سونے کے آداب
سونے کے آداب
مسلمان نیند کو اللہ کی نعمت سمجھتا ہے،اس لیے کہ سارے دن کی مسلسل جدوجہد اور حرکت کے بعد رات کے اوقات میں انسان کا نیند کرنا جسم کی زندگی،نشوونما اور تندرستی کے لیے ضروری ہے تاکہ انسان وہ ذمہ داری پوری کر سکے جس کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
﴿وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
’’اور اس کی مہر بانی ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس کا فضل (رزق حلال)تلاش کرو اورتاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ [1]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا﴾’’اور ہم نے تمھاری نیند کو باعثِ آرام بنایا۔‘‘ [2]
اس نعمت وکرم نوازی کا شکریہ اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہدایاتِ ذیل کو قابلِ اہتمام سمجھا جائے:
1: نمازِ عشاء کے بعد سونے میں تاخیر نہ کرے،اِلَّا یہ کہ کوئی(جائز)ضرورت ہو۔مثلاً کوئی علمی مذاکرہ،مہمان کے ساتھ بات چیت اور گھر والوں کے ساتھ انس والفت کی باتیں وغیرہ۔
ابو برزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء سے پہلے نیند اور بعد میں باتیں کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘[3]
2: کوشش کرے کہ باوضو سوئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا:
((إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوئَ کَ لِلصَّلَاۃِ))’’جب تو(سونے کے لیے)بستر پر آنے کا ارادہ کرلے تو وضو کر،جس طرح تو نماز کے لیے وضو کرتا ہے۔‘‘ [4]
3: پہلے دائیں کروٹ پر لیٹے اور دائیں ہاتھ کا سر ہانہ بنائے اور اس کے بعد بائیں کروٹ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔حدیث نبوی ہے:’إِذَا أَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوئَ کَ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ‘
’’جب تو(نیند کے لیے)بستر پر آنے کا ارادہ کرلے تو نمازکے وضو جیسا وضو کر اور پھر اپنی دائیں جانب پر لیٹ جا۔‘‘[5] ارشادِ نبوی ہے:
((إِذَا أَوَیْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ وَأَنْتَ طَاھِرٌ فَتَوَسَّدْ یَمِینَکَ))’’جب تو باوضو ہو کر بستر پرآجائے تو دائیں ہاتھ کو سرہانہ بنا۔‘‘ [6]
4: رات یا دن کے وقت جب بھی سوئے پیٹ کے بل نہ لیٹے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّمَا ھٰذِہِ ضِجْعَۃُ أَھْلِ النَّارِ‘ ’’یہ تو جہنمیوں کا لیٹنا ہے۔‘‘ [7]
نیز ارشاد ہے:’إِنَّ ھٰذِہِ ضِجْعَۃٌ لَّا یُحِبُّھَا اللّٰہُ‘ ’’یہ لیٹنا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔‘‘[8]
5: سونے سے پہلے ماثور ومنقول(کتاب وسنت سے ثابت شدہ)دعائیں پڑھے۔جو حسبِ ذیل ہیں:
٭ سیدنا علی اور سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہما نے گھریلو کام میں تعاون کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم مانگا۔اس پر آپ نے فرمایا:’’میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں،جب بستر پر آرام کے لیے آؤ تو 33 بار تسبیح ’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘،33 بار تحمید ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ اور 34 بار تکبیر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہو،یہ تمھارے لیے خادم سے بہتر ہے۔[1]
٭ سورئہ بقرہ کی آخری دو آیات سے آخر تک پڑھے کیونکہ اس کی ترغیب حدیث میں وارد ہے۔[2]
٭ پھرسب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ دعا پڑھے:
((بِاسْمِکَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي،وَبِکَ أَرْفَعُہُ،إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِي فَارْحَمْھَا،وَإِنْ أَرْسَلْتَھَا فَاحْفَظْھَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ‘ ’اَللَّھُمَّ!أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِي إِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَیْکَ وَأَلْجَأْتُ ظَھْرِي إِلَیْکَ‘ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ،آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِي أَنْزَلْتَ،وَبِنَبِیِّکَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،فَاغْفِرْلِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ))
’’اے میرے پروردگار!تیرے نام سے اپنا پہلو رکھتا ہوں اور تیرے نام سے ہی اسے اٹھاؤں گا۔اے اللہ!اگر تو(اس نیند میں)میری جان قبض کر لے تو اس پر رحم فرما اور اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی حفاظت کر جس طرح کہ تونیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ ’’اے اللہ!میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے چہرے کو متوجہ کرتا ہوں اور اپنا معاملہ تجھے سونپتا ہوں اور میں اپنی پیٹھ کا آسرا تجھے بناتا ہوں۔’’ تیری مغفرت کا طلبگار ہوں،تیری طرف رجوع کرتا ہوں،میں تیری کتاب پر،جو تو نے اتاری ہے اور تیرے نبی پر جو تونے بھیجا ہے ایمان لایا،پس میرے پہلے،پچھلے،چھپے اور اعلانیہ کیے ہوئے تمام گناہ معاف فرما تو ہی آگے کرنے والا اور توہی پیچھے کرنے والا ہے،تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے۔‘‘[3]
٭ رات کے وقت نیند سے بیدار ہو جائے تویہ کہے:
’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘
’’اللہ کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں ہے۔وہ ایک ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے اور تعریف بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔اللہ پاک ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،گناہ سے ہٹانے اور نیکی کروانے کی طاقت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔اے اللہ!مجھے معاف کردے۔‘‘
اس ذکر کے بعد جو چاہے دعا کرے،اللہ کریم قبول فرمائیں گے،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’جو شخص رات کو جاگے اور ’’مذکورہ‘‘ ذکر کے بعد دعا کرے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتے ہیں۔اگر اس کے بعد اٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے تو وہ بھی مقبول ومنظور ہو گی۔‘‘[1]
یا یہ دعا پڑھے:’لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ،سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ!أَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُکَ رَحْمَتَکَ،اَللّٰھُمَّ!زِدْنِي عِلْمًا وَّلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ ھَدَیْتَنِي،وَھَبْ لِي مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً،إِنَّکَ أَنْتَ الْوَھَّابُ‘
’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تو(ہر عیب سے)پاک ہے،اے اللہ!میں تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں،اے اللہ!مجھے علم میں زیادہ کر اور جب تو نے مجھے ہدایت دیدی ہے تو میرا دل ٹیڑھا نہ کر اور مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔بے شک تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا(داتا)ہے۔‘‘[2]
6: صبح ہو جائے تو درج ذیل اذکار مبارکہ کا ورد کرے:جاگنے کے بعد اور بستر سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھے:((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ))
’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندگی دی(سلانے کے بعد جگایا)ہے اور اسی کی طرف(دوبارہ جی کر)اٹھنا ہے۔‘‘ [3]
تہجد کے لیے اٹھے تو آسمان کی طرف دیکھے اور سورئہ آلِ عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کرے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت یا اس سے پہلے یا اس کے بعد اٹھے،اپنے چہرے سے نیند زائل کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے،پھر سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں اور پھر لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس آئے اور اچھی طرح وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔‘‘[4]
چار بار یہ دعا پڑھے:’اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْھِدُکَ وَأُشْھِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَمَلَائِکَتَکَ وَجَمِیعَ خَلْقِکَ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ،وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ‘
’’اے اللہ!میں صبح کرتا ہوں۔میں تجھے،تیرے حاملینِ عرش اور دیگر فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تیرے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ [1]
حدیث میں ہے کہ ’’جس نے ایک بار یہ دعا پڑھی،وہ دوزخ سے ایک چوتھائی نجات پا گیا۔جس نے تین بار یہ دعا پڑھی وہ تین چوتھائی نجات پاگیا اور جس نے چار مرتبہ پڑھی،وہ مکمل طور پر دوزخ سے نجات پا گیا۔[2]
گھر سے باہر نکلتے ہوئے چوکھٹ پر پاؤں رکھے تو کہے:((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ))
’’اللہ کے نام سے،میں نے اسی پر بھروسا کیا ہے،برے کام سے بچنا اور نیکی کی طاقت پانا اسی کی توفیق سے ہے۔‘‘[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص مذکورہ ذکر کرتا ہے،اسے کہا جاتا ہے تو ہدایت یافتہ ہے اور کفایت کیا گیا ہے۔چوکھٹ سے آگے بڑھے تو کہے:
((اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْھَلَ أَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ))
’’اے اللہ!میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں،پھسل جاؤں یا پھسلا دیا جاؤں،ظلم کروں یامجھ پر ظلم کیا جائے،اور جہالت کا کام کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے۔‘‘
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر سے باہر نکلتے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر یہی مذکورہ دعا پڑھتے۔‘‘[4]