قیامت کی نشانیوں پر بحث کیوں کرتے ہیں ؟
قیامت کی نشانیوں پر بحث کیوں کرتے ہیں ؟
ہر وہ معاملہ جس کی انسان تلاش و جستجو کرتا ہے، اور اس کے متعلق گفتگو کرتا ہے، لازمی طور پر اس کے کچھ نتائج ہونے چاہییں جو کہ اس کی بحث و گفتگو کا ثمرہ ہو۔
تو کیا علاماتِ قیامت سے متعلق بحث و مباحثہ کرنے اور ان کی معرفت حاصل کرنے کے بھی کچھ ثمرات اور فوائد ہیں جن کے مطابق ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ؟
یا صرف خالی معلومات ہی ہیں جن کا اضافہ انسان اپنے علم میں کرتا ہے، اور حقیقت حال میں اس کا کوئی اثر نہیں ہے ؟
جواب
بے شک قرآن کریم اور سنت نبویہ مطہرہ میں قیامت کی نشانیاں بیان ہوئی ہیں اس کے بہت سارے فوائد ہیں جن کا اثر انسان کی زندگی میں نظر آتا ہے، ان فوائد میں سے :
۱۔ ایمان بالغیب کی تحقیق، جو کہ ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’جو بن دیکھی باتوں پر یقین کرتے ہیں (اسی کو غیب کہتے ہیں )۔‘‘ (البقرہ :۳)
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دینے لگیں اور میرے ان تمام احکام پر ایمان لے آئیں جو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوں ، اگر وہ ایسا کرلیں تو مجھ سے اپنی جان ومال محفوظ کرلیں گے، ہاں حق پر ان کی جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔‘‘ (رواہ البخاری ومسلم )
ایمان بالغیب سے مراد یہ ہے کہ ہر اس چیز پر ایمان رکھا جائے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، اور وہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے، خواہ اس کا ہم نے مشاہدہ کیا ہو یا پھر وہ ہم سے غائب ہواورہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ (جوکچھ بھی نصوص شریعت میں وارد ہوئے ہیں ، وہ ) حق اور سچ ہیں ۔
انہی امور میں سے قیامت کی نشانیاں بھی ہیں ؛ جیسے کہ دجال کا نکلنا، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، یاجوج ماجوج کا نکلنا ؛ چوپائے کا نکلنا، سورج کا مغرب سے طلوع ہونااور اس طرح دیگر خبریں جو صحیح اور ثابت ہیں ۔
۲۔ قیامت کی نشانیوں کی معرفت سے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا جاتا ہے ؛ اور قیامت کے دن کے لیے تیاری کی جاتی ہے۔ اس میں اہل غفلت کے لیے بیداری کا سامان اور توبہ کی ترغیب ہے ؛ تاکہ دنیا کی طرف میلان نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آس پاس کے لوگوں سے یہی سلوک کیا تھا جب آپ کو قیامت کی ایک نشانی کے ظاہر ہونے کا علم ہوا۔ بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے :
’’ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدارہوئے اور فرمایا: ’’ عرب کی ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اس قدر کھول دیا گیا۔ ‘‘
اسی میں یہ الفاظ بھی ہیں : … ’’حجرے والیوں کو جگاؤ کہ وہ نماز پڑھیں ، پس بہت سی دنیا میں لباس پہننے والی آخرت میں ننگی ہوں گی۔‘‘ (بخاری و مسلم)
۳۔ ان نشانیوں میں شرعی احکام اور فقہی مسائل کا بیان ہے۔ دجال کے اس زمین پر قیام والی روایت میں ہے کہ ایک دن سال کے برابر ہوگا، اور ایک دن ایک مہینے کے بر ابر ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے ان دنوں کے بارے میں پوچھا :’’ کیا اس ایک دن میں ایک دن کی نماز کفایت کرجائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں ، بلکہ اس (دن نمازوں کے اوقات )کااندازہ لگاؤ گے۔ ‘‘
اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ان علاقوں میں رہنے والے مسلمان جہاں پر دن اور رات مہینوں کے حساب سے رہتے ہیں ؛کیسے نماز پڑھیں گے۔ ‘‘
۴۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کی نشانیوں کی معرفت کا علم۔ اس لیے کہ قیامت کی نشانیاں غیبی امور میں سے ہیں ، جن کا ادراک صرف ظن سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت نبوت کی دلیل ہے۔ یہ کہ بے شک آپ اللہ تعالیٰ عالم الغیب کی جانب سے سچے رسول ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ وہی غیب کی بات جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ہاں ، جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔‘‘(الجن: ۲۶۔۲۷)
۵۔ قیامت کی نشانیوں کی معرفت ہمیں ان کے ساتھ شرعی طریقہ کے مطابق برتاؤ کرنے کا ڈھنگ سکھاتی ہے تاکہ ہم پر قیامت کے بارے میں کوئی الجھن نہ پیدا ہو۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے میں تفصیل سے خبر دی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی، آنکھ اور ان امور کے اوصاف بیان کیے ہیں جو اس کے ساتھ ہوں گے۔ تاکہ ہم فتنہ میں مبتلا نہ ہوں ، بلکہ جب اسے دیکھیں تو پہچان لیں کہ یہ دجال ہے۔
۶۔ نفسیاتی طور پر مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعہ کے لیے خود کو تیار کرنا ہے، اگربغیر علم کے قیامت کا ظہور اچانک ہوجاتا تو پھر تیاری ممکن نہ رہتی۔
۷۔ اس سے ہمارے سامنے امید کا ایک دروازہ کھلتا ہے کیونکہ قیامت کی کچھ نشانیاں ایسی بھی ہیں جن میں مسلمانوں کی نصرت اورروئے زمین پر اسلام کے پھیل جانے کی بشارت ہے۔ اور یہ کہ یہود و نصاریٰ کے ادیان ختم ہوجائیں گے۔ یہ ان نبوی مبشرات کی بنا پر کہا جاتا ہے جن کے مطابق روئے زمین پر صرف اسلام کو ہی قرار حاصل ہوگا اوریہ باقی تمام ادیان پر غالب آئے گا، خواہ کفار کو یہ بات نا پسند ہی کیوں نہ ہو۔
۸۔ انسان کی اس رغبت کی سیرابی ہے جو وہ غائبانہ امور کی کھوج لگانے کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے۔ اور مستقبل میں پیش آنے والے حادثات و واقعات کے متعلق آگاہی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ان باتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھنا چاہیے کہ جوں ہی کوئی نشانی ظاہر ہوتی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت نبوت پر دلالت کرتی ہے۔
جب اسلام ان تمام دجالوں کی راہیں بند کرتا ہے جو غیب کے متعلق علم رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، جیسے کہ نجومی، کاہن، قیافہ شناس اوراس طرح کے دوسرے لوگ ؛ تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب سے وہ اطلاعات بھی دی ہیں جو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق ہیں انہیں قیامت کی نشانیاں کہا جاتا ہے۔
۹۔ قیامت کی نشانیوں پر ایمان سے انسان کا ایمان بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا ہے۔ ایسی نشانیوں کا ظاہر ہونا اس دین کے سچا ہونے پر دلالت کرتا ہے جس دین پر ہم چل رہے ہیں ۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی ایک ثمرات ایسے ہیں جو ہماری زندگیوں میں بڑا اثر رکھتے ہیں ۔