اسلامی اخوت اور اللہ کے لیے دوستی و دشمنی کے آداب
اسلامی اخوت اور اللہ کے لیے دوستی و دشمنی کے آداب
اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر سچے ایمان کا تقاضا ہے کہ مسلمان صرف اس سے محبت کرے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور ہر اس شخص سے اس کی دشمنی و بغض ہو جو اللہ کا مبغوض ہے،یعنی اس کی پسند وہی ہو جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند ہے اور اس کے ہاں وہ چیز ناپسندیدہ ہو جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں۔الغرض اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کی محبت بن جائے اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اس کی دشمنی رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ أَحَبَّ لِلّٰہِ وَأَبْغَضَ لِلّٰہِ وَأَعْطٰی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الإِْیمَانَ))
’’جو شخص اللہ کے لیے محبت رکھے اور اللہ کے لیے بغض رکھے اور اللہ ہی کے لیے کوئی چیز دے اور اللہ ہی کے لیے روکے(نہ دے)تو اس نے ایمان مکمل کر لیا۔‘‘ [1]
بنابریں مسلمان جہاں اللہ کے جملہ نیک اور صالح بندوں سے محبت اور دوستی رکھتا ہے وہاں ایسے سب لوگوں سے،جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے باغی اور فاسق ہیں،دشمنی اور بغض بھی رکھتا ہے۔
اور یہ بات اس سے قطعاً مانع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بعض صالح اور نیک بندوں سے بطورِ خاص مزید محبت اور دوستی قائم کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:’اَلْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ،وَلَا خَیْرَ فِیمَنْ لَّا یَأْلَفُ وَلَا یُؤْلَفُ‘
’’مومن سے دوستی کی جاتی ہے(اور)اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے جو نہ توخود کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ اس سے کوئی مانوس ہوتا ہے۔‘‘ [2]
نیز فرمایا:((إِنَّ حَوْلَ الْعَرْشِ مَنَابِرُ مِنْ نُّورٍ،عَلَیْھَا قَوْمٌ لِّبَاسُھُمْ نُورٌ،وَوُجُوھُھُمْ نُورٌ،لَیْسُوا بِأَنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ،یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّونَ وَالشُّھَدَائُ،فَقَالُوا:یَارَسُولَ اللّٰہِ!حَلِّھِمْ لَنَا،فَقَالَ:الْمُتَحَابُّونَ فِي اللّٰہِ وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللّٰہِ،وَالْمُتَزَاوِرُونَ فِي اللّٰہِ))
’’بے شک عرش کے اردگرد نور کے منبر ہیں،ان پر نورانی لباس اور نورانی چہروں والے لوگ ہوں گے وہ انبیاء و شہداء تو نہیں مگر انبیاء و شہداء ان پر رشک کریں گے۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!ہمیں بھی ان کی صفات بیان کیجیے۔آپ نے فرمایا:’’یہ لوگ اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے،اللہ کی خاطرایک دوسرے کے پاس بیٹھنے والے اور اللہ ہی کے لیے ایک دوسرے کی ملاقات کو
آنے والے ہیں۔(نسائی اور یہ صحیح حدیث ہے۔)‘‘ [3]
مزید ہے:((إِنَّ اللّٰہَ عَزَوَّجَلَّ یَقُولُ::حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِینَ یَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي:وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِینَ یَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي))
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میری محبت ان کے لیے ثابت ہو چکی ہے جو میرے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں پر ثابت ہو چکی ہے جو میری خاطر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘‘ [1]
اور مزید فرمایا:((سَبْعَۃٌ یُّظِلُّھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی فِي ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ:إِمَامٌ عَدْلٌ،وَشَابٌّ نَّشَأَفِي عِبَادَۃِ اللّٰہِ،وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ،وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ،وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَّجَمَالٍ،فَقَالَ:إِنِّي أَخَافُ اللّٰہَ،وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِینُہُ،وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ))
’’سات(طرح کے)افراد کو اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا 1. انصاف کرنے والا سربراہِ مملکت 2.وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوونما پائی 3. وہ آدمی جس کا دل مسجدوں میں ہی لگا رہتا ہے 4. وہ دو آدمی جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں،اسی(محبت)پر وہ اکٹھے ہوتے اور اسی پرہی جدا ہوتے ہیں 5.وہ مرد جسے حسب و نسب کی مالک اور خوبصورت عورت دعوتِ گناہ دے تو وہ کہے:میں اللہ سے ڈرتا ہوں 6.وہ شخص جو چھپا کر خیرات کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں ہوتا کہ دائیں نے کیا خرچ کیا ہے7. وہ آدمی جو علیحدگی میں اللہ کا ذکر کرتا ہے اور(اللہ کے خوف)سے اس کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔‘‘ [2]
مزید ارشاد ہوا:((أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَّہُ فِي قَرْیَۃٍ اُخْرٰی فَأَرْصَدَ اللّٰہُ لَہُ عَلٰی مَدْرَجَتِہِ مَلَکًا،فَلَمَّا أَتٰی عَلَیْہِ قَالَ:أَیْنَ تُرِیدُ؟ قَالَ:أُرِیدُ أَخًا لِّي فِي ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ،قَالَ:ھَلْ لَّکَ عَلَیْہِ مِنْ نِّعْمَۃٍ تَرُبُّھَا؟ قَالَ:لَا،غَیْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُہُ فِي اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ،قَالَ:فَإِنِّي رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْکَ،بِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَہُ فِیہِ))
’’ایک شخص کسی دوسری بستی کی طرف اپنے بھائی کی ملاقات کو جارہا تھا تو اللہ نے اس کے لیے ایک فرشتہ(انسانی شکل میں)راستے میں کھڑا کردیا جب وہ شخص وہاں پہنچا تو(فرشتے نے)پوچھا:کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا:اس بستی میں میرا ایک بھائی ہے اسے ملنے جارہا ہوں۔فرشتے نے کہا:اس کا کوئی احسان ہے جسے چکانے جارہے ہو؟ اس نے کہا:اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے کہ مجھے محض اللہ کے لیے اس سے محبت ہے۔(رشتہ دار بھی نہیں ہے،محض دینی بھائی ہے)فرشتے نے کہا:مجھے اللہ نے تیرے پاس بھیجا ہے کہ تجھے اطلاع دوں کہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتے ہیں جس طرح تو نے اس کی خاطر اس(آدمی)سے محبت کی ہے۔‘‘ [1]
اس اخوت و دوستی کے لیے صرف یہی شرط ہے کہ یہ خالص اللہ کے لیے ہو،اس میں دنیاوی اغراض و مقاصد اور مادی ضروریات بالکل داخل نہ ہوں اور اس کا باعث صرف ایمان،اسلام اور نیکی ہو۔