حدود کا بیان

تعزیر کا بیان

٭:تعزیر کی تعریف: ضرب(مار پیٹ)طعن وتشنیع،بائیکاٹ یا جلاوطنی کے انداز کی سزائیں تعزیر میں شامل ہیں۔ ٭ تعزیر کا حکم: جس نافرمانی کی سزا شریعت نے متعین نہیں کی اور نہ اس میں کفارہ ہے،اس میں تعزیری سزا واجب ہے جیسا کہ ہاتھ کاٹنے کے نصاب چوتھائی(1/4)دینار سے کم مالیت کی چوری یا کسی اجنبی عورت کو ہاتھ لگانا،اسے بوسہ دینا یا کسی مسلمان کو ایسی گالی دینا جس میں حد قذف نہیں ہے یا زخمی کرنے یا عضو توڑنے سے کم کسی کو مارنا وغیرہ۔ ٭ تعزیر کے احکام و مسائل: 1: تعزیر میں اگر مارا جا رہا ہے تو دس ضربات سے زیادہ نہ لگائی جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا یُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشْرَۃِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ‘’’اللہ کی حدود کے علاوہ امور میں کسی کو دس سے زیادہ کوڑے نہ لگائے جائیں۔‘‘[1] 2: عدالت مجاز تعزیری سزا کا فیصلہ اپنی صوابدید کے مطابق کرے،اگر نافرمان کو ڈانٹ اور زجر و توبیخ ہی کافی ہے تو اسی پر اکتفا کیا جائے،اگر ایک دن اور رات کے لیے قید کرنا مناسب ہے تو زیادہ سزا دینے کی ضرورت نہیں۔اگر معمولی جرمانہ اسے جرم سے باز رکھ سکتا ہے تو بھاری جرمانہ عائد نہ کیا جائے،اس لیے کہ تعزیر میں اصل مقصود مجرم کی اصلاح و تادیب ہے نہ کہ اسے عذاب دینا اور اس سے انتقام لینا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو محض اپنے اس فرمان سے تادیب کی تھی: ((إِنَّکَ امْرُؤٌ فِیکَ جَاھِلِیَّۃٌ))’’تو ایک ایسا مرد ہے جس میں جاہلیت ہے۔‘‘[2] اور فرمایا:((إِذَا رَأَیْتُمْ مَّنْ یَّبِیعُ أَوْیَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ،فَقُولُوا:لَا أَرْبَحَ اللّٰہُ تِجَارَتَکَ)) ’’جو شخص مسجد میں خریدوفروخت کرتا ہے،اسے کہو:اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے۔‘‘[3] اور جو مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرنے کے لیے اعلان کرے اس کو فرمایا:((لَا رَدَّھَا اللّٰہُ عَلَیْکَ،فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِھٰذَا)) ’’اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ کرے،اس لیے کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔‘‘[1] اور جیسا کہ آپ نے ان تین صحابہ کے بائیکاٹ کا حکم دیا جو بغیر کسی عذر کے غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور اسی پر اکتفا کیا۔[2] مخنثوں کو مدینہ سے نکال دیا،[3] اور ایک الزام میں ایک شخص کو دن،رات قید رکھا۔[4] نیز آپ نے کھجوریں لے جانے والے کو دگنے جرمانے کا فیصلہ دیا[5] اور اسی طرح کی دیگر تعزیری سزائیں جو آپ سے ثابت ہیں اور ان میں مقصود صرف مسلمان کی تادیب و تربیت تھی۔