آداب و حقوق

مجاہدہ

ہر مسلمان کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اس کا پہلا دشمن اس کا اپنانفس ہے جو اس کے پہلو میں چھپا ہوا ہے۔یہ طبعی طور پر شرپسند ہے،اچھائی سے راہِ فرار اختیار کرتا اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام یا عزیز مصر کی بیوی کا یہ قول بیان کیا ہے:﴿وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ﴾ ’’اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا،بے شک یہ تو برائی کا حکم دیتا رہتا ہے۔‘‘ [5] اسے آرام و راحت میں رہنا پسند ہے،بے مقصد کاموں میں راغب ہے اور شہوات و خواہشات کی رو میں بہتا رہتا ہے،چاہے اس میں اس کی شامت آجائے یا موت ہی واقع ہو جائے۔ ’’نفس امارہ‘‘ کی اس حقیقت سے آگاہی کے بعد ہی ایک انسان اپنے آپ کو اس کے خلاف جہاد کرنے پر تیار کر سکتا ہے اور اعلانِ جنگ کر کے مقابلہ میں اسلحہ نکالتا اور اس کی رعونتوں کا مقابلہ کرتا ہے اور جوں ہی نفس راحت طلب ہونے لگتا ہے،اسے مشقت پر آمادہ کر کے شہوات کی رغبت سے محروم کر دیتا ہے اور جب اللہ کی اطاعت اور نیکی میں کمزوری دکھانے لگتا ہے تو اسے ملامت کرتا ہے،پھروہ کام کرتا ہے جن میں نفس کوتاہی کر رہا یا کمزوری دکھا رہا تھا۔یہ تادیب مسلسل جاری رہتی ہے،یہاں تک کہ اس کا نفس مطمئن اور پاک و طاہر ہو جاتا ہے اور یہی وہ مجاہدئہ نفس ہے جو دراصل مطلوب ہے۔اللہ عزوجل فرماتے ہیں:﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾ ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں،ہم ضرور انھیں اپنے راستے دکھاتے ہیں(توفیق سے نوازتے ہیں)اور بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘[1] ایک مسلمان جب اللہ کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے تاکہ یہ نفس پاک،طاہر اور مطمئن بن جائے اور اللہ کے اعزازات و اکرامات حاصل کرنے کا مستحق قرار پائے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہی صالحین،مومنین اور نیک لوگوں کا راستہ ہے اور وہ ان کے نقشِ قدم پر چلتا رہتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اتنا لمبا قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے،جب آپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: ’أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَکُونَ عَبْدًا شَکُورًا‘ ’’کیا میں پسند نہ کروں کہ(اللہ کا)شکر گزار بندہ بن جاؤں ؟‘‘ [2] قسم ہے ربِّ قدوس کی!اس سے بڑھ کر اور مجاہدہ کیا ہو سکتا ہے!! سیدنا علی رضی اللہ عنہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بابت گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اللہ کی قسم!میں نے اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے،آج میں ان کے مشابہ کوئی نہیں دیکھ رہا۔وہ لوگ صبح کو اٹھتے تو پراگندہ حال،غبار آلود اور زرد رنگ ہوتے اور رات کے وقت سجدہ و قیام میں ہوتے اور اللہ کی کتاب کی تلاوت فرماتے،کبھی کھڑے ہیں تو کبھی پیشانی کے بل سجدہ میں گرے ہیں۔بوقتِ ذکر الٰہی اس طرح جھک جاتے جس طرح ہوا سے پودا جھک جاتا ہے اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتیں حتی کہ کپڑے نم آلود ہو جاتے۔[3] سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں ایک دن بھی زندہ رہنا پسند نہ کرتا۔دوپہر کے وقت اللہ کے لیے پیاسا ہونا،آدھی رات کے وقت اس کے لیے سجدہ کرنا اور ایسے لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنا جو صاف ستھرے کلام کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے اچھے پھل پسند کیے جاتے ہیں۔[4] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھ سکنے پر اپنے نفس کو عتاب کیا اور اس کی پاداش میں دو لاکھ مالیت درہم کی زمین صدقے میں دے دی۔[5] سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر عشاء کی نماز باجماعت رہ جاتی تو رات کا اکثرحصہ عبادت میں گزار دیتے۔[1] سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:اللہ ان لوگوں پر رحم کرے جنھیں لوگ مریض سمجھتے ہیں،حالانکہ وہ بیمار نہیں۔[2] یہ چندمجاہدئہ نفس کے متعلقہ آثار تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’(خَیْرُ النَّاسِ)مَنْ طَالَ عُمْرُہُ وَ حَسُنَ عَمَلُہُ‘ ’’(انسانوں میں سب سے اچھا وہ ہے)جس کی عمر لمبی اور عمل اچھے ہوں۔‘‘ [3]