قضائے حاجت کے آداب

قضائے حاجت سے پہلے کے آداب

1: انسانی نظروں سے دور الگ جگہ تلاش کرے۔مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلتے تو اتنا دورچلے جاتے کہ کوئی آپ کو نہ دیکھ سکتا۔[2] 2: اس حالت میں کوئی ایسی چیز اپنے ساتھ نہ رکھے جس پر اللہ کا ذکر لکھا ہوا ہو۔ایک روایت میں ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘منقوش تھا،جب آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اسے اتار دیتے تھے۔‘‘[3] 3: بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں آگے کر کے یہ کہے:((بِسْمِ اللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ)) ’’اللہ کے نام سے اے اللہ!میں نر اور مادہ جنوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘[4] 4: زمین کے قریب ہونے سے پہلے کپڑا نہ اٹھائے،اس لیے کہ شرم گاہ کا ستر شریعت کی رو سے ضروری ہے۔ 5: پاخانہ یا پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوھَا بِبَوْلٍ وَّلَا غَائِطٍ))’’پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ۔‘‘[1] 6: اس کام کے لیے لوگوں کے راستے،ان کی سایہ کی جگہوں میں،پانی کے گھاٹ اور پھل دار درختوں کے پاس نہ بیٹھے۔فرمان نبوی ہے:’اِتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَۃَ:اَلْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَقَارِعَۃِ الطَّرِیقِ وَالظِّلِّ‘ ’’تین لعنت کے کاموں سے بچو!گھاٹ کے قریب،درمیان راستہ اور سائے میں پاخانہ کرنے سے۔‘‘[2] اسی طرح ایک اور حدیث میں پھل دار درختوں کے نیچے قضائے حاجت کی ممانعت آئی ہے۔[3] 7: قضائے حاجت کے وقت گفتگو نہ کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِذَا تَغَوَّطَ الرَّجُلَانِ فَلْیَتَوَارَا أَحَدُھُمَا عَنْ صَاحِبِہِ،وَلَا یَتَحَدَّثَانِ عَلٰی طَوْفِھِمَا فَإِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلَیْہِ)) ’’دو آدمی قضائے حاجت کے لیے جائیں تو ایک دوسرے سے چھپ کر بیٹھیں اور آپس میں باتیں نہ کریں۔کیونکہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔‘‘[4]