی تین اولادیں کعبہ کی سیادت پر لڑیں گی۔ ان میں سے ہر ایک کعبہ پر اپنی سیادت اور غلبے کا ارادہ رکھتا ہو گا۔لیکن یہ ان میں سے کسی کو بھی حاصل نہ ہوگی۔ اس وقت مکہ میں امام مہدی کا ظہور ہو گا اور یہ بات لوگوں میں مشہور ہو جائے گی تو کعبہ کے پاس ، سمع ، اطاعت اور اتباع پر ان کی بیعت کی جائے گی۔
سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ تمہارے خزانے کے پاس تین فریق باہم لڑائی کریں گے اور تینوں ہی خلیفہ کے بیٹے ہوں گے لیکن یہ ان میں سے کسی ایک کو نہ ملے گا ۔ پھر مشرق کی جانب سے ایک بہت بڑی جماعت جھنڈوں کے ساتھ آتی ہو ئی نظر آئے گی وہ تم سے ایسا قتال کریں گے کہ کبھی کسی قوم نے ایسی لڑائی نہیں کی۔ سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، پھر آپ نے کچھ چیزیں ذکر کیں جنہیں میں یاد نہ رکھ سکا۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو اس کی بیعت کر لو اگرچہ تم کو گھٹنوں کے بل برف پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔‘‘
تمام خلیفہ کے بیٹے: …یعنی تین آدمی ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک کے پیرو کار ہوں گے اور ان تمام کے باپ بادشاہ ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک اپنے باپ جیسی بادشاہت کا مطالبہ کرے گا۔
تمہارا خزانہ:…ایک قول کے مطابق کعبہ کا خزانہ ، یعنی کعبہ کے نیچے سونا اور مدفون خزانہ ہے۔ ایک دوسرے قول کے مطابق حکومت اور خلافت ہے ، اور ایک قول کے مطابق وہ سونے کا پہاڑ ہے جو دریائے فرات سے نظر آئے گا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اہل مشرق کی اس کے ساتھ تائید ہو تی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں گے ، اس کی بادشاہت کو قائم کریں گے، اور اس کی حکومت کو مضبوط کریں گے اور ان کے جھنڈے سیاہ ہوں گے۔ یہ وقار اور رعب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا رنگ بھی سیاہ تھا جسے’’عقاب ‘‘ کہا جاتا تھا۔
سیّدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری اس اُمت کے آخر زمانے میں مہدی کا ظہور ہو گا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نفع مند بارش سے پانی پلائے گا ۔ زمین اپنا سبزہ اُگائے گی اور لوگوں کے درمیان برابری ہو گی۔ اور ( اس وقت) چرنے والے جانوروں کی کثرت ہو گی ، اور اُمت کی تعداد بڑھ جائے گی۔ وہ ستر یا اسی سال زندہ رہیں گے۔
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں : ’’پھر اس اُمت کے چلے جانے کے بعد والی زندگی میں کوئی خیر نہیں ہو گی۔‘‘
یعطي المال صحاحا:…اس کا مطلب ہے کہ لوگوں میں برابری ہو گی۔او ر یہ اس بات پر دلالت ہے کہ امام مہدی کی وفات کے بعد شر اور بڑے بڑے فتنوں کا ایک مرتبہ پھر ظہور ہو گا۔
امام ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی کا معاملہ معلوم ہے اور اس پر متواتر اور مستفیض احادیث دلالت کرتی ہیں اور اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی تواتر سے کم درجہ بیان نہیں کیا اور یہ تواتر معنوی ہے اس کی وجہ کثرت طرق اختلاف مخارج روات اور الفاظ ہیں ۔ اس حق کے ساتھ کہ اس شخص کا معاملہ ثابت اور اس کا ظہور حق ہے اور وہ شخص محمد بن عبداللہ علوی الحسنی ہے۔ جو سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں ، اور یہ اللہ کی رحمت سے آخر زمانہ میں اس اُمت کے امام ہوں گے جو حق اور عدل کو قائم کریں گے اور ظلم و جور کو روک دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی بدولت اُمت پر خیر کا جھنڈا لہرا دے گا جو لوگوں کے لیے عدل ، ہدایت ، توفیق اور رہنمائی کا باعث ہو گا۔
مہدی کے بارے میں وارد احادیث :
٭ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں ، وہ لوگوں میں اختلاف اور زلزلوں کے وقت نکلے گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے ایسے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس پر آسمانوں کے رہنے والے بھی راضی ہوں گے، اور زمینوں کے رہنے والے بھی اور مال کو صحیح تقسیم کیا جائے گا۔‘‘ ‘‘
توآپ سے ایک آدمی نے پوچھا: صحیح تقسیم سے کیا مراد ہے۔ ؟
آپ نے فرمایا: لوگوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ اور فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ امت محمد کے دلوں کو اس کے عدل سے بھر دے گا۔ یہاں تک کہ وہ ایک آواز لگانے والے کو حکم دے گا، وہ آواز لگائے گا: کسی انسان کو مال کی کوئی حاجت ہے ؟ تو لوگوں میں سے سوائے ایک آدمی کے کوئی بھی کھڑا نہیں ہوگا، یہ آدمی کہے گا: مجھے خازن کے پاس لے چلو۔ اور اس سے کہو کہ مہدی نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم مجھے مال دو۔ وہ اس سے کہے گا : اپنی لپیں بھر لو، یہاں تک کہ جب وہ اسے روکے گا تو وہ ظاہر ہوجائے گا۔ (یعنی جب اپنی جھولی مال سے بھرلے گا تو مال گرنے لگ جائے گا) اس پر وہ نادم ہوگا؛ او ر کہے گا: میں امت محمد میں سب سے حریص انسان ہوں ، یا اس چیز پر عاجز ہوگیاجو ان کے لیے کافی ہوگئی۔‘‘ فرمایا : پھر وہ اس مال کو واپس کردے گا تو اس سے کہا جائے گا: ہم وہ چیز واپس نہیں لیتے جو ہم نے دے دی ہو۔ ایسا یا تو سات سال ہوگا، یا آٹھ سال یا نو سال تک، پھر اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی بہتری نہیں ہے ۔‘‘ (مسند احمد، مجمع الزوائد)
٭ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مہدی ہم اہل بیت میں سے ہوگا۔ اسے اللہ تعالیٰ ایک رات میں صالح کردے گا ۔‘‘(مسنداحمد)
ایک رات میں صالح کردے گا: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خلیفہ بننے کا اہل بنادے گا۔ یہ اسے توفیق دے گا، اور الہام کرے گا اور اس کی رہنمائی کرے گا۔ اسے قیادت کی صفات اور حکمت سے نوازے گا،جو کہ اس سے پہلے اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
اور کہا گیا ہے کہ اس مراد یہ ہے کہ ایک رات میں اس کے تمام معاملات کی اصلاح ہوجائے گی، اور اس کی قدر بلند ہوجائے گی اور اس کی بیعت پر تمام اہل حل و عقد کا اتفاق ہوجائے گا۔ (المرقاۃ: ۵/۱۸۰)
ان احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تک مہدی کو خود بھی ہر گز یہ پتہ نہیں ہوگا کہ وہ وہی مہدی ہے جس کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ یہاں تک کہ لوگ اس کی بیعت کریں گے، اور اس پر اتفاق ہوجائے گا۔ وہ خود نہ ہی خلافت کا طلب گار ہوگا اور نہ ہی اس کے ذہن میں یہ بات ہوگی۔ اسی لیے جب لوگ اس کی بیعت کریں گے تو وہ اس بات کو نا پسند کرتا ہوگا۔
اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ اس سے پہلے گمراہ اورگنہگار انسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اسے ایک رات میں نیکو کار بنا دیں گے۔اور صبح وہ لوگوں کی قیادت کرنے لگے جائے گا۔ اس لیے کہ مہدی لوگوں کی قیادت شرعی علم کی رو سے کرے گا وہ ان کے مابین فیصلے کرے گا اور فتوے دے گا؛ او ران کے جھگڑے ختم کرے گا؛ اور جنگی معرکوں میں ان کی قیادت کرے گا۔ یہ علم ایک رات میں صرف وحی کے ذریعہ ہی آسکتا ہے۔ جب کہ وحی صرف انبیاء پر آتی ہے، جب کہ مہدی نبی نہیں ہوں گے، بلکہ امت کے ایک فرد ہوں گے۔
اس کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایک رات ہی اس بات کو سمجھ لیں گے اور اس پر قناعت کرلیں گے کہ احادیث میں وارد مہدی سے مقصود وہی ہے۔ اور انہیں وہ قائدانہ صفات دی جائیں گی جو اللہ کی مشیت میں ہوں گی۔
٭ سیّدہ م سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مہدی میری عترت میں سے ہوگا وہ فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد)
٭ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر مہدی کہیں گے: آئیے ! ہمیں نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے : نہیں ، بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اکرام ہوگا ۔‘‘ (المنار المنیف: ۱۴۷؛ صحیح)
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ دجال حضرت امام مہدی کے زمانے میں نکلے گا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اوردجال کوقتل کریں گے اور مہدی ہی مسلمانوں کا قائد اور امام رہے گا؛ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور باقی مومنین ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
٭ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ ہم میں سے ایک آدمی ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نماز پڑھیں گے۔‘‘ (ابو نعیم ، فیض القدیر)
مقصود یہ ہے کہ مہدی امام کی حیثیت سے نماز پڑھائیں گے، اور ان کے پیچھے جملہ مقتدیوں میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بھی نماز پڑھ رہے ہوں گے۔
٭ سیّدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اگر دنیاکے ختم ہونے میں ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ نے اس دن کو اتنا لمبا کر دیں گے یہاں تک کہ ایک آدمی مجھ سے ؛یا فرمایا کہ اہل بیت میں سے بھیجیں گے ؛جس کا نام میرے نام سے اور جس کے والد کے نام میرے والد کے نام سے مطابقت رکھتا ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد )
اس حدیث کی بنا پر مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا۔ اس حدیث میں شیعوں پر رد ہے جو کہتے ہیں : محمد بن حسن عسکری مہدی ہے۔
( بھیجیں گے): سے مراد ہے ظاہر کریں گے۔
ایک حدیث میں یہ زیادہ ہے کہ : اگر زمانے کا صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا ہوگا تب بھی ضرور اللہ تعالیٰ میر ے اہل بیت میں سے ایک آدمی کو ظاہر کریں گے جو زمین کو عدل سے ایسے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔
اور ایک روایت میں ہے :’’ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عربوں پر میری نسل سے ایک آدمی بادشاہ نہ بن جائے۔ اس کا نام میرے نام کی طرح ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد)
اس حدیث میں عربوں پر بادشاہ بننے سے مقصود مسلمانوں پر حکمران بننا ہے مگر عربوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ ابتدا ان سے ہوگی، پھر سارے مسلمانوں میں ان کی حکومت پھیل جائے گی۔
نیز یہ کہ قرآن کی تلاوت اور عربی زبان کی معرفت کے اعتبار سے ہر مسلمان عربی شمار ہوتا ہے۔
٭ سیّدنا زر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری نسل سے ایک آدمی حکمران نہ بن جائے۔ اس کا نام میرے نام کی طرح ہوگا۔‘‘ (مسند احمد)
٭ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اگر زمانے کا صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا ہوگا تب بھی ضرور اللہ تعالیٰ میر ے اہل بیت میں سے ایک آدمی کو بھیجیں گے جو زمین کو عدل سے ایسے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔‘‘
ایک روایت میں ہے :
’’اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا ہوگا تب بھی ضرور اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو بھیجیں گے جو زمین کو عدل سے ایسے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔‘‘ (ابو داؤد)
یہ تمام احادیث مہدی محمد بن عبداللہ کے ذکر اور ان کے نام اور صفات پر صریح نص ہیں ۔
کچھ دیگر احادیث:
٭ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ عنقریب اہل عراق کی طرف(خراج) میں نہ کوئی قفیز آئے گا اور نہ ہی کوئی درہم ۔‘‘ہم نے عرض کیا : ایسا کہاں سے ہوگا؟ فرمایا: عجمیوں کی طرف سے، وہ اسے روک لیں گے۔
پھر فرمایا: ’’ قریب ہے کہ اہل شام کی طرف(خراج) میں نہ کوئی دینار آئے گا اور نہ ہی کوئی’’ مد‘‘ ہم نے عرض کیا : ایسا کہاں سے ہوگا؟ فرمایا: ’’اہل روم کی طرف سے، وہ اسے روک لیں گے۔ ‘‘
’’ مد‘‘ اہل شام کا وزن کرنے کا پیمانہ ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہمارے ہاں کلو گرام وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔
پھر فرمایا: ’’میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو بغیر شمار کیے لپ بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کرے گا؛ وہ اس کی گنتی نہیں کرے گا۔‘‘
راوی سعید الجریری کہتا ہے کہ میں نے ابو نضرہ اور ابوالعلاء سے کہا کیا تم خیال کرتے ہو کہ وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں تو ان دونوں نے کہا نہیں ۔ (مسلم)
سابقہ احادیث کی روشنی میں یہ امام مہدی ہیں ، جن کے نام و کام اوران کے دور میں مال غنیمت کی کثرت ؛ اسلامی فتوحات اور ان کی سخاوت ؛ اور لوگوں کے لیے بھلائی کے کام کرنے پر یہ احادیث دلالت کرتی ہیں ۔
٭ سیّدناعائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نیند میں حرکت کی۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آج آپ نے نیند میں ایسی حرکت کی ہے جو آپ کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: حیرانگی ہے میری امت کے کچھ لوگ اس گھرپر ایک آدمی کی وجہ سے لشکر کشی کررہے ہیں جو اس گھر (بیت اللہ) میں پناہ گزین ہے۔ جب وہ بیداء یعنی صحراء میں پہنچے تو زمین میں دھنس گئے۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! راستے میں تو ہر رنگ کے لوگ جمع ہوتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا:
’’ ہاں ان میں جاننے والے بھی ہوں گے اور مجبور بھی اور راہ گیر بھی۔ وہ تمام یکدم ہلاک ہوجائیں گے، اور انہیں مختلف رنگوں میں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیتوں پر اٹھائیں گے۔‘‘ (مسلم)
مقصود یہ ہے کہ اس پورے لشکر کو یکبارگی زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پر جب قامت کا دن ہوگا تو اپنی اپنی نیت کے مطابق ہی اٹھیں گے۔ ان کے احوال مختلف ہوں گے، ان میں سے کوئی صاف نیت کی وجہ سے جنت میں جائے گا تو کوئی دوسرا بری نیت کی وجہ سے جہنم کا ایندھن بنے گا۔
٭ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ ایک آدمی (امام مہدی ) کی بیعت حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان میں کی جائے گی۔ اور اس گھر کو نہیں حلال سمجھیں گے مگر یہاں کے رہنے والے۔ جب وہ اس کو حلال سمجھنے لگیں تو پھر عربوں کی ہلاکت کا مت پوچھیں ۔پھر اس کے بعد حبشہ آئیں گے، وہ اس گھر کو ایسے خراب کریں گے کہ اس کے بعد کبھی بھی آباد نہیں ہوگا۔ اوروہی لوگ اس کا خزانہ نکالیں گے۔‘‘ (مسند احمد)
٭ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔‘‘ (متفق علیہ)
یہاں پر مقصود مہدی محمد بن عبد اللہ ہیں ، جیسا کہ حدیث نمبر۵ میں بھی گزر چکا۔
٭ سیّدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا، وہ قیامت تک غالب ہی رہیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر مہدی کہیں گے، آئیے ! ہمیں نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے : نہیں ، بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے امیر ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اکرام ہوگا ۔‘‘ (مسلم ، مسند احمد)
یہاں پر بھی نماز میں امام سے مقصود امام مہدی ہیں ۔
فائدہ :…حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مہدی کے پیچھے نماز پڑھنے سے یہ معنی نہیں نکل آتا کہ امام مہدی عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی مرض الموت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔ اور ایسے ہی عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی۔پس عیسیٰ علیہ السلام بھی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھیں گے تاکہ ظاہر کردیں کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع بن کرنازل ہوئے ہیں ۔ اور آپ کی شریعت کے مطابق حکم کرنے والے ہیں ۔ پھر اس کے بعد امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں نمازیں پڑھتے رہیں گے، اور آپ کے لشکریوں میں سے ایک ہوں گے۔
٭ سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ خلافت تمام نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمانوں میں بارہ خلیفہ نہ ہولیں ۔ پھر آپ نے آہستہ سے کچھ فرمایا۔ میں نے اپنے باپ سے پوچھا: آنحضرت کیا فرمایا؟ فرمایا: یہ سب قریش میں ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ لازمی طور پر بارہ عادل خلیفہ پائے جائیں ۔ان سے مراد شیعہ کے بارہ امام نہیں ہیں ۔ اس لیے کہ ان میں سے تو بہت سارے ایسے ہیں جن کوکوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ جب کہ یہ بارہ قریش میں سے ہوں گے؛حکمران بنیں گے، اور عدل پھیلائیں گے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر: ۶/ ۱۷۸)
٭ ام المومنین سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس گھر (بیت اللہ) پر ضرور بالضرور ایک لشکر حملہ آور ہوگا، یہاں تک کہ جب وہ صحراء میں پہنچیں گے تو ان کے درمیان والے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے، پھر ان کے اگلے پیچھے والوں کو آواز دیں گے۔ پھر وہ بھی سارے زمین میں دھنس جائیں گے ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا ؛ یہی انسان لوگوں کو جاکر خبر دے گا۔‘‘ (مسلم)
٭ ام المومنین سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں (اگلاخلیفہ منتخب کرنے میں ) اختلاف ہوجائے گا۔ اس دوران ایک آدمی مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگے گا۔پھر اس کے پاس اہل مکہ میں سے لوگ آئیں گے، اور اسے خلافت کے لیے نکالیں گے لیکن وہ اسے ناپسند کرتے ہوں گے۔ پھر لوگ ان کے ہاتھ پر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے۔ پھر (ان پر حملہ کے لیے)اہل شام ایک لشکر بھیجیں گے۔ تو وہ لشکر’’بیداء‘‘ کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ جب لوگ اس لشکر کو دیکھیں گے تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں ان کے پاس آئیں گی ؛اوران کے ہاتھ پر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گی۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی اٹھے گا جس کے ننھیال بنی کلب میں ہوں گے؛ وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا تو وہ اس لشکر پر غلبہ حاصل کرلیں گے۔ وہ بنوکلب کا لشکر ہوگا اور ناکامی ہو اس شخص کے لیے جو بنوکلب کے اموال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔وہ ( مہدی) مال غنیمت تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کریں گے۔ اسلام پر اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (سارے کرۂ ارض پر اسلام پھیل جائے گا) پھر اس کے بعد سات سال تک وہ زندہ رہیں گے، پھر ان کا انتقال ہوجائے گا۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
امام ابوداد فرماتے ہیں : ’’ایک روایت میں ہے کہ وہ نوسال تک زندہ رہیں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
امام مہدی کے بارے میں احادیث ثابت شدہ ہیں ، ان کے بارے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مہدی کی احادیث روایت کی ہیں ۔جنہیں ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔اور علمائے کرام نے ہمیشہ ان دلائل سے استدلال کیا ہے، یہاں تک کہ مسئلہ امت مسلمہ کا متفق علیہ مسئلہ بن چکا ہے۔ امام مہدی کے بارے میں احادیث کے متواتر ہونے کا بذیل ائمہ نے دعویٰ کیا ہے :
٭امام سفارینی رحمہ اللہ ٭امام شوکانی رحمہ اللہ ٭نواب محمد صدیق خان رحمہ اللہ جھوٹے مہدیوں پر ایک طائرانہ نظر:
تاریخ میں غور وفکر کرنے پر معلوم ہوگا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ؛ جب کہ مسلمان بھی مختلف قسم کے مظالم کا سامنا کرتے ہوئے گزرے ہیں ، اور ان میں حاکموں نے بڑا ظلم وستم بھی روا رکھا ہے، پتہ چلتا ہے کہ اس عرصہ میں ایسے لوگ بھی ظاہر ہوئے ہیں جو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مہدی ہیں ۔ اور لوگوں نے بھی ان کے متعلق اسی گمان کو عقیدہ بنالیا؛ مہدی کا دعویٰ کرنے والے ان لوگوں میں سے…
۱۔ رافضي گمان کرتے ہیں کہ ان کا ایک مہدی ہے جس کا وہ انتظار کررہے ہیں ۔ یہ ان کے بارہ اماموں میں سے آخری امام ہے۔ ان کے ہاں اس کا نام محمد بن الحسن العسکری ہے۔ ان کے ہاں وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے۔ حضرت حسن بن علی کی اولاد میں سے نہیں رضی اللہ عنہم اجمعین
رافضی عقیدہ
وہ عقیدہ رکھتے ہیں :
٭ یہ کہ مذکورہ امام آج سے ہزار برس سے زیادہ پہلے ۲۶۰ ہجری میں سامراء کے غار میں داخل ہوگیا۔
٭ غار میں داخل ہونے کے وقت اس امام کی عمر پانچ سال تھی۔ وہ اس وقت سے لے کر اب تک اس غار میں رہا ہے، ابھی تک مرا نہیں ، پھر آخری زمانے میں نکلے گا۔
٭ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ امام تمام شہروں میں حاضر و ناضر ہوتا ہے ؛ لوگوں کو احوال جانتا ہے، بس آنکھوں سے غائب رہتا ہے، دیکھا نہیں جاسکتا۔
ان کی یہ باتیں ایسی حماقت ہیں جن پر نہ ہی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی سند یا گواہی، نہ ہی اسے عقل تسلیم کرتی ہے۔ بلکہ بشریت کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت کے مخالف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور رسول جو کہ اللہ کے ہاں ساری مخلوق سے افضل ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی موت دی ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انبیاء و مرسلین کو تو اللہ تعالیٰ موت دے دے، اور مہدی کو زندہ چھوڑ دے، اسے اس حال میں بارہ سوسال ہونے کو ہیں ، جیسے کہ ان لوگوں کاگمان ہے۔
پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ زندہ رہتے ہوئے اتنے لمبے عرصہ سے غائب رہنے اور چھپ جانے کی وجوہات کیا ہیں ؟ وہ باہر کیوں نہیں نکلتا، تاکہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے، اور برائی سے منع کرے۔ جب کہ خصوصاً اس دور میں امت کو اس کی بڑی ضرورت ہے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ امام مہدی پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
امام مہدی کا ظہور بلاد مشرق میں ہوگا نہ کہ سرداب سامراء سے۔ جیسے کہ جاہل رافضیوں کا گمان ہے کہ وہ اب بھی اس غار میں موجود ہے۔ اور وہ آخری زمانے میں اس امام کے خروج کا انتظار کررہے ہیں ۔ یہ تو بہکی ہوئی بات لگتی ہے۔ اور شیطان کی طرف سے رسوائی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ اس لیے کہ ان کے اس عقیدہ پر کوئی دلیل اور برہان موجود نہیں ہے۔ نہ ہی کتاب وسنت میں سے، اور نہ ہی معقول اور نہ ہی استحسان سے کوئی دلیل ہے ۔‘‘ (البدایہ والنہایۃ)
۲۔ عبد اللہ بن سبا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ آپ ہی مہدی منتظر ہیں ، اور آپ اس دنیا میں لوٹ کر آئیں گے۔
۳۔ مختار بن عبید ثقفي نے دعویٰ کیاتھا کہ محمدبن حنفیہ (المتوفی۸۱ھ) مہدی منتظر ہیں ۔ محمد بن حنفیہ کا صحیح نام محمد بن علی بن ابو طالب ہے۔ اور ان کا نام محمد بن حنفیہ ان کی والدہ محترمہ خولہ بنت جعفر کی طرف نسبت کی وجہ سے پڑ گیا، ان کا تعلق قبیلہ بنی حنفیہ سے تھا۔
۴۔ کیسانی فرقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غلام کیسان کے پیروکار ہیں ۔ یہ بھی ایک شیعہ فرقہ شمار ہوتا ہے۔ ان کے اپنے امام محمد بن حنفیہ کے متعلق عقیدہ ہے کہ وہ تمام علوم کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔ اور ان کا اس قول پر اجماع ہے کہ دین کسی مرد کی اطاعت کا نام ہے۔ اس بات کی وجہ سے انہوں نے ارکان شریعت میں تاویل رجال پرکی ؛ اور ارکان شریعت کو معطل کردیا۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ عبد اللہ بن معاویہ بن عبداللہ بن جعفر بن علی بن ابو طالب الہاشمی القرشی مہدی منتظر ہے۔
۵۔ محمد بن عبد اللہ بن الحسن بن علي بن ابو طالب (المعروف بہ نفس زکیہ ؛ متوفی ۱۴۵ ہجری) جو کہ بڑے ہی عابد و زاہد تھے، ان کے زمانے میں ان کی وجہ سے بعض لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے ؛ اور گمان کرنے لگے کہ یہی مہدی منتظر ہیں ۔
انہوں نے ایک تحریک اٹھائی تھی، جس میں ان کے بہت سارے پیروکار شریک تھے۔ انہوں نے حالات سدھارنے کی بڑی کوشش کی، مگر اس وقت کے عباسی حکمرانوں نے ان سے جنگ کی۔ان کے لشکر کی تعداد دس ہزار تھی۔ نیتجہ آخر کار یہ رہا ہے کہ تحریک ختم ہوگئی۔ نفس زکیہ کا خروج عباسی حاکم منصور کے خلاف تھا ؛ جس کے دور میں ظلم وستم پھیل چکاتھا۔
۶۔ میمون قداح بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ہے۔ جس کا انتقال ۳۲۵ ہجری میں ہوا۔ اس کا دادا یہودی تھا , یہی شخص قرامطہ کا سرغنہ تھا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا، اور حجر اسود کی چوری کی ؛یہ ۳۱۷ ہجری کا واقعہ ہے۔ یہ انسان یہود و نصاریٰ سے بھی بڑا بد بخت تھا۔
اس کے بیٹوں کو غلبہ اور حکومت حاصل ہوگئی تھی اور مصر، حجاز اور شام پر ان کا غلبہ ہوگیاتھا۔ یہ جھوٹ سے خود کو اہل بیت کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وہ خیال ظاہر کرتے تھے کہ ان کا تعلق سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہے۔
اسی لیے ان کو فاطمی بھی کہا جاتا تھا۔ انہوں نے شافعی قاضیوں کو ہٹادیا، اور قبروں پر عمارتیں اور درگاہیں تعمیر کیں ۔ ان کی وجہ سے مسلمان ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔
قرامطی اسلام کا اظہار کرتے تھے، مگر حقیقت میں وہ ملحد تھے۔ وہ تمام ملتوں اور ان کے مذاہب: مجوسی، آتش پرست، کواکب پرست، اور صابیوں کے مذہب سے بھی نکل چکے تھے۔ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ فاطمیوں کی حکومت ۲۸۰ سال تک رہی۔ عبید اللہ القداح نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مہدی ہے، اور اس نے مہدیہ نامی شہر بھی آباد کیا تھا۔‘‘ (البدایہ و النہایہ: ۱۲/۳۳۱)
۷۔ محمد بن عبد اللہ البربري بھی ان میں سے ایک ہے ، جن لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔جو کہ ابن تومرت کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا ظہور ۵۱۸ ہجری میں ہوا، اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہ علوی، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہے۔ اور اپنی طرف سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما تک ایک نسب نامہ بھی گھڑ کر تیار کرلیا۔
اس نے ظلم سے غلبہ حاصل کرلیا۔ یہ طرح طرح کے حیلے کیا کرتا تھاتاکہ لوگوں کو دھوکہ دے سکے۔ اور ان سے کہتا کہ یہ اس کی کرامات ہیں ۔ اس کے حیلوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے قبروں میں کچھ آدمی چھپادیے، اور پھر لوگوں کی ایک جماعت کولے کر قبرستان میں پہنچ گیا اور آواز لگائی : اے مردو ! جواب دو میں کون ہوں ؟ قبروں میں چھپے لوگوں نے جواب دیا : تم مہدی ہو، فلاں بن فلاں ، تم معصوم ہو؛ وغیرہ وغیرہ۔
پھر اسے خوف محسوس ہوا کہ کہیں یہ خبر باہر لوگوں تک نہ پھیل جائے کہ اس نے قبرستان میں لوگ چھپائے ہوئے تھے، اس خوف سے اس نے وہ قبریں بند کروادیں اور کفر کے یار بے یار و مدد گار قبروں میں ہی دفن ہو گئے۔
۸۔ محمد بن عبد اللہ سوڈاني (متوفی ۱۳۰۲ ہجری) بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ یہ صوفی منش انسان تھا ؛ جو زہد وورع میں مشہور تھا۔ جس وقت مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تب اس کی عمر ۳۸ برس تھی۔ قبیلوں کے سردار اور بڑے مہدویت کے دعویٰ کے بعداس کے پاس پہنچنے شروع ہوگئے۔ اس کا خیال یہ تھا کہ جوکوئی اس کے مہدی ہونے میں شک کرتا ہے وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کفر کرتا ہے۔ اس طرح کے اس دیگر بھی کئی لا یعنی قسم کے دعوے تھے۔ اگرچہ انگریزوں کے ساتھ جنگوں میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے، اور اچھا کردار رہا ہے، مگر یہ انسان بھی حقیقی مہدی نہیں تھا، بلکہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک تھا۔
۹۔ محمد بن عبد اللہ القحطاني بھی ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔اس کا ظہور سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہوا، اس نے ایک خواب دیکھا تھا جس سے سمجھ بیٹھا کہ وہ مہدی منتظر ہے۔ لوگوں کی ایک جماعت نے اس کی بیعت کی، اور ۱۹۸۰ ء میں مسجد الحرام میں قلعہ بند ہوگئے۔ یہ حادثہ فتنہ حرم کے نام سے شہرت پایا۔جس کا انجام کار آخر میں اس انسان کے قتل پر ہوا۔
مہدی ہونے کے دعویداروں کے ساتھ سلوک کے ضابطے :
اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ جب ہم کسی مہدی ہونے کے دعویدار پر رد کرتے ہیں تو ہم مہدی کے بارے میں وارد احادیث کو جھٹلاتے ہیں ، ایسا ہر گز نہیں ، لیکن یہ بھی بہت ضروری ہے کہ مہدی کے بارے میں وارد احادیث کی تصدیق، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اورآپ کا کلام ہیں ، اور مہدی ہونے کے دعویدار کے مابین فرق کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملے کو یونہی مہمل نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس کے لیے نشانیاں اور ضابطے بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں معلوم ہوجاتا ہے کہ مہدی بغیر کسی شک و شبہ کے کون ہے۔ ان نشانیوں میں سے :
۱۔ مہدی لوگوں کو اپنی اتباع کی دعوت نہیں دے گا، اورنہ ہی لوگوں میں اپنی بیعت کے لیے منادی کرائے گا بلکہ لوگ جب اس کی بیعت کریں گے تووہ اس کو نا پسند کرتا ہوگا۔
۲۔ مہدی کا نام اورولدیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک اور ولدیت سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے ہوں گے۔
۳۔ اس کا نسب حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے جا ملتا ہوگا۔
۴۔ اس پر کچھ پیدائشی صفات مطابقت رکھتی ہوں گی، جیسے : کشادہ جبین اور ابھری ہوئی ناک وغیرہ۔
وہ حالات جن میں مہدی کا ظہور ہوگا:
٭ ایک خلیفہ کی موت کے بعد واقع ہونے والا اختلاف۔
٭ زمین کا ظلم و جور سے بھر جانا۔
٭ تین آدمیوں کا آپس میں لڑنا ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہوگا۔
٭ مہدی کا نیکو کار اور صالح ہونا ؛ اور اس کے پاس شرعی علم وحکمت کا ہونا۔
٭ یہ کہ مذکورہ مہدی کا ظہور مکہ میں ہوگا، اور مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان اس کی بیعت کی جائے گی۔
مسئلہ : …کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ خود اپنے متعلق یا دوسروں کے متعلق دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مہدی ہے ؟
جواب : …بعض لوگ غلبہ حاصل کرنے اور حکومت کی لالچ میں جھوٹا اور بہتان پر مبنی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مہدی ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو ان پر مہدی کی ایک نشانی بھی پوری نہیں آتی ؛ مثلاً : عبید اللہ القداح، ابن ترموت۔ بعض لوگوں کو اس معاملے میں اشتباہ ہوجاتا ہے۔ اور لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ فلاں انسان مہدی ہے، جیسے نفس زکیہ کے ساتھ ہوا۔ جب آپ کا ظہور ہوا تو آپ کے ساتھ بہت سارے پیروکار بھی تھے۔ پھر واضح ہوگیا کہ آپ مہدی نہیں ہیں ۔
بعض لوگوں کا معاملہ مشہور ہوجاتا ہے، اور اس کے بارے میں کثرت سے خواب مشہور ہوجاتے ہیں ۔ اور لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہی مہدی ہے جیسے محمد بن عبد اللہ القحطانی۔
خوابوں کے ساتھ ایک لمحہ :
امت کے بارے میں فیصلے کرنے، اورکوئی بھی حکم جاری کرنے کے لیے خوابوں اور سپنوں پراعتماد نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس سے کم درجہ کے کسی کام میں محض خواب پر اعتماد ہوسکتا ہے۔
شریک بن عبد اللہ القاضی خلیفہ مہدی کے پاس حاضر ہوئے، مہدی بالکل بدلا ہوا، اور غصہ سے بھرا ہوا لگ رہا تھا۔ قاضی شریک نے کہا: ’’ امیر المومنین کا کیا حال ہے ؟ ‘‘
تو مہدی بولا: میں نے تمہیں آج رات خواب میں دیکھا ہے، تم میرے بستر پر لیٹے ہو۔ تو میں نے ایک تعبیر کرنے والے سے تعبیر پوچھی، ان کے کہا : تم مجھ سے بغض رکھتے ہو، اور میرے خلاف سازشیں کرتے ہو۔
قاضی شریک نے کہا : ’’اے امیر المومنین ! اللہ کی قسم، نہ ہی تو تیرا خواب ابراہیم علیہ السلام کا خواب ہے اور نہ ہی تیرے خواب کی تعبیر کرنے والا یوسف علیہ السلام ہے۔‘‘
یہ قاضی شریک کی طرف سے خلیفہ پر کھلا ہوا رد ہے، جس کا تعلق صرف ایک شخص سے تھا، پھر کیسے کسی خواب پر اس طرح اعتماد کیا جاسکتاہے جس کا تعلق پوری امت کے مستقبل سے ہو۔
باپ بیٹے کو ذبح کرتا ہے :
میں نے ایک دن اخبار میں پڑھا کہ ایک افریقی آدمی نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہے۔ جب صبح ہوئی تو اس نے اپنے بیٹے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کردیا، اور انتظار کرتا رہا کہ اس کے بیٹے کی جگہ مینڈھے کی قربانی پیش کی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کی قربانی دی تھی۔
جب اس جاہل سے سوال کیا گیا کہ تم نے ایسے کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا : میں نے ایسا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں ، اور یہ آیات پڑھیں :
’’بیٹا میں خواب میں یہ دیکھتا ہوں جیسے تجھ کو ذبح کررہا ہوں تو بھی سوچ کر دیکھ تیری رائے کیا ہے لڑکے نے کہا باوا جو(اللہ کا حکم تجھ کو ہوا ہے اس کو (فوراً ) بجالاؤ تو دیکھے گا اللہ نے چاہا میں ضرور صبر کروں گا۔جب باپ اور بیٹا دونوں (اللہ کا حکم بجالانے پر ) مستعد ہوگئے اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل (اوندھا) پچھاڑا۔ اورہم نے ابراہیم کو پکارا، اے ابراہیم! تو نے (اپنا ) خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوں کو ایسا (ان کی نیکی کا) ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ۔بے شک یہ کھلی آزمائش تھی۔اورہم نے اس لڑکے کے صدقے میں ایک بڑی قربانی دی۔‘‘ (الصافات: ۱۰۱-۱۰۷)
یہ جہالت کی انتہاء ہے۔ ایک جاہل انسان کا خواب نبی کے خواب کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جس کے پاس وحی آتی ہو؟ اگر خواب اچھا ہو تو اس پر اللہ کی حمد بیان کریں اور خوشخبری پائیں ۔ اگر خواب برا ہو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگیں ، یہ آپ کوکچھ بھی نقصان نہیں دے سکے گا۔
قاعدہ : …جو کوئی دعویٰ کرے کہ وہ مہدی ہے، اور پر نشانیاں پوری نہ اتر رہی ہوں ۔ اور نہ ہی اس کے زمانے میں دجال کا خروج ہو، تو وہ خود جھوٹا دجال ہے۔ اور جوکوئی دعویٰ کرے کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہے، اور اس سے پہلے دجال نہ نکلا ہو تو جان لو کہ وہ خود دجال کذاب ہے۔
مہدی کے بارے میں عادلانہ نظر:
اہل سنت والجماعت کے ہاں مہدی ایک عادل امام اور منصف حکمران سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔ وہ لوگوں میں عدل کے ساتھ فیصلے کرے گا اور عدل کوپھیلائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتوحات عطا کریں گے۔ لیکن وہ گناہوں سے پاک (معصوم ) نہیں ہوگا جیسے بعض لوگوں کا خیال ہے۔
مہدی کے منکرین:
بعض علماء نے مہدی کا انکار کیا ہے۔ ان میں سے :
ابن خلدون : ابن خلدون مہدی کے مسئلہ میں متردد ہیں ، اور انہوں نے اس بارے میں وارد ہونے والی احادیث پر تنقید کی ہے۔ آخر میں کہا ہے : ’’میری نظر میں ان احادیث میں سے تنقید سے بہت کم ہی احادیث بچ پائی ہیں ۔‘‘ (مقدمہ تاریخ ابن خلدون: ۱/ ۵۷۴)
محمد رشید رضا: انہوں نے کہا ہے : ’’ احادیث مہدی میں تعارض قوی اور ظاہر ہے اور ان روایات کو آپس میں جمع کرنا بہت مشکل ہے اور اس کا انکار کرنے والے بہت زیادہ ہیں ۔ اوراس میں شبہات صاف ظاہر ہیں ۔ اسی وجہ سے امام بخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں ان میں سے ایک روایت بھی ذکر نہیں کی۔ بہت سارے ائمہ مسلمین نے احادیث مہدی کوضعیف کہا ہے ۔‘‘ (تفسیر المنار: ۹/ ۴۱۶)
احمد امین : وہ کہتا ہے : ’’ مہدی کے بارے میں وارد احادیث خرافات ہیں ، جن پر مسلمانوں کی زندگی میں بہت خطرناک نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔‘‘ (ضحی الاسلام: ۳/۲۴۳)
عبد اللہ بن زید آل محمود : ’’ مہدی کے بارے میں دعویٰ شروع سے آخر تک واضح جھوٹ اور بد اعتقادی پر مبنی ہے۔ اصل میں یہ خرافات قسم کی روایات ہیں ۔ جنہیں ایک دوسرے سے نقل کیا جاتا رہا ہے۔ اور اس میں بہت ساری جھوٹی احادیث بھی لوگوں کو ڈرانے اور سیاست چمکانے کے لیے گھڑ لی گئی ہیں ۔‘‘ (لا مہدی منتظر بعد الرسول خیر البشر ص: ۵۸)
محمد فرید وجدي:اس کا کہنا ہے : ’’مہدی منتظر کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہے، ان کو دیکھنے والے صاحب بصیرت انسان پر یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بری ہیں ۔ اس لیے کہ ان روایات میں غلو ہے، اور تاریخ میں ایک خبط ہے جو کہ مبالغہ آرائی میں غرق ہے۔لوگوں کے معاملات سے جہالت اور اللہ تعالیٰ کی معروف سنتوں سے دوری ان احادیث کے مطالعہ کا پہلا احساس ہے اور یہ کہ یہ احادیث جھوٹی اور من گھڑت ہیں ۔ جنہیں بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور حکومت کی لالچ رکھنے والوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ۔‘‘ (دائرہ المعارف بیسویں صدی: ۱۰/ ۴۸۱)
ان لوگوں کے اس بارے میں دلائل :
۱۔ قرآن کریم نے مہدی کا ذکر نہیں کیا، اگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہوتا تو قرآن اس کو ضرور ذکر کرتا۔
جواب: …بے شک قرآن نے تمام قیامت کی نشانیوں کا ذکر نہیں کیا ؛ پس قرآن میں دجال کا ذکر نہیں ، آخری زمانے میں واقعہ ہونے والے زمین میں دھنسنے کے واقعات کا ذکر نہیں وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ یہ تمام چیزیں سنت میں بیان ہوئی ہیں ۔ جب کوئی چیز سنت سے ثابت ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا سنت کے بارے میں فیصلہ ہے :
’’وہ اپنی خواہش سے بات تک نہیں کرتے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔‘‘ (النجم :۳)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
’’مجھے قرآن اور اس کی طرح دیا گیا ہے ۔‘‘ (بخاری)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ فرما دیا تو وہ ثابت ہوجاتی ہے۔پس یہ بھی ثابت شدہ دین میں سے ہے۔
۲۔ مہدی کے بارے میں بخاری ومسلم میں کوئی حدیث نہیں ؟
جواب : …امام بخاری اور مسلم نے تمام احادیث نبویہ کو جمع نہیں کرلیا بلکہ ان کے علاوہ بھی کتب سنہ کے جامعین محقق ائمہ ہیں جنہوں نے یہ احادیث جمع کی ہیں اورہمارے پاس ایسے طریقے ہیں جن کی وجہ سے صحیح حدیث اور ضعیف یا موضوع حدیث میں فرق کیا جاسکتا ہے۔ جب کوئی حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرنا واجب ہوجاتا ہے ؛ خواہ وہ حدیث بخاری و مسلم میں ہو یا کسی دوسری کتاب میں ۔
پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امام بخاری اور مسلم نے مہدی کی صفات والی احادیث ضرور روایت کی ہیں جیسا کہ اس سے پہلے گزر بھی چکا ہے مگر ان میں مہدی کے نام کی وضاحت یا صراحت نہیں ہے۔
۳۔ ہم نہیں چاہتے کہ مہدویت کے دعویداروں کا دروازہ کھول دیں ؟
جواب : …جب ہم کسی معاملے کو شرعی ضابطوں میں مقید کردیتے ہیں تو ایسا دروازہ نہیں کھلتا، پس مہدی کی خاص پیدائشی نشانیاں ہیں ، اور وہ خاص حالات ہوں گے جن میں مہدی کاظہور ہوگا۔ جیسے کہ پہلے بیان کیا جاچکاہے۔ یہ نشانیاں صرف ایک ہی آدمی پر برابر آئیں گی۔
آخر میں …کیا مہدی پر ایمان رکھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ہم عمل اوردعوت ترک کرکے بیٹھ جائیں ؟جب کہ خیر و شر کی کشمکش جاری ہے، فساد عام اور پھیلا ہواہے اور بہت سارے ملکوں میں خیر کی دعوت بہت ہی کمزور پڑگئی ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سارے مسلمانوں کے دلوں میں مایوسی اور نا امیدی پیدا ہوچکی ہے۔ اب وہ مہدی کا انتظار کرنے لگے ہیں تاکہ وہ انہیں فتح و نصر ت کی طرف لے کر جائے۔
اس کے ساتھ ہی یہ لوگ دعوت وعمل ترک کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بالکل خاموش ہیں اور علم کی طلب اور اس کی نشرو اشاعت سے کمزور پڑگئے ہیں ۔ بلکہ تجارت، عمل اور تعمیر و ترقی میں بھی تقریباً ان کا یہی حال ہے۔ اور ان میں سے کوئی ایک اپنے جی میں کہتا ہے : معاملہ اس سے زیادہ قریب تر ہے ؛ یہ زمانہ ظہور مہدی کا زمانہ ہے۔
اورقیامت کی نشانیوں کے بارے میں وارد احادیث میں مبشرات کے ساتھ برتاؤ کا شرعی طریقہ کار یہ ہے :
٭ احادیث مہدی۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے دین کی نصرت کریں گے۔
٭ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگوں کی احادیث اوران پر مسلمانوں کی فتح کی مبشرات۔
٭ مسلمانوں اور عیسائیوں میں جنگوں کے بارے میں احادیث اور مسلمانوں کی فتح کی بشارتیں :
ان کے ساتھ برتاؤ ایسے ہوگا کہ ہم جان لیں یہ نشانیاں مسلمانوں کے لیے خوشخبری اور سرور کا باعث ہیں ۔ جس میں ان کو صبر کی تلقین ہے، او رخوشخبری ہے کہ یہ دین اللہ کے فضل سے محفوظ و منصور دین ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہم وہ کچھ بھی کریں گے جس کا ہمیں شریعت نے حکم دیا ہے۔ دین کی نصرت، اسلامی سرحدوں کا دفاع ؛ جہاد فے سبیل اللہ قائم کرنا، اسلام کے پرچم کی سر بلندی کے لیے لڑنا۔ ہم مایوس ہوکر نہیں بیٹھیں گے کہ آسمانوں سے مدد و نصرت نازل ہو۔ یا ہماری کوشش کے بغیر زمین سے کچھ نکل آئے۔
پس مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ یہودیوں سے جنگ لڑنے کی تیاری کریں اور قابض نصرانیوں کو اسلامی شہروں سے نکال باہر کریں ۔ذلت و رسوائی کے ساتھ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہ بیٹھے رہیں ۔ کہ خروج مہدی کا انتظار کریں ، تاکہ وہ ہماری قیادت کرے۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم جمع ہوکر اپنے دین کی نصرت کریں ۔ اگر ان حالات میں مہدی کا خروج ہوگیا تو ہم ان کی مدد کریں گے۔