فرشتوں پر ایمان
قرآن وسنت سے دلائل
ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ فرشتے اشرف وافضل مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے معزز بندے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انھیں نور سے پیدا کیا جبکہ انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے اور جنوں کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کے ذمہ مختلف کام لگا رکھے ہیں،جنھیں وہ سر انجام دیتے ہیں۔ان میں سے بعض فرشتے بندوں پر محافظ اور ان کے اعمال و افعال لکھنے والے ہیں اور بعض بہشت اور اس کی نعمتوں پر مقرر ہیں اور بعض جہنم اور عذابِ جہنم پر تعینات ہیں اور ان میں سے بعض صبح وشام(رات دن)اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس کرنے والے بھی ہیں،جو کبھی نہیں تھکتے،نیز بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ان میں سے بعض مقرب فرشتے ہیں،جیسے جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل۔اور بعض عام فرشتے ہیں۔یہ حقائق اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں،اور عقلی ونقلی دلائل کا تقاضا بھی یہی ہے۔
کتاب وسنت سے دلائل:
1: اللہ جل شانہ نے ہمیں فرشتوں کے وجود کی خبر دی اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ارشاد فرمایا:
﴿وَمَن يَكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴿١٣٦﴾
’’اور جو شخص اللہ،اس کے فرشتوں،اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو یقینا وہ دور بھٹک گیا۔‘‘[3] نیز ارشادِ ربانی ہے:
﴿مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ﴿٩٨﴾
’’جو شخص اللہ کا،اس کے فرشتوں،اس کے پیغمبروں اور جبرائیل ومیکائیل کا دشمن ہوا تو یقینا اللہ(بھی)ایسے کافروں کا دشمن ہے۔‘‘[1]
مزید فرمایا:﴿لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ﴾
’’عیسیٰ(علیہ السلام)اور مقرب فرشتے اللہ کے بندے ہونے سے ہرگز عار محسوس نہیں کریں گے۔‘‘[2]
اور فرمایا:﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾’’اور اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔‘‘[3]
ارشادِ ربانی ہے:﴿وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً﴾’’ اور ہم نے جہنم کے داروغے فرشتے ہی مقرر کیے ہیں۔‘‘[4]
ارشادِ ربانی ہے:﴿وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ﴿٢٣﴾سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ﴾
’’اور ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے،(اور جنتیوں سے کہیں گے کہ)تمھارے صبر کے صلے میں تم پر سلام ہو۔‘‘[5] مزید فرمایا:﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿٣٠﴾
’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا:یقینامیں زمین میں ’’خلیفہ‘‘ بنانا چاہتا ہوں۔انھوں نے کہا:کیا تو اس میں اسے(خلیفہ)بنائے گا جو اس میں فساد اور خون ریزی کرے گا؟ ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے ہیں۔(اللہ نے)فرمایا:بلاشبہ جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔‘‘[6]
2: رات کی نماز میں دعا کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتوں کے بارے میں فرمایا:
((اَللّٰہُمَّ!رَبَّ جِبْرَائِیلَ وَ مِیکَائِیلَ وَ إِسْرَافِیلَ،فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ،عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ،أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَخْتَلِفُونَ،اِہْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْْنِکَ،إِنَّکَ تَہْدِي مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ))
’’اے اللہ!اے جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل کے رب!آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!غیب اور حاضر کے جاننے والے!تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں،فیصلہ کرے گا۔تو حق کے بارے میں اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے،جس میں اختلاف برپا ہے۔بے شک تو جسے چاہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے۔‘‘[1]
آپ نے مزید فرمایا:((أَطَّتِ السَّمَائُ وَ حُقَّ لَہَا أَنْ تَئِطَّ،مَا فِیہَا مَوْضِعُ أَرْبَعِِ أَصَابِعَ إِلَّا وَ مَلَکٌ وَّاضِعٌ جَبْہَتَہُ لِلّٰہِ سَاجِدًا))
’’آسمان چرچرا رہا ہے اور چرچرانا اس کا حق ہے،(کیونکہ)چار انگلی کے بقدر بھی جگہ اس میں خالی نہیں ہے،جہاں کوئی سجدہ کرنے والا فرشتہ موجود نہ ہو۔‘‘[2]
مزید فرمایا:((ہٰذَا الْبَیْتُ الْمَعْمُورُ یُصَلِّي فِیہِ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ،إِذَا خَرَجُوا لَمْ یَعُودُوا إِلَیْہِ آخِرَ مَا عَلَیْہِمْ))
’’بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے(پہلی اور آخری بار داخل ہوتے اور)نماز پڑھتے ہیں وہاں سے نکلنے کے بعد دوبارہ پوری زندگی نہیں آسکتے۔‘‘[3] نیز فرمایا:
((إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِّنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِکَۃٌ یَّکْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ،فَإِذَا جَلَسَ الإِْمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَ جَاؤا یَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ))
’’جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر(کھڑے ہو کر)پہلے(اور بالترتیب بعد میں)آنے والوں کو لکھتے رہتے ہیں۔جب امام(منبر پر)بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اور وعظ و نصیحت سننے کے لیے آجاتے ہیں۔‘‘[4] فرمانِ نبوی ہے:((أَحْیَانًا یَّتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَکُ رَجُلًا فَیُکَلِّمُنِي فَأَعِيَ مَا یَقُولُ))
’’کبھی کبھار فرشتہ انسانی شکل میں آکر مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور میں اس کی باتیں یاد کر لیتا ہوں۔‘‘[5]
اور فرمایا:((یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَّلَائِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّہَارِ))
’’رات اور دن کے فرشتے تمھارے پاس باری باری آتے رہتے ہیں۔‘‘[6] ارشادِ گرامی ہے:
((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُّورٍ،وَ خُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ،وَ خُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ))
’’فرشتے نور سے،جن آگ کے شعلے سے اور آدم(علیہ السلام)اس چیز سے پیدا کیے گئے ہیں جو تمھیں بتادی گئی ہے(مٹی سے۔)‘‘[1]
3: جنگ بدر کے دن بہت سے مسلمانوں نے فرشتوں کو دیکھا اور جبریلِ امین علیہ السلام کو بھی کئی مرتبہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا جبکہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں(وحی لے کر)آتے تھے۔صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مشہور ’’حدیثِ جبریل‘‘ مروی ہے۔اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’کیاتم جانتے ہو سائل کون تھا؟‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ا للہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:’’یہ جبریل تھے جو تمھیں تمھارے دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔‘‘[2]
4: ہر دور کے کروڑوں ایمان والوں نے فرشتوں کو تسلیم کیا ہے اور شک وشبہ کے بغیر اس بارے میں انبیاء ورسل علیہم السلام کے بیان کردہ حقائق کی تصدیق کی ہے۔