فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
عقلی دلائل
1: تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہے کہ اگر بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو وہ جسم میں پھیل جاتی ہے اور پھر اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح برائی کو اگر ابتدا ہی میں ختم نہ کیا جائے اور اسے معاشرے میں پھیلنے دیا جائے اور چھوٹے بڑے اس کے عادی ہو جائیں تو پھر اسے مٹانا اور اس کا ازالہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بالآخر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے،یہ قانونِ الٰہی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيلًا﴾
’’(یہ)اللہ کا قانون ہے جو(پہلی قوموں میں)گزر چکا ہے،اور تو قانونِ الٰہی میں ہرگز تبدیلی نہ پائے گا۔‘‘[3]
2: یہ بھی مشاہدہ ہے کہ اگر کسی مکان کی صفائی نہ کی جائے اور اس میں سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر باہر نہ پھینکا جائے تو کچھ عرصہ بعد وہ جگہ رہائش کے قابل نہیں رہتی،اس کی ہوا متعفن اور زہر آلود ہو جاتی ہے اور اس میں وبائی جراثیم کی خوب پرورش ہوتی رہتی ہے کیونکہ میل کچیل اور غلاظتوں کی بہتات کا یہی لازمی نتیجہ ہے۔
اسی طرح اگر اسلامی معاشرے میں برائی کو پنپنے دیا جائے اور اچھائی کا پرچار معدوم ہو جائے توکچھ مدت بعد لوگ گندے اور شریر النفس بن جائیں گے۔اچھائی اور برائی کا امتیاز ختم ہو جائے گا اور پھر انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہو گا،بالآخر مختلف اسباب و ذرائع سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ انھیں تباہ و برباد کر دے گا۔ارشادِ باری ہے:
﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾’’بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘[1]
اور فرمایا:﴿وَاللّٰهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ﴾’’اور اللہ غالب ہے،انتقام لینے والا۔‘‘[2]
3: یہ بات بھی تجربے سے ثابت ہے کہ انسانی نفوس جب قبیح چیزوں کے عادی ہو جائیں تو وہ انھیں اچھی لگتی ہیں۔جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فرضِ لازم چھوڑ دیا جائے تو لوگ اچھے کام چھوڑ دیتے ہیں اور برے کام کرنے لگتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برائی عام ہوتی چلی جاتی ہے ایسے موقع پر انسانی عادت بشری تقاضوں کی وجہ سے اسے برائی نہیں سمجھتی بلکہ الٹا اسے اچھائی اور عمدہ بات سمجھ لیتی ہے۔یہی حالت بصیرت کا خاتمہ اور فکری ویرانی کہلاتی ہے۔(العیاذ باللہ)
اسی بنا پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو مسلمانوں پر لازم قرار دیا ہے کہ یہ دینی فریضہ محض انسانی معاشرے ہی کی پاکیزگی اور درستی کا باعث نہیں بلکہ اقوام و ملل کے عزوشرف کا محافظ بھی ہے۔