کھانے پینے کے آداب
آداب دورانِ طعام
1: اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھانا شروع کرے۔فرمانِ نبوی ہے:
((إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی،فَإِنْ نَّسِيَ أَنْ یَّذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِي أَوَّلِہٖ فَلْیَقُلْ:بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہُ وَآخِرَہُ))
’’جب تم میں سے کوئی(کھانا)کھانے لگے تو ’’بسم اللہ‘‘ کہے اگرشروع میں اللہ کا نام لینا بھول جائے تو ’بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ‘(اللہ کے نام سے،اس کے آغاز پر اوراختتام پر)کہے۔‘‘ [6]
2: اور اللہ کی حمد وتعریف سے کھانے کا اختتام کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’مَنْ أَکَلَ طَعَامًا قَالَ:’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَطْعَمَنِي ھٰذَا وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّي وَلَا قُوَّۃٍ‘ غُفِرلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ‘
’’جو کھانا کھا کر کہتا ہے:’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَطْعَمَنِي ھٰذَا:وَلَا قُوَّۃٍ‘ یعنی ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میرے تصرف و قوت کے بغیر مجھے یہ عطا کیا‘‘ تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ [1]
3: کھانا دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں سے کھائے،لقمہ چھوٹا لے اور خوب چبا کر کھائے،اپنے آگے سے اٹھائے،برتن کے درمیان سے نہ کھائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’یَا غُلَامُ!سَمِّ اللّٰہَ،وَکُلْ بِیَمِینِکَ،وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ‘ ’’اے لڑکے!اللہ کا نام لے کر،دائیں ہاتھ سے اور اپنے آگے سے کھا۔‘‘ [2]
نیز فرمایا:’إِنَّ الْبَرَکَۃَ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ،فَکُلُوا مِنْ حَافَتَیْہِ وَلَا تَأْکُلُوا مِنْ وَّسَطِہِ‘
’’بے شک برکت کھانے کے درمیان میں اترتی ہے،پس اس کے کناروں سے کھاؤ اور درمیان سے نہ کھاؤ۔‘‘[3]
4: کھانا اچھی طرح چبا کر کھائے،ہاتھوں کو رومال یا پانی سے صاف کرنے سے پہلے برتن اور انگلیوں کو اچھی طرح صاف کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلَا یَمْسَحْ یَدَہُ حَتّٰی یَلْعَقَھَا أَوْیُلْعِقَھَا))
’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو چاٹنے یا چٹانے سے پہلے ہاتھ(انگلیاں)صاف نہ کرے(نہ دھوئے۔)‘‘ [4]
اور جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کو چاٹنے اور برتن صاف کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:
’فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِکُمُ الْبَرَکَۃُ‘ ’’تم نہیں جانتے کہ تمھارے کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔‘‘ [5]
5: اگر کھانے کی کوئی چیز نیچے گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیَأْخُذْھَا،فَلْیُمِطْ مَا کَانَ بِھَا أَذًی وَّلْیَأْکُلْھَا،وَلَا یَدَعْھَا لِلشَّیْطَانِ))
’’جب تم میں سے کسی ایک کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے اور اس کے ساتھ لگی ہوئی گندگی صاف کر کے اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔‘‘ [1]
6: گرم کھانے میں پھونک نہ مارے بلکہ ٹھنڈا کر کے کھائے اور پیتے وقت(بھی)پانی(وغیرہ)میں پھونک نہ مارے،اور چاہیے کہ برتن منہ سے الگ کر کے تین بار سانس لے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشروب پینے میں تین بار سانس لیتے تھے۔‘‘[2]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’آپ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔‘‘[3]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘[4]
7: پیٹ زیادہ بھر کر کھانے سے اجتناب کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِّعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ،بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ یُّقِمْنَ صُلْبَہُ،فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِّطَعَامِہِ وَثُلُثٌ لِّشَرَابِہِ وَثُلُثٌ لِّنَفَسِہِ))
’’انسان،پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرتا۔ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو کھڑا رکھ سکیں۔اگر اس سے زیادہ ہی کھانا ہے تو(معدے کا)تہائی کھانے کے لیے،تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مقرر کرلے۔‘‘ [5]
8: اکٹھے بیٹھنے والوں میں سے بڑے کو پہلے بات کرنے کا حق حاصل ہے،جبکہ کھانے پینے کی چیزوں میں دائیں طرف سے دینا شروع کرے،خواہ اس جانب کم عمر ہی کیوں نہ ہوں اور پلانے والا آخر میں خود نوش کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے:’کَبِّرْ کَبِّرْ‘ ’’بڑے کو بات کرنے دو،بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ [6]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑوں کو دینے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت طلب کی تھی جبکہ وہ دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور بڑے شیوخ بائیں طرف تھے۔آپ کا اجازت طلب کرنا،اس بات کی دلیل ہے کہ زیادہ حق دائیں طرف والوں کا ہے۔[1]
نیز آپ کا ارشاد ہے:’اَلْأَیْمَنُ فَالْأَیْمَنُ‘ ’’دائیں طرف دو،دائیں طرف دو۔‘‘ [2]
اوریوں بھی فرمایا:’إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُھُمْ شُرْبًا‘ ’’بے شک قوم کو مشروب پلانے والا آخر میں پیے گا۔‘‘ [3]
9: مجلس میں بڑی عمر یا فضیلت میں بڑے کی موجودگی میں تناولِ طعام میں پہل نہ کرے،اس لیے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور ایسا کرنے والا حرص کی مذموم صفت سے متصف سمجھا جائے گا۔ایک شاعر کہتا ہے:
وَ إِنْ مُّدَّتِ الْأَیْدِي إِلَی الزَّادِ لَمْ أَکُنْ بِأَعْجَلِھِمْ إِذْ أَجْشَعُ الْقَوْمِ أَعْجَلُ
’’اور جب ہاتھ کھانے کی طرف بڑھائے جاتے ہیں تو میں جلدی نہیں کرتا کہ قوم میں زیادہ حریص انسان سب سے زیادہ جلد باز ہوتا ہے۔‘‘
10: کسی جھجک یا تکلف کے بغیر کھانا کھائے تاکہ اس کے ساتھی یا میزبان کو یہ نہ کہنا پڑے کہ ضرور کھاؤ کیونکہ یہ تو میزبان کو تنگ کرنے والی بات ہے اور دوسرا یہ ایک قسم کا دکھلاوا اور ریا بھی ہے جو کہ شرعاً حرام ہے۔
11: کھانے میں شریک ساتھی کا لحاظ کرے اور اس سے زیادہ کھانا کھانے کی کوشش نہ کرے،بالخصوص جبکہ کھانا تھوڑا ہو کیونکہ اس سے دوسرے کی حق تلفی ہو گی۔
12: کھانے کے دوران(بلاوجہ)دوسرے ساتھیوں کو نہ دیکھے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دے،وہ اس سے شرم محسوس کریں گے۔بلکہ اپنے اردگرد کھانے والوں سے صرفِ نظر کر کے کھانا کھاتا رہے۔اسی طرح کھانے کے دوران میں ان کی طرف تانک جھانک بھی نہ کرے کہ اس طرح انھیں تکلیف ہو گی بلکہ بعض اوقات ان میں دشمنی بھی پیدا ہو سکتی ہے اور یہ گناہ گار بنے گا۔
13: کوئی ایسا کام نہ کرے جو لوگوں کی نظر میں معیوب ہو،پیالے میں ہاتھ نہ ڈالے،کھانا کھاتے وقت منہ برتن کے زیادہ قریب نہ کرے،ہو سکتا ہے کہ منہ میں سے کچھ حصہ گر جائے،روٹی کا ٹکڑا دانتوں سے توڑا ہے تو اسے سالن کے برتن میں نہ ڈبوئے اور اسی طرح بے ہودہ اور گھٹیا الفاظ استعمال نہ کرے کیونکہ اس سے کوئی بھی ساتھی ایذا اور تکلیف محسوس کر سکتا ہے اور مسلمان کو ایذا پہنچانا حرام ہے۔
14: تنگ دست کے ساتھ کھانا ایثار پر قائم رہتے ہوئے،ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھانا انبساط و خوش طبعی کو برقرار رکھتے ہوئے اور مرتبہ و شان والے بزرگوں کے ساتھ کھانا آداب و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے کھایا جائے۔