آداب و حقوق
نفس کے حقوق و آداب
مسلمان ایمان و یقین رکھتا ہے کہ دنیا و آخرت کی سعادت اپنے نفس کی تادیب،اصلاح،تزکیہ اور تطہیرکرنے میں ہے اور شقاوت و بدبختی یہ ہے کہ نفس میں خرابی،میل اور خباثت و نجاست بھر جائے۔درج ذیل آیاتِ مبارکہ اس پر دلالت کناں ہیں،ارشادِ باری ہے:﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا﴿٩﴾وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا﴾’’یقینا جس نے(اپنے)نفس کو پاک رکھا،وہ کامیاب ہوگیا(مراد کو پہنچا)اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا،وہ خسارے میں رہا۔‘‘[1] ارشادِ الٰہی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ﴿٤٠﴾لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴿٤١﴾وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾’’بے شک جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے تکبر کرتے ہیں،ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے،یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے اور اسی طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں۔ان کے لیے(نیچے آتشِ)جہنم کا بچھونا ہو گا اور اوپر سے اوڑھنا بھی(اسی کا)اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتے۔یہی لوگ جنت والے ہیں(اور)اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘[2]
ارشادِ عالی ہے:﴿وَالْعَصْرِ﴿١﴾إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴿٢﴾إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
’’قسم ہے زمانہ کی!بے شک انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ(خسارے میں نہیں)جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کرتے رہے اور آپس میں حق کی وصیت(تلقین)اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔‘‘ [3]
اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا:’کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبٰی،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللّٰہِ!وَ مَنْ یَّأْبٰی؟ قَال:مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّۃَ،وَ مَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبٰی‘
’’میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)(جنت میں جانے سے)کون انکار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’جس نے میری اطاعت کرلی،وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا اس نے انکار کیا۔‘‘ [1]
نیز فرمایا:((کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَّفْسَہُ فَمُعْتِقُہَا أَوْ مُوبِقُہَا))
’’لوگوں میں سے ہر کوئی صبح کے وقت نکل کر اپنی جان کا سودا کرتا ہے،کوئی تو اسے(جہنم سے)آزاد کراتا ہے اور کوئی اسے تباہ و بربادکرتا ہے۔‘‘ [2]
ہر مسلمان اس بات پر یقین کرتا ہے کہ نفس کی تطہیر و پاکیزگی ایمان اور عمل صالح سے ہوتی ہے جبکہ اس کی پلیدی،خرابی اور فساد،کفر اور گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾
’’اور دن کے اطراف اور رات کے حصوں میں نماز قائم کریں،بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ [3]
فرمانِ ربانی ہے:﴿كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾’’ہر گز نہیں!بلکہ ان کے کیے ہوئے کاموں کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔‘‘ [4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ فِي قَلْبِہِ،فَإِنْ تَابَ وَ نََزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُہُ‘
’’بے شک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ بن جاتا ہے اگر وہ توبہ کرے،اس(گناہ)سے باز آ جائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل شفاف ہو جاتا ہے اور اگر گناہ میں بڑھتا رہے تو سیاہ دھبہ اس کے دل پر حاوی ہو جاتا ہے۔‘‘[5] یہ وہی ران(زنگ)ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں تذکرہ فرمایا ہے:﴿كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾’’ہر گزنہیں!بلکہ ان کے کیے ہوئے کاموں کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیاہے۔‘‘ [6]
اور فرمانِ نبوی ہے:((اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ،وَ أَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُہَا وَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ))
’’توجہاں کہیں بھی ہے اللہ سے ڈر اور برائی کے بعد نیکی کر،یہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤ کر۔‘‘[1]
انھی وجوہات کی بنا پر مسلمان ہر وقت اپنے آپ کو ادب سکھانے،نفس کو پاک کرنے اور اس کی تطہیر کرنے میں لگا رہتا ہے کہ سب سے اہم یہی کام ہے اور ایسے کاموں کی عادت ڈالتا ہے،جو اس کے گناہوں کی میل کو دھو ڈالیں اور ہرقسم کے گندے اور فاسد عقائد سے بچنے کی سعی کرتا رہتا ہے،ناجائز اقوال و افعال سے اجتناب ضروری گردانتا ہے،اس کا دن رات اسی مجاہدئہ نفس میں گزرتا ہے وہ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے۔نیک کاموں پر ہمیشگی کرنا اور برے کاموں سے خود کو دور رکھنا یہ اس کی پختہ عادت بن جاتی ہے۔وہ اصلاحِ ذات و تادیبِ نفس کے لیے درج ذیل طریقے اپناتا ہے: