بیت اللہ پر حملہ آور لشکر

بیت اللہ پر حملہ آور لشکر

وہ لشکر جو بیت اللہ پر حملہ کرے گا، اس کا پہلا اور آخری آدمی زمین میں دھنس جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ایک لشکر بیت اللہ پر حملہ کرے گا، وہ اپنے متعلق کچھ کہنے کی وجہ سے ایک آدمی کی تلاش میں ہوگا اوریہ آدمی مہدی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سارے لشکر کوزمین میں دھنسا دیں گے،ان میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ یہ لشکر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہوگااور قیامت والے دن ان لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ حضرت عبید اللہ بن القبطیہ فرماتے ہیں : ’’حارث بن ابو ربیعہ عبد اللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ میں بھی تھا ؛ ہم حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ یہ سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دنوں کی بات ہے، جب حجاج بن یوسف کے ساتھ ان کی جنگ جاری تھی۔ اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حرم میں قلعہ بند تھے۔توآپ فرمانے لگیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجاجائے گا، جب وہ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو زمین میں دھنس جائیں گے۔تومیں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس آدمی کا کیا بنے گا جسے زبردستی لایا جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ ہی زمین میں دھنس جائے گا، مگر قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا۔‘‘ (مسلم) ایک روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین میں دھنسنے والے لشکر کا تذکرہ کیا تو سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : شاید ان میں کوئی مجبور بھی ہوگا،تو آپ نے فرمایا: ’’انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔‘‘ (ترمذی) انہیں ان کی نیتوں پر اٹھائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ تو نہیں چاہتے ہوں گے کہ وہ بیت اللہ پر لشکر کشی کریں ،مگر انہیں زبردستی پکڑ کر لایا جائے گا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنی مرضی سے آئے ہوں گے۔ اور کچھ تاجر قسم کے لوگ ہوں گے۔ اور ان تمام لوگوں کے ہلاک ہونے کا سبب بری صحبت کی نحوست ہے۔ اس لیے کہ صحبت کی وجہ سے بلاء وآزمائش تمام لوگوں میں پھیل جاتی ہے۔ اور قیامت والے دن ان میں سے ہر ایک کاحساب و کتاب اس کی نیت اور ارادے کے مطابق ہوگا۔ اس حدیث مبارکہ میں برے لوگوں کی صحبت سے خبر دار کیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ جو انسان اپنی مرضی سے گناہ کے کام میں کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرنے کا سبب بنتاہے، اس کو بھی اس گناہ میں شامل لوگوں کے ساتھ صحبت کی سزا مل کر رہے گی۔ حدیث میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان لوگوں کوکعبہ تک پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ زمین میں دھنسا دے گا۔ اس حدیث سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ بیت اللہ میں پناہ گزین شخص کی وجہ سے لشکر بیت اللہ پر حملہ کی نیت سے نکلے گا اوریہ پناہ گزین شخص محمد بن عبد اللہ مہدی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائیں گیاور اس لشکر کو زمین میں دھنسا دیں گے، جو آپ کی کرامت ہوگی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نیند میں حرکت کی۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آج آپ نے نیند میں ایسی حرکت کی ہے جو آپ کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: حیرانگی ہے میری امت کے کچھ لوگ اس گھرپر ایک آدمی کی وجہ سے لشکر کشی کررہے ہیں جو اس گھر (بیت اللہ ) میں پناہ گزین ہے۔ جب وہ بیداء، یعنی صحراء میں پہنچے تو زمین میں دھنس گئے۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! راستے میں تو ہر رنگ کے لوگ جمع ہوتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ’’ہاں ان میں جاننے والے بھی ہوں گے اور مجبور بھی اور راہ گیر بھی، وہ تمام یکدم ہلاک ہوجائیں گے، اور انہیں مختلف رنگوں میں اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیتوں پر اٹھائیں گے۔‘‘ (مسلم) ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کعبہ پر ایک لشکر حملہ کرے گا، جب وہ صحراء میں پہنچیں گے تو ان کا شروع سے لے کر آخری آدمی تک زمین میں دھنس جائے گا۔آپ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : یارسول اللہ! کیسے ان کا شروع سے لے کر آخری آدمی تک زمین میں دھنس جائے گاجب کہ ان میں چرواہے بھی ہوں گے، اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ان کا شروع سے لے کر آخری آدمی تک زمین میں دھنس جائے گا اور پھر ان لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔‘‘ (بخاری) اس کی تفصیل امام مہدی کے ضمن میں آرہی ہے۔